جمعیت علماء جھارکھنڈ کاکولکاتا بھگدڑ سانحے پراظہار افسوس


شاہ عمیرنے حادثے کی صحیح جانچ کا مطالبہ کیا
رانچی: جمعیت علماء جھارکھنڈ نے مغربی بنگال کے شہر کولکاتا میں درگا پوجا پنڈال میں پیش آنے والے بھگدڑ کے المناک واقعے پراپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔اس حادثے میں کئی افراد کی جانیں چلی گئیں اورمتعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جمعیت علماء جھارکھنڈنے جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔
جمعیت علماء جھارکھنڈ کے جنرل سکریٹری الحاج شاہ عمیر نے میڈیا کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کولکاتا میں ہونے والی افسوس ناک بھگدڑ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ہماری دلی تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ کسی عوامی اجتماع میں بے گناہ افراد کی جانوں کا جانا انتہائی تشویش ناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس حادثے کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے ۔
حکام کی جواب دہی اورہجوم کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے الحاج شاہ عمیرنے کہا کہ حکام کو چاہیے کہ اس سانحے کے اسباب اور حالات کا پتہ لگانے کے لیے اعلیٰ سطحی اورشفاف تحقیقات کرائیں۔ تحقیقات کے نتائج محض سرکاری رپورٹوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان کی بنیاد پرٹھوس حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اور متعلقہ حکام کوعوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے ۔
وہیں جمعیت علماء جھارکھنڈ کے صدر حضرت مولانا عبدالقیوم قاسمی نے کہا کہ یہ بھگدڑ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ عوامی اجتماعات کے لیے محفوظ منصوبہ بندی، بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے مناسب انتظامات، ہنگامی حالات میں پولیس اورتقریب کے منتظمین کے درمیان مؤثر تال میل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ گنجائش سے زیادہ بھیڑ، خراب موسم ، افرتفری اور ناقص سکیورٹی انتظامات کسی عوامی اجتماع کو ایک بڑے سانحے میں بدل سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ جب بھی تہواروں، زیارتوں یا دیگر عوامی تقریبات کے لیے جمع ہوں، ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ منتظمین اور حکام کو لوگوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنا چاہیے، آنے جانے کے راستوں کو محفوظ بنانا چاہئے، مناسب تعداد میں اہلکاروں کی تعیناتی کرنی چاہئےاور ہنگامی حالات کے لیے بروقت انتظامات کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سلامتی پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
الحاج شاہ عمیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حادثے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو مناسب طبی علاج فراہم کیا جائے۔حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو معاوضہ اور ہر ممکن مدد دی جائے۔








