انجمن اسلامیہ رانچی کے سابق صدر ابرار احمد صاحب کی ہمہ گیر شخصیت و خدمات (مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی 7004951343)


اسلام میں اعلیٰ انسان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ معاشرے کے تمام لوگوں کے کام آئے ، وہ دوسروں کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر رکھے ، وہ دوسروں کی خوشی و غمی میں شریک رہے ، دوسروں کے درد و غم کو اپنا درد و غم سمجھے ، اسلام آدمی کے اس جذبہ کو آخری حد تک جگا دیتا ہے ، جو آدمی ان صفات میں جی رہا ہو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میری یہ زندگی صرف میری نہیں ہے بلکہ یہ زندگی محروم لوگوں کے کام آنے کے لئے ہے ، یہ جذبہ و احساس جب کسی آدمی کی زندگی میں اس طرح جگہ سما جاتا ہے تو اس کے اندر خدمت خلق کا عمومی جذبہ خود بخود پیدا ہو جاتا ہے ، وہ نہ صرف سائل کی ضرورت پوری کرنے کو اپنی ذمےداری سمجھتا ہے بلکہ اس کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ ہر محروم کا اس کے اوپر حق ہے ، ایسا آدمی سارے لوگوں کو اپنا سمجھنے لگتا ہے ، رانچی شہر میں ایسی ہی ایک حساس و بیدار مغز شخصیت کا نام جناب ابرار احمد ہے ، جنھیں عام طور پر لوگ” ابرار بھائی” کہتے ہیں ، ابرار احمد حاحب بنیادی طور پر رانچی شہر کے رہنے والے ہیں ، درمیانہ قد و قامت ، معتدل جسم ، گورا رنگ ، خوبصورت شکل و صورت ، آنکھوں میں چمک ، چہرے پر ہلکی داڑھی ، کرتہ پاجامہ میں ملبوس اور ہر ایک سے مسکراہٹ کے ساتھ ملنے والے ابرا احمد صاحب کی شخصیت بڑی دلکش اور پُرکشش شخصیت ہے ، ابرار احمد صاحب اپنے تمام بھائیوں میں سب سے الگ صفات و کمالات کے حامل ہیں ، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ جدید علوم و فنون کی بھی اچھی خاصی معلومات رکھتے ہیں ، تقریر و تحریر پر یکساں دسترس حاصل ہے ، اردو ، ہندی کے علاوہ انگریزی زبان و ادب میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت بہت اچھی ہے ، اعلیٰ حسب و نسب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی شخصیت کی تعمیر میں بہت زیادہ جدو جہد نہیں کرنی پڑتی ہے کیوں کہ ان کی ذات کے ساتھ ان کے آباء واجداد کے کارناموں کی روایت چسپاں رہتی ہے ، وہ نسلاً بعد نسل اپنے آباء واجداد کے کارناموں کی رائیلٹی کھا رہے ہوتے ہیں ، معاشرے میں لوگوں نے انھیں عقیدت و محبت کا بت بنا رکھا ہوتا ہے جس کی پرستش اور قدم بوسی میں ہی لوگوں کو دین و دنیا کی بھلائی نظر آتی ہے ، لیکن ابرار احمد صاحب جیسے لوگ زمین سے اٹھتے ہیں اور اپنی شخصیت کی تعمیر اپنے آباء واجداد کے کارناموں اور ان کی پشت پناہی کے بغیر اپنے کردار و عمل سے خود کرتے ہیں ، نہ اس کے پاس اعلیٰ حسب و نسب کی سند ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے آباء و اجداد کے کارناموں کو حوالے کے طور پر پیش کرتے ہیں ، انھیں زندگی کی مختلف آزمائشوں کے دور سے گزرنا پڑتا ہے ، مختلف النوع حالات کی تنگ وادیوں سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر کر معاشرے میں ابرار احمد صاحب جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ،
ابرار احمد صاحب کی زندگی کا ایک حصہ کمیونزم کے زیر اثر رہنے کی وجہ کر تشکیک کے دور سے بھی گزرا ہے ، جس سے وہ بعد میں مکمل طور پر نکل آئے اور حج کرنے کے بعد تو خالص ایمانی و اسلامی روح کے مطابق زندگی بسر کرنے لگے ، ابرار احمد صاحب کامرس کے باصلاحیت اور ذہین طالب علم رہے تھے ، اس لئے جلد ہی ان کی نوکری ” پنجاب اینڈ سندھ بینک” میں ہوگئی ، کچھ عرصے کے بعد دل و دماغ پر سماج کے لئے کچھ کر گزرنے کے جذبہ نے انھیں بینک کی ملازمت سے (قبل از ریٹائرمنٹ)وی ، آر ، ایس ، لینے پر مجبور کر دیا ، انھیں سماج میں پھیلی مختلف سماجی برائیوں کو دور کرنے کی تڑپ شروع سے تھی ، وہ انڈین پیپلز تھیئٹر ایسوسی ایشن (IPTA) کے کافی عرصے صدر رہے ، 1943 میں قائم یہ ملک کی خالص ایک ایسی تہذیبی و ثقافتی تنظیم ہے جو ہمیشہ
عوامی مسائل کو” رنگ منچ” کے زریعے اٹھاتی ہے ، ابرار احمد صاحب نے اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے” رنگ منچ ” کے زریعے ڈائن ، بساہی ، جہیز کی رسم ، بچپن کی شادی ، بیروزگاری ، معاشی ھجرت ، چھوا چھوت اور بدعقیدگی جیسی سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لئے شہری و دیہی علاقوں میں عوامی تحریک چلائی ہے اور لوگوں کو بیدار کیا ہے ، جس کا خاطر خواہ فائیدہ ہوا ہے ، ابرار احمد صاحب نے اس دور میں سماجی خدمات انجام دیا ہے جس دور میں آج کی طرح سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چھپنے چھپانے اور مفت میں شہرت و مقبولیت بٹورنے کا حرص و ہوس نہیں ہوتا تھا ،
ابرار احمد صاحب نے بڑی سادگی اور خلوص کے ساتھ سماجی خدمات انجام دیا ہے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ، ان کی سماجی خدمات کے جذبے اور ان کی علمی و فکری صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ہی شہر کے چند لوگوں نے انھیں انجمن اسلامیہ رانچی کے پلیٹ فارم سے سماجی خدمت انجام دینے کی گزارش کی ، جسے انھوں نے قبول کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ رانچی جیسی غیر سیاسی تنظیم کی سیاست میں قدم رکھا ، شہر کے چند لوگوں نے مل کر ایک ٹیم بنائی اور فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم انجمن اسلامیہ رانچی کا صاف ستھرا اور غیر جانبدارانہ انتخاب کرایا جائے ، ابرار احمد صاحب انجمن اسلامیہ رانچی کے صدر اور مختار احمد صاحب جنرل سکریٹری اور دوسرے کئی افراد مجلس عاملہ کے رکن منتخب ہوئے ، ابرار احمد صاحب کی صدارت اور مختار احمد صاحب کے سکریٹری شپ میں تین سال انجمن اسلامیہ رانچی اور اس کے ذیلی اداروں میں بہت کام ہوا ، دونوں کے اندر انجمن اسلامیہ رانچی کے پلیٹ فارم سے قوم و ملت کی خدمت کا ایک دھن سوار تھا ، ابرار احمد صاحب کے دور صدارت اور حاجی مختار احمد صاحب کی نظامت میں انجمن پلازہ بلڈنگ کی بالائی منزل میں مولانا آزاد اسٹڈی سینٹر قائم کیا گیا جس سے ہزاروں طلباء و طالبات مستفید ہوئے ، انجمن پلازہ مارکیٹ اور انجمن پلازہ ہال کی حالت کو پہلے سے بہتر کیا گیا ، انجمن اسلامیہ اسپتال کی حالت بہتر سے بہتر بنانے کیلئے ابرار احمد صاحب نے اپنی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کا خوب استعمال کیا ، دونوں نے مل کر انجمن اسلامیہ رانچی اور اس کے ذیلی اداروں کو ایک نئی شکل دی اور ہر لحاظ سے انجمن اسلامیہ رانچی دن بدن ترقی کی راہ میں آگے بڑھتا ہوا لوگوں کو نظر آنے لگا ، جس کی بنیاد پر دوسرے ٹرم کے لئے بھی انجن اسلامیہ رانچی کی مجلس منتظمہ نے جناب ابرار احمد صاحب کو دوبارہ صدر اور جناب مختار احمد صاحب کو جنرل سکریٹری منتخب کیا ، دونوں کی جوڑی رانچی کی عوام کو بہت پسند آئی ، دونوں نے آپسی اتحاد اور تال میل سے انجمن اسلامیہ رانچی کے فلاحی کاموں کو آگے بڑھایا ، دونوں نے انجمن اسلامیہ رانچی کے وقار کو بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، لیکن دو ٹرم کے بعد تیسرے ٹرم کے انتخاب سے قبل معلوم نہیں کس بد نظر کی بدنظری نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا ، دونوں کے ٹوٹنے سے پوری ٹیم ہی بکھراؤ کا شکار ہو کر رہ گئی ، انجمن اسلامیہ رانچی کے صدر کی حیثیت سے جناب ابرار احمد صاحب نے اپنے دور صدارت میں انجمن اسلامیہ اسپتال اور مولانا آزاد کالج پر خاص توجہ دی ، مولانا آزاد کالج کی اپنی کوئی زمین نہیں تھی جس کی وجہ کر کالج کی سرکاری حیثیت اور اس کے وجود کے خاتمے پر رانچی یونیورسٹی رانچی کی تلوار لٹک رہی تھی ، اس وقت صدر جناب ابرار احمد صاحب نے اپنے بلند حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مولانا آزاد کالج کے لئے یونیورسٹی گرانڈ کمیشن (UGC) کے اصول کے مطابق رانچی شہر کے اطراف میں پانچ ایکڑ زمین لینے کا فیصلہ کالج کی گورننگ باڈی میں لیا ، ان کے ذریعے لئے گئے فیصلے کے مطابق رانچی سے 25 کیلو میٹر دور راتو بلاک کے بانا پیڑھی میں مولانا آزاد کالج کے بلڈنگ فنڈ سے پانچ ایکڑ زمین خریدی گئی
، مولانا آزاد کالج کی زمین خرید کر اور اس کے ختم ہوتے وجود کو بچا کر ابرار احمد صاحب نے تاریخ رقم کیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ، مولانا آزاد کالج کے اساتذہ و ملازمین کی بحالی کے لئے قدم بڑھانا آگ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے ، اس کے باوجود جناب ابرار احمد صاحب نے اپنے دور صدارت میں پانچ اساتذہ کی مستقل بحالی اور دوسرے کئی استاتذہ و ملازمین کی عارضی بحالی کا فیصلہ لے کر اپنی بلند حوصلگی کا مظاہرہ کیا ہے ، کاش وہ حاشیہ برداروں کی رائے کو در کنار کر اساتذہ و ملازمین کے تمام خالی عہدوں کو پر کر دیتے ، انجمن اسلامیہ اسپتال کو بھی جناب ابرار احمد صاحب نے اپنے دور صدارت میں علاج و معالجے کے طریقہ کار اور تعمیر وترقی کے اعتبار سے جدید شکل دی ہے ، انجمن اسلامیہ رانچی کی صدارت سے اور بعد میں بھی ابرار احمد صاحب کی سماجی خدمات کا جذبہ و جنون کبھی ختم نہیں ہوا ، وہ کئی ایک غریب بچی کو گود لیتے ہیں ، اپنے گھر میں رکھتے ہیں ، تعلیم دلواتے ہیں اور بالغ ہو جانے کے بعد اپنے خرچ پر اور اپنی ذمداری میں پورے ساز وسامان کے ساتھ کسی اچھی جگہ شادی کر دیتے ہیں جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ، کئی لوگوں کو بڑی خاموشی کے ساتھ کاروبار میں مالی تعاون کرتے رہتے ہیں ، اپنے مختلف کاروبار میں کئی بیروزگار نوجوانوں کو لگائے رکھتے ہیں تاکہ ان کا بھی کچھ فائیدہ ہوتا رہے ، مولانا آزاد ہیمونیٹی ایسوسی ایشن (ماھی) کے تحت ہر سال سردیوں میں مدرسہ اور اسکول میں پڑھنے والے غریب بچوں کو جوتہ ، موزہ ، گرم سوئیٹر اور اسکول ڈریس تقسیم کرنا ابرار احمد صاحب کی عادت ثانیہ بن چکی ہے ، کرونا کے دور میں لاک ڈاؤن کے وقت بھی انھوں نے اپنے دور صدارت میں بہت فلاحی کام کیا ہے اور مختلف جہتوں سے لوگوں کے کام آئے ہیں ، ابرار احمد صاحب کی سماجی خدمات کی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ اس مضمون میں مکمل طور پر نہیں کیا جا سکتا ہے ، ” ساجھا منچ” کے پلیٹ فارم سے رانچی و اطراف میں ھندو مسلم اتحاد ، قومی و ملی یکجہتی اور آپسی بھائی چارگی کو قائم رکھنے اور اسے بڑھاوا دینے میں ابرار احمد صاحب ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں ، عالمی ، ملکی اور اسلامی تاریخ پر ان کا مطالعہ پر بہت وسیع ہے ، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی چھوٹی بڑی مجلس میں ان کی گفتگو بہت جامع اور پر اثر ہوتی ہے ، انھیں قوت گویائی اور دوسرے کو اپنی گفتگو سے قائل کر دینے کی صلاحیت قدرتی طور پر حاصل ہے ، کسی کی شخصیت کے اعتراف میں صرف ان کی خوبیوں کا ذکر کرنا اور خامیوں سے چشم پوشی کرنا مضمون نگاری کے اصول اور قاری کی نظر میں چاپلوسی سے کم نہیں ہے ؟ اس لئے جناب ابرار احمد صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ حاشیہ برداروں اور اپنے مفاد کی خاطر ہاں میں ہاں ملانے والوں کے خول سے باہر آکر اپنی قدرتی ذہانت اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ایک بار پھر عوامی خدمت کے میدان میں قدم رکھیں ، آج بھی لوگ آپ کو اور جناب حاجی مختار احمد صاحب کو انجمن اسلامیہ رانچی کے پلیٹ فارم سے فلاحی کاموں میں ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ، کاش اللہ تعالیٰ کا نام لے کر صدق دل سے اللہ کا کوئی بندہ آگے بڑھ کر ابرار احمد صاحب اور حاجی مختار احمد صاحب کے درمیان صلح کرادے اور اس راہ میں جتنے کانٹے ہوں اسے درکنار کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ رانچی کی عزت و وقار کو بلند کردے ، آپسی اختلاف و انتشار نے مولانا آزاد کے قائم کردہ انجمن اسلامیہ رانچی کی ایسی حالت کردی ہے کہ مولانا آزاد کی روح کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے کو دل چاہتا ہے کہ اے امام الھند مولانا ابوالکلام آزاد تو نے نصف صدی تک اپنوں کے طعنے سہہ کر اور رانچی کی چار سالہ قید و بند کی سختیاں جھیل کر انجمن اسلامیہ رانچی کے نام سے جو باغ لگایا تھا ، اس میں اب کانٹے ذیادہ ابھر آئے ہیں اور پھول اب کہیں کہیں رہ گئے ہیں ،








