علامہ ڈاکٹرطیب علی رضامصباحی کی والدہ کاوصال بہت ہی صبرآزما


نمازجنازہ میں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے نمائندہ وفد نے شرکت کی۔
رانچی:- دفترادارہ شرعیہ جھارکھنڈ الجامعۃ القادریہ اسلامی مرکز رانچی کے مجریہ میں کہاگیاہے کہ گہرے رنج وغم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ معروف عالم دین حضرت علامہ و مولانا ڈاکٹر طیب علی رضا مصباحی، سینئر استاذ جامعہ فاروقیہ بنارس،آبائی وطن منڈئی کلاں ہزاریباغ کی والدہ ماجدہ 73 سال کی عمر شریف میں گزشتہ شب اس دار فانی سے کوچ کرگئیں اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ جانکاہ خبر سن کر فضا سوگوار ہوگئی اور دل مضطرب ہوا۔بلا شبہ یہ ایک بڑا حادثہ ہے۔ ماں جیسی عظیم ہستی کی جدائی زندگی کے بڑے صدمات میں سے ایک ہے۔ماں محبت و شفقت کا وہ سرچشمہ ہوتی ہے جس کی آغوش میں حیات انسانی نشو ونما کے منازل طے کرتی ہے، جس کی دعائیں اولاد کے لیے ڈھال اورمصائب وآلام کی دھوپ میں شجر سایہ دار بن جاتی ہیں، اور جس کی شفقت،زندگی کے نشیب و فراز میں حوصلہ بخش اور باعث سکون ہوتی ہے۔ جب اسی پیکر رحمت سے انسان ہمیشہ کے لیےدور ہوجائے تو دل ایک ایسی ویرانی محسوس کرتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ مرحومہ ایک نیک سیرت، باکردار اور پاک طینت خاتون تھیں۔ ان کی پاکیزہ تربیت اور دعاے سحر گاہی کا فیض ہے کہ ان کےلائق وفائق فرزند حضرت علامہ ڈاکٹر طیب علی رضا مصباحی آج علم دین کی خدمت میں مصروف اور اہل علم کے درمیان عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھے جاتےہیں۔ ایک باوقار عالم دین کی تربیت،خود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مرحومہ کی زندگی تقویٰ، اور اعلیٰ اخلاق وکردار سے مزین رہی ہوگی۔
اس اندوہناک سانحہ پر ادارہ شرعیہ کے تمام ارباب حل وعقد:قاضیان،مفتیان کرام، علما،مشائخ اور دیگر وابستگان نیز جامعہ فاروقیہ بنارس کے اساتذۂ کرام، طلبہ اور منتظمین گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مولانا ڈاکٹر طیب علی رضا مصباحی اور ان کے تمام اہل خانہ کی خدمت میں دلی تعزیت اور مخلصانہ ہمدردی پیش کرتے ہیں۔عابدہ زاہدہ عفورالنساء مرحومہ کے وصال پر مرکزرہ ادارہ شرعیہ پٹنہ کے صدر سابق ممبرآف پارلیمنٹ غازئ ملت علامہ غلام رسول بلیاوی چیئرمین بہاراسٹیٹ اقلیتی کمیشن، ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے چیف قاضی مولانامفتی عابدحسین مصباحی، نائبین مولانامفتی انورنظامی مصباحی، مولانامفتی اعجازحسین مصباحی، مولانامفتی فیض اللہ مصباحی، مولانامحمدقطب الدین رضوی،قاری محمدایوب رضوی، مولاناڈاکٹرتاج الدین رضوی وغیر نے تعزیت پیش کی ہے، ادارہ شرعیہ جھارکھنڈاس مصیبت کی گھڑی میں اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ اہل خانہ کے سبھی افرادکو صبر جمیل اور اجرعظیم عطا فرمائے۔ مرحومہ پر رحمت وغفران کی بارش فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کی قبر کو نور و سرور سے بھر دے۔واضح ہوکہ مرحومہ عفورالنساء مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ کے مرکزی نائب قاضئ شریعت مولانامفتی غلام حسین ثقافی کی نانی تھیں جو مفتی صاحب قبلہ کو بہت مانتی تھیں،ثقافی صاحب قبلہ بنفس نفیس موجودتھے،
مرحومہ کی نمازجنازہ بعدنماز ظہرمنڈئی کلاں ہزاریباغ میں اداکی گئ اورجسدخاکی منڈئی قبرستان میں سپردخاک کیاگیا، نمازجنازہ علامہ ڈاکٹرطیب علی رضامصباحی نے پڑھائی۔ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے ناظم اعلی مولانامحمدقطب الدین رضوی کی قیادت میں ادارہ شرعیہ کاایک نمائندہ وفد شریک جنازہ ہواجن میں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے قاضی مولانامفتی محمدفیض اللہ مصباحی، مولانامفتی محمدوسیم رضا، قاری مجیب الرحمن،مناظرحسن، شہادت حسین،الحاج نسیم الدین شامل ہیں۔مولانامحمدقطب الدین رضوی نے کہاکہ کسی بھی اولادکے لیے ماں کاوصال بہت ہی صبرآزماگھڑی ہے، مفتی فیض اللہ مصباحی نے کہاکہ ماں کے قدموں کے نیچےجنت ہے، آج یہ گھرماں کے بغیرسوناہوگیا، ادارہ شرعیہ کے وفد نے بعدتجہیزوتدفین اہل خانہ سے ملکرتعزیت پیش کیااور صبروشکر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مصیبت کے وقت صبر وشکر ہی شان بندگی ہے۔ مالک حقیقی نے دی ہوئی نعمت واپس لے لی تو اس میں جزع وفزع اور بے صبری کا مظاہرہ ہرگز روا نہیں ہے۔الله تعالیٰ نے جو دیا اور جو لیا وہ سب اسی کا ہے۔جسے اس نے زندگی کی سوغات بخشی ہے اسے یقینا ایک دن لقمہ تربنناہے۔سب کا وقت مقرر ہے۔سبھی کو آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا چاہیے۔
للّٰه ما اخذ واعطىٰ و كل شىئ عنده باجل مسمّٰى
إن العين تدمع والقلب يحزن، ولا نقول إلا ما يرضی ربنا۔








