All India NewsBlogJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

ہماری خود غرضی ، مفاد پرستی اور بے حسی نے ہمیں کہاں پہنچا دیا ؟ (مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی)

Share the post

آج ہمارے معاشرے میں مادی اعتبار سے کسی چیز کی کمی نہیں ہے ، اگر کمی ہے تو اسلامی اقدار کے پاسداری کی ، جس کے نتیجے میں آج ہمارا پورا معاشرہ بگاڑ اور ناہمواری کا شکار ہے ، ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذات سے لے کر متعلقین ، خاندان اور پورے معاشرے سے ایک ایک سماجی برائی اور خرابی کو دور کرنے کی کوشش کرے ، بلا شبہ ہمارے اسلاف و اکابر نے اس فریضہ سے کبھی غفلت نہیں برتی ، چنانچہ ہر دور کے اکابر علماء اور اہل قلوب نے اس میدان میں حتی الامکان بھر پور سعی و کوشش کی ہے، جس کی ایک لمبی تاریخ ہے ، لیکن موجودہ دور کے اکابر علماء ، اہل قلوب اور دانشوروں کی بے اعتنائی اور بے توجہی ہمیں حیران و پریشاں کر دیتی ہے ، وہ رسمی طور پر سال میں ایک دو بار قومی یک جہتی ، ملک بچاؤ دستور بچاؤ اور تحفظ شریعت کے عنوان سے بڑی بڑی کانفرنسیں کر کے اور عوام کی بھیڑ جمع کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں ، انھیں لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی تنظیم اور اداروں کا جن پر وہ موروثی طور پر نسلا بعد نسل قبضہ جمائے بیٹھے ہیں تحفظ کا سامان فراہم کردیا ، یہ ان کی خام خیالی ہے ، ظالم حکومت اور فرقہ پرست قوتیں اسی وقت تک ان کے ساتھ ہیں جب تک وہ ان کے اشارے پر ناچ رہے ہیں اور قوم کو جبہ و دستار کی آڑ میں بیوقوف بنا رہے ہیں ، جس دن ظالم حکومت اور فرقہ پرست قوتوں نے چشم پوشی سے کام لینا بند دیا تو اہل جبہ و دستار بھی ظلم و ستم کی چکی میں پسنے سے اپنے آپ کو بچا نہیں پائیں گے ، ماضی قریب میں ہم اس کی مثالیں دیکھ چکے ہیں ، مولانا انظر شاہ قاسمی بنگلوری ، مولانا کلیم صدیقی، مولانا سلمان اظہری اور مولانا توقیر رضا خان بریلوی صاحب کے ساتھ کیا ہوا ؟ ان کا قصور کیا تھا ؟ کیا انھوں نے ملک سے غداری کا جرم کیا تھا ؟ تو پھر ان کی حمایت میں موجودہ اکابر علماء ، اہل قلوب اور دانشورانِ قوم و ملت نے آواز بلند کیوں نہیں کیا ؟ انھوں نے اپنی بڑی بڑی ان تنظیموں اور اداروں سے جن کے وہ مالک اور پوپ بنے بیٹھے ہیں پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرہ کیوں نہیں کیا ؟ ہمارے موجودہ اکابر علماء ، اہل قلوب اور دانشورانِ قوم و ملت کی اس بے اعتنائی کا سبب اس کے سواء اور کیا ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اپنے اور اپنی تنظیموں اور اداروں کے تحفظ اور بقاء کی خاطر چشم پوشی کو ہی حیلہ شرعی کے طور پر اختیار کرلیا ہے ، اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوگا کہ کسی قوم کے عروج و ترقی کی رفتار تو دھیمی اور سست ہوتی ہے مگر اس کے زوال اور گراوٹ کی رفتار بڑی تیز ہوتی ہے ، کسی بلند و بالا عمارت پر چڑھنا کتنا مشکل ہوتا ہے ؟ لیکن اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر اس عمارت کے اوپر سے چھلانگ لگادے تو کتنی تیزی سے گرے گا ، بالکل یہی مثال قومی کے عروج و زوال کا ہے ، اگر کبھی بپھرے ہوئے سیلاب کا بند ٹوٹ جائے اور اس کا رخ کسی نشیبی علاقے کی طرف مڑ جائے تو وہ سیلاب کا دھارا پلک جھپکتے کی بھی مہلت نہیں دیتا اور پل بھر میں بستیوں کی بستیاں بہا لے جاتا ہے ، اسی طرح جب کسی قوم کی اخلاقیات کا بند ٹوٹتا ہے تو اس کی نفسیاتی خواہشات کا طوفان دین و دانش اور شرافت و انسانیت کی تمام قدروں کو بہا کر لے جاتا ہے ، ہر طرف تباہی و بربادی مچا دیتا ہے ، معاشرے کا امن و سکون چھن جاتا ہے اور خود غرضی و ہوسناکی اور ظلم و ستم کی کالی گھٹائیں ہر سو چھا جاتی ہیں ، پھر اس کے بعد وہ معاشرہ متمدن انسانوں کے بجائے وحشی درندوں میں تبدیل ہو جاتا ہے ، ہماری مسلم قوم صدیوں کی محنت و مجاہدہ کے بعد عروج و ترقی کی بلندیوں کو پہنچی اور ایسی پہنچی کہ آسمان کی رفعتیں اس کے سامنے ہیچ رہ گئیں ، انسان ہی نہیں بلکہ فرشتے بھی اس پر رشک کرتے تھے ، اس کے نظم و ضبط ، اتفاق و اتحاد اور الفت و محبت پر دنیا کی قومیں عش عش کرتی تھیں مگر کچھ عرصے سے اس پر غیروں کی تقلید کا جنونی دورہ پڑا اور خودکشی کے ارادے سے اس نے بلندیوں سے نیچے کی طرف چھلانگ لگانا شروع کردیا ہے ، اس کی اخلاقیات کا بند ٹوٹ رہا ہے ، معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا سیلاب جس تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کے انجام کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، کل تک جو چیزیں ایک مسلمان کے لئے قابل شرم اور موجب ننگ و عار تھیں آج ان پر فخر کیا جارہا ہے ، باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے نالاں ہے ، بھائی بھائی سے شاکی ہے ، دوست کو دوست پر بھروسہ نہیں ہے ، استاد کو شاگردوں سے شکایت ہے ، مزدور کو مالک سے رنج ہے ، عوام کو افسر شاہی سے گلہ ہے ، راعی اور رعایا کے درمیان سر پھٹول ہے ، پورا معاشرہ گویا ایک آتشکدہ ہے جس میں بڑا چھوٹا ، امیر، غریب ، راعی ، رعایا ، مالک اور مزدور سب جل رہے ہیں ، چوری ڈکیتی ، فحاشی ، بدکاری ، رشوت ، سفارش ، اسمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی ، زرطلبی ایسے سینکڑوں وحشی درندے سڑکوں پر عریاں ناچ رہے ہیں ، معاشرتی ناسور کے تعفن نے قوم کی ناک میں دم کر رکھا ہے ، نہ جان کی امان ، نہ عزت و آبرو کی حفاظت ، نہ عدل ، نہ انصاف ، نہ علم ، نہ عمل ، دین تباہ ، دنیا تباہ ، عقلیں مسخ ، شکلیں مسخ ، مزید افسوس یہ ہے کہ ہمارے موجودہ اکابر علماء ، اہل قلوب اور دانشوروں کو گراوٹ کا احساس نہیں ، وہ بس اپنے اور اپنی تنظیموں کے تحفظ اور اس کے وجود و بقاء کے لئے ہی کوشاں ہیں ، اس لئے انھیں احساس نہیں اور جنھیں احساس ہے انھیں اصلاح کی فکر نہیں ، جنھیں فکر ہے انھیں سلیقہ نہیں ، جنھیں سلیقہ ہے انھیں قدرت نہیں ، جھیں قدرت ہے انھیں فرست نہیں ، جنھیں فرست ہے انھیں توفیق نہیں ، طوفان خطرے کے نشان سے اوپر گزر رہا ہے مگر ہم میں اکثر و بیشتر حال مست تو کوئی قال مست کا مصداق بنے ہوئے ہیں ، ہمارے سامنے ہمارا گھر جل رہا ہے اور ہم بڑے اطمینان سے اس کے لٹنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ، ہم میں سے ہر ایک شخص اس خیال میں مگن ہے کہ یہ بستی اجڑتی ہے تو اجڑے ، میرا گھر محفوظ ہے ، قوم ڈوبتی ہے تو ڈوبے ، میں جودی پہاڑ پر کھڑا ہوں ، ملک و ملت کی چولیں ہلتی ہیں تو ہلیں ، میرا دھندہ چل رہا ہے ، نوجوانوں خدا کے لئے اٹھو اور اس ڈوبتی ہوئی قوم کو بچاؤ ، اپنے گھر میں لگی ہوئی اس آگ کو بجھاؤ ، یہ قوم جنوں کے دورہ میں اخلاقی خودکشی کر رہی ہے ، اس کا ہاتھ پکڑو ، قوم کی اخلاقیات کا بند ٹوٹ رہا ہے ، آؤ سب مل کر اس کی حفاظت کرو ، اس مقصد کے لئے کوئی بڑی سے بڑی قربانی اگر دینی پڑے تو قوم کو بچانے کے لئے دے ڈالو ،

Leave a Response