رانچی میں آل انڈیا تحریک پیامِ انسانیت فورم کی اہم مشاورتی نشست، تنظیمی استحکام اور خدمتِ خلق کے لیے اہم فیصلے


رانچی، 3 ستمبر:
آل انڈیا پیامِ انسانیت فورم کے زیرِ اہتمام مسجد زیب النساء، پتھل کدوا، آزاد بستی، رانچی، جھارکھنڈ میں ایک اہم مشاورتی نشست زیر صدارت مولانا عبدالحکیم ندوی منعقد ہوئی،جس کی نظامت مولانا زاہد صاحب ندوی نے فرمائی۔جس میں رانچی ضلع کے قرب و جوار کے بے شمار علماء کرام اور پوری ریاست جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع سے علماء کی نمائندگی رہی۔پروگرام کا آغاز قاری حسان صاحب ندوی کی تلاوت کلام پاک کے ذریعے سے ہوا۔ مولانا دانش عبداللہ ندوی صاحب نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اس مشاورتی نشست کے مقاصد کو سامنے رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ ارشاد کے مطابق بیان فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے نفع رسانی کے کام آتا ہو۔ مزید فرمایا کہ آئیے! ہم نفرت کے مقابلے میں محبت کو کھڑا کریں۔ہم مایوسی کے مقابلے میں امید کو کھڑا کریں۔ہم تعصب کے مقابلے میں انسانیت کو کھڑا کریں۔ہم شکایت کرنے کے بجائے کردار ادا کریں۔

مولانا مفتی طلحہ ندوی صاحب نے پیام انسانیت کا کام دینی اداروں کی تحفظ و بقا کا ذریعہ کے عنوان پر یہ بات کی اور حضرت مولانا علی میاں نبوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کام تمام دینی اداروں،مساجد اور مدارس اور کے لیے حصار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح سے مولانا عبدالحکیم صاحب ندوی دامت برکاتہم نے گفتگو کرتے ہوئے پیام انسانیت کی اہمیت پر زور دیا اور اس کام کی نوعیت کو لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کیا۔

اس کے بعد مولانا زاہد صاحب ندوی نے پیام انسانیت کے اصل مقصد کو بیان کیا اور ریاستی سطح پر تنظیمی ڈھانچہ کس طرح سے تیار کیا جائے اس کا مکمل خاکہ حضرت مولانا کے حوالے سے پیش کیا۔ نشست میں پیام انسانیت فورم کی سرگرمیوں کو ریاستی اور ضلعی سطح پر مزید منظم و مستحکم بنانےکے حوالے سےتفصیلی مشاورت کی گئی۔
واضح رہے کہ آل انڈیا پیامِ انسانیت فورم کے جنرل سیکریٹری حضرت مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی دامت برکاتہم نے حیدرآباد میں منعقدہ تنظیمی اجلاس میں جھارکھنڈ کی ریاستی سطح کی ذمہ داریوں کے لیے اہم نامزدگیاں کی تھیں۔ جھارکھنڈ کے ریاستی سرپرست کے طور پر مولانا عبدالحکیم ندوی صاحب کو جبکہ ریاستی کنوینر کے طور پر مولانا محمد زاہد حسین ندوی صاحب کو نامزد کیا گیا ہے۔اور اس سے قبل کی ایک آن لائن میٹنگ میں پوری ریاست سے 12 اراکین شوریٰ منتخب کۓ گۓ۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج رانچی میں منعقدہ مشاورتی نشست میں رانچی ضلع کے کوآرڈینیٹر کے طور پر مولانا دانش عبداللہ ندوی صاحب کا انتخاب عمل میں آیا ۔
نشست میں فورم کےتنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے مرکز کی ہدایت پر یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ہر ضلع سے ایک کوآرڈینیٹر مقرر کیا جائے گا۔ جو 12 افراد پر مشتمل ایک شوریٰ تشکیل دے گا،اور وہ اپنے ضلع کی کارگذاری صوبائی اراکین شوریٰ کے سامنے پیش کرے گا اور پھر صوبائی کنوینر اس کو مرکز میں پیش کرے گا۔
شرکائے نشست نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں انسانیت کی خدمت، ضرورت مندوں کی مدد اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان محبت و اخوت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور پیامِ انسانیت کے کام کو محض جلسوں اور نشستوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی خدمت کے میدان میں لے جانے کی ضرورت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔
نشست میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ ہر ماہ کم از کم ایک عملی خدمت کا کام( Activity)بہرحال انجام دیا جائے گا، تاکہ فورم کا پیغام معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچ سکے۔
شرکائے نشست نے عزم کیا کہ جھارکھنڈ میں آل انڈیا پیامِ انسانیت فورم کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں وسعت دی جائے گی اور امن، بھائی چارہ، خیرخواہی، سماجی تعاون اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو عام کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔
آج کی اس مشاورتی نشست میں بڑی تعداد میں علماء کرام اور سماجی کارکنان شریک رہے۔
امام مسجد زیب النساء مولانا صادق تحسین ندوی اور ان کی پوری ٹیم نے نشست کے انتظام انصرام میں بھرپور حصہ لیا
اور مولانا مفتی سلمان قاسمی صاحب کے تاثراتی کلمات اور دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔








