” لہو بولے گا ” کے بانی و سرپرست ندیم خان کی شخصیت و خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی)


معاشرے میں مذھبی ، سیاسی ، تعلیمی اور سماجی خدمت گاروں کے وجود سے ہی انسانیت زندہ رہتی ہے اور انسانی خدمت کا جذبہ بھی پروان چڑھتا رہتا ہے نیز انسانوں کے درمیان آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارگی قائم رہتی ہے ، انسانی معاشرے میں سب سے زیادہ اہمیت ہمیشہ سے ہی سماجی خدمت گاروں کی رہی ہے کیونکہ مذھبی ، سیاسی اور تعلیمی خدمت گاروں نے ہمیشہ عوام سے کچھ نہ کچھ حاصل کیا ہے اور عوام نے بھی ان کی خدمات کا اچھا خاصا معاوضہ اور بدلہ کسی نہ کسی صورت میں ادا کیا ہے لیکن سماجی خدمات انجام دینے والوں نے ہمیشہ اپنا وقت ، اپنی جان اور بعض اوقات اپنا مال خرچ کرکے سماجی خدمات کو انجام دیا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سماجی خدمات انجام دینے والوں کو ہمیشہ سربلندی و سرفرازی حاصل رہی ہے ، سماجی خدمات کا میدان بہت وسیع ہے ، سب سے بڑی انسانی اور سماجی خدمت ایک انسان کی جان بچانا اور اس کو ایک نئی زندگی بخشنا ہے ،

قرآن کریم کی سورہ نمبر 5 اور آیت نمبر 32 میں اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ” جس کسی نے کسی انسان کی جان بچائی تو اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی” اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں نئی نئی بیماریوں نے اپنے وجود سے انسانی جانوں کو خطرہ میں ڈال دیا ہے ، سب سے ذیادہ ضرورت خون عطیہ کرنے کی ہوتی ہے ، قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت سے بھی جاں بلب انسان کے لئے خون عطیہ کرنے کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنی کتاب”جدید فقہی مسائل ” میں بدرجہ مجبوری خون عطیہ کرنے ، ایک انسان کا خون دوسرے انسان کے بدن میں چڑھانے اور اعضاء کی پیوندکاری کو مختلف نامور علماء کے اقوال و آراء کے حوالے سے جائز قرار دیا ہے ، جب ایک بیمار انسان کو خون چڑھانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کے خاندان کے افراد بھی دائیں بائیں جھانکتے ہوئے نظر آتے ہیں ، ایسے میں تلاش ہوتی ہے خون عطیہ کرنے والے افراد کی یا اس ادارہ و تنظیم کی جو مختلف اوقات میں خون عطیہ کیمپ لگار کر بلا تفریق مذھب و ملت انسانی جانوں کو نئی زندگی بخشنے کا کام کرتے ہیں ، اس سماجی خدمت اور تحریک میں رانچی کے ” لہو بولے گا ” کے ندیم خان کا نام پورے جھارکھنڈ میں مشہور و معروف ہے ،

ندیم خان صاحب بنیادی طور پر رانچی شہر کے رہنے والے ہیں ، انھوں نے رانچی شہر سے 5 کیلو میٹر دور پنداگ بستی میں مستقل سکونت اختیار کرلیا ہے ، ان کے والد ایم ، زیڈ خان صاحب اردو زبان و ادب کے بہت بڑے شیدائی ہیں ، اردو زبان و ادب کی حفاظت اور اس کی ترویج و اشاعت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ، مختلف اوقات میں سیمینار اور سمپوزیم کے ذریعے اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، لہیم و شہیم جسامت ، معتدل قدوقامت ، گورا رنگ ، گول چہرہ ، پینٹ شرٹ اور کبھی کبھار خان ڈریس میں ملبوس چہرے پر مسکراہٹ لئے ہوئے ندیم خان کی شخصیت بڑی دلکش اور پُرکشش نظر آتی ہے ، بلند اخلاق و عادات کے حامل ندیم خان صاحب ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی سب کے نزدیک اپنی سماجی خدمات کی بنا پر یکساں طور پر مشہور و مقبول ہیں ، انھوں نے اپنی زندگی میں کئی ایسے دردناک واقعات دیکھے جہاں ایک بیمار کو اس کی زندگی کے آخری لمحات میں خون کی ضرورت تھی اور کوئی خون دینے والا نہیں تھا

،ایسے کئی موقعوں پر ندیم خان صاحب نے بذات خود اپنا خون دے کر زندگی سے نا امید کئی بیماروں کی جان بچائی ہے ، یہیں سے ان کے اندر خون عطیہ کیمپ لگانے کا داعیہ پیدا ہوا اور انھوں اپنے دوست و احباب کے تعاون اور ان کے اشتراک سے ” لہو بولے گا ” کے نام سے ایک تنظیم غالباً 2018ء میں قائم کیا ، جس کا واحد مقصد مختلف اوقات میں مختلف علاقوں میں خون عطیہ کیمپ لگانا اور اس کے لئے لوگوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ خون عطیہ نہ کرنے کی وجہ سے کسی کی جان نہ چلی جائے ، ان کی اس تحریک میں ان سے سچی محبت کرنے والے دوست و احباب نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور وہ سب ان کی تحریک کا حصہ بن گئے ، جس میں وہ پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں ، خون عطیہ کرنے کا جو کام ندیم خان صاحب نے تنہا شروع کیا تھا ، اس سے متاثر ہو کر لوگ اس بڑی سماجی خدمت میں ان کے ساتھ جڑتے چلے گئے اور آگے چل کر خون عطیہ کرنے کی تحریک نے ” لہو بولے گا ” کی شکل اختیار کر لی ، گویا٫
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اس کے بعد تو خون عطیہ کیمپ لگانے اور مختلف بیماریوں سے متاثر لوگوں کو شہر کے مشہور و معروف اسپتالوں کے ذریعے خون عطیہ کرنے کا ندیم خان صاحب کے اندر جنون سوار ہو گیا ، جناب ندیم خان صاحب نے مہلک بیماری” کرونا ” کے دور میں ” لہو بولے گا ” کی پوری ٹیم کے ذریعے لوگوں کے بیچ بڑا کام کیا ہے ، اس دور میں بھی جب کبھی اور جہاں کہیں کسی انسان کو خون کی ضرورت پڑی ہے تو ندیم خان صاحب نے اپنی ٹیم کے ذریعے خون عطیہ کرنے کی اپنی انسانی ذمداری کو بخوبی نبھایا ہے اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے ،

جناب ندیم خان صاحب نے ” لہو بولے گا ” کے پلیٹ فارم سے شہر اور بیرون شہر مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر خون عطیہ کیمپ لگانے کا کام بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ” لہو بولے گا ” کے پلیٹ فارم سے خون عطیہ کیمپ لگایا گیا تو لوگوں نے پورے جوش خروش کے ساتھ خون عطیہ کرنے کے جذبے کو عملی طور پر زندہ کیا ہے ، پہلے لوگ خون عطیہ کرنے کے عمل سے بھاگتے تھے ، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ خون عطیہ کرنے سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ، ” لہو بولے گا ” کے توسط سے جناب ندیم خان اور ان کی پوری ٹیم نے خون عطیہ کرنے کی تحریک کو زندہ کیا ہے اور لوگوں کو اس کے تئیں بیدار کیا ہے ، میں ( ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی) نے خود ندیم خان کی تحریک” لہو بولے گا ” سے متاثر ہو کر اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کے چار جمعہ کو ” شہداء کربلا ” کے نام اقراء مسجد مین روڈ رانچی کے سامنے خون عطیہ کیمپ لگوایا تھا ، جمعہ کی تقریر میں لوگوں کو اس کی ترغیب دی تھی جس کے نتیجے میں جمعہ نماز کے بعد کافی تعداد میں لوگوں نے خون عطیہ کیمپ میں آکر اپنا خون دیا تھا ، جناب ندیم خان صاحب نے اب تک سینکڑوں مقامات پر مجاہدین آزادی ، نامور علماء کرام ، سماجی خدمت گاروں، دانشورانِ قوم و ملت اور جھارکھنڈ آندولن کاریوں کے نام خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا ہے جس سے ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو فائیدہ پہنچا اور پہنچ رہا ہے ، لوگوں کو خون عطیہ کرنے کی ترغیب دینے اور خون عطیہ کیمپ لگانے کے لئے” لہو بولے گا ” اتنا مشہور و معروف اور مقبول عام ہوچکا ہے کہ جہاں کہیں کسی بیمار کو خون کی ضروت ہوتی ہے تو لوگ اب اپنوں کو چھوڑ کر فوراً ” لہو بولے گا ” کے بانی و سرپرست جناب ندیم خان صاحب سے رابطہ کرتے ہیں اور ندیم خان صاحب ہیں کہ فوراً جس گروپ کا بھی خون کی ضرورت ہو مہیا کرا دیتے ہیں ، خوشی کی بات تو یہ ہے کہ مختلف ہیلتھ سوسائٹیوں نے بھی ” لہو بولے گا ” کے نام اور کام سے متاثر ہوکر ندیم خان صاحب اور ان کی پوری ٹیم سے رابطہ کر کے مشترکہ طور خون عطیہ کیمپ لگانے شروع کردئے ہیں جو” لہو بولے گا ” کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت اور پہچان ہے ، ندیم خان صاحب کے خون عطیہ کیمپ لگانے ، خون عطیہ کی تحریک کو عام کرنے ، اس کے لئے لوگوں کو مساجد کے ممبر و محراب سے بیدار کرنے نیز اس سلسلے میں ان کی مختلف خدمات کے اعتراف میں درجنوں سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں نے انھیں اعزاز اور توصیفی سند سے نوازا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ،
گزشتہ 11/ نومبر 2025 کو مولانا آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر بھی ہائیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی آف انجمن اسلامیہ رانچی نے مولانا آزاد کالج ہال میں ” مولانا آزاد ایوارڈ” سے نوازا ہے ، خون عطیہ کیمپ لگانے اور خون عطیہ کرنے کی تحریک کو عام کرنے اور اس کے لئے لوگوں کو بیدار کرنے میں جناب ندیم خان اب ایک فرد کا نام نہیں رہا بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک ادارہ ایک تنظیم اور ایک انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں ، جناب ندیم خان صاحب خون عطیہ کیمپ لگانے اور خون عطیہ کرنے کی تحریک کو عام کرنے میں ہی اپنے آپ محدود نہیں رکھتے بلکہ مختلف سماجی خدمات میں پورے طور پر لگے رہتے ہیں ،
ان کی انھیں خوبیوں اور صلاحیتوں کی بناء پر ضلع انتظامیہ میں بھی ان کی اچھی خاصی گرفت اور اثر و رسوخ حاصل ہے ، ایسے ہونہار اور باصلاحیت نوجوانوں کو ہمارا معاشرہ اپنے اداروں ، تنظیموں اور انجمنوں کے اعلیٰ عہدوں پر نہیں بٹھاتا ، انھیں معاشرے کا قیمتی سرمایہ نہیں سمجھا جاتا ، جبکہ دوسری قوموں میں معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ادارے روز بروز ترقی کے بجائے تنزلی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہے ،
ندیم خان مختلف بار سمانت ہوئے
7 بار رانچی ضلع صدر اسپتال کے ذریعہ سمانت ہوئے،2بارریمس کے ذریعہ سمانت ہوئے،2بار جھارکھنڈ اقلیتی کمیشن کے ذریعہ سمانت ہوئے،2بار آدیواسی سماج کے ذریعہ سمانت ہوئے، 1 بار چرچ کے ذریعہ سمانت ہوئے، 1بار اولڈ بائز یونین جھارکھنڈ کے ذریعہ سمانت ہوئے،2بار سیوا سدن اسپتال کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار سونت فائونڈیشن کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار انجمن اسلامیہ اسپتال رانچی کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار مولانا اذاد کالج کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار ہندی روز نامہ اخبار کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار جھارکھنڈ رکتدان سنگٹھن کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار حقوق انسانی کے ذریعہ سمانت ہوئے،1بار جھارکھنڈ ریاستی کانگریس پارٹی کے ذریعہ سمانت ہوئے۔اس کے علاوہ اور بھی ہیں۔








