مؤذنین کی تین روزہ تربیتی پروگرام کا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی کے بیان کے ساتھ اختتام


اسلام کے بنیادی ارکان میں توحید کے بعد سب سے بنیادی اور اہم رکن نماز ہے ، مسجد میں پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی دعوت دینے کا نام اذان ہے اور اس دعوت دینے والے کو ہی مؤذن کہتے ہیں ، جس کی فضیلت و اہمیت مختلف احادیث میں وارد ہوئی ہیں ، ابو داؤد اور ترمذی شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ ” آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے سات سالوں تک ایمان و احتساب کے ساتھ اذان دی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جہنم کی آگ سے برأت فرما دیں گے ،ان شاءاللہ تعالیٰ ، مؤذن روزانہ پانج وقت نماز کی دعوت اذان کے متعینہ کلمات کے ذریعے دیتا ہے جس کا صحیح مخارج کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے ، الفاظ کی صحیح ادائیگی اور خوبصورت آواز کے ساتھ جب اذان دی جائے گی تو اس اذان میں ہم ایک پر اثر کشش محسوس کریں گے ، مگر آج ہماری اکثر و بیشتر اذانیں” رہ گئیں رسمیں اذاں روح بلالی نہ رہی ” کا مصداق ہو کر رہ گئی ہیں ، اس تین روزہ تربیتی پروگرام کے ذریعے اس روش کو بدلنے کی جس کوشش کی ابتداء مدرسہ دارالقرآن اور اس کے ذمےداروں نے کی وہ بلا شبہ لائق تحسین ہے ، مذکورہ خیال کا اظہار مؤذنین کی تین روزہ تربیتی پروگرام کے اختتام پر مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی صاحب نے کیا ، مولانا قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآن و حدیث میں جس عمل کی بھی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے وہ بغیر اخلاص نیت اور قربانی کے قابل قبول نہیں ہے ، اذان بھی ایک مستقل دعوت و عمل ہے جس کی ادائیگی صحیح مخارج اور خوبصورت آواز کے ساتھ ہونی چاہئے ، جس طرح ایک امام کے لئے صحیح قرآت اور نماز کے مسائل سے متعلق واقفیت ضروری ہے ، اسی طرح ایک مؤذن کے لئے بھی اذان کے متعینہ کلمات کی خوبصورت آواز کے ساتھ ادائیگی اور اذان کے مسائل سے واقفیت ضروری ہے ، اس تربیتی پروگرام کا یہی مقصد ہے ، مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ مؤذنین کے اس تربیتی پروگرام کو مسلسل جاری رکھنا چاہئے اور اس کا دائرہ بھی دھیرے دھیرے وسیع کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس طرح کے تربیتی پروگرام سے ذیادہ سے ذیادہ مؤذنین مستفید ہو سکیں ،
واضح ہو کہ اس تین روزہ تربیتی پروگرام کا اہتمام ھند پیڑھی بڑی مسجد میں واقع مدرسہ دارالقرآن نے کیا تھا ، اس تربیتی پروگرام کو ترتیب دینے اور کامیاب بنانے میں مدرسہ دارالقرآن کے مہتمم حافظ زبیر احمد صاحب ، مولانا جاوید ندوی صاحب امام بڑی مسجد اور مولانا عمار قاسمی صاحب امام و خطیب مسجد عمر کا اہم کردار رہا ، اس تین روزہ تربیتی پروگرام کے آخری دن شہر رانچی اور مضافات سے مؤذنین شریک ہوئے ، پروگرام کا اختتام مدرسہ دارالقرآن کے مدرس قاری ادریس صاحب کی دعاء پر ہوا ،








