All India NewsBlogJharkhand NewsNewsRamgarh NewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand News

اردو ہندو اور مسلمان دونوں کی ہے۔۔۔خمار دہلوی

Share the post

نئی دہلی
گزشتہ شب ساہتیہ سدن، منگولپور خُرد، دہلی میں نیا سنکلپ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اردو اکادمی،دہلی کے تعاون سے ایک کُل ہند مشاعرہ منعقد کیا گیا۔صدارت بزرگ شاعر خُمار دہلوی نے کی۔معروف شاعرہ راشدہ باقی حیا مہمانِ خصوصی اور جھانسی سے مہمان شاعر جبار شارب اس موقع پر مہمانِ ذی وقار تھے۔مشاعرے کی نظامت حامد علی اختر نے کی جبکہ اعجاز انصاری اور رام شیام حسین مشاعرے کے کنوینر تھے۔
شروع میں مجلسِ استقبالیہ کے رکن اسلم بیتاب،ہُمادہلوی اور گُلبہار گُل کے ذریعے تمام مہمانوں کا استقبال گلپوشی سے کیا گیا۔اس موقع پر خمار دہلوی نے اپنے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا ک اس مشاعرے کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں غیر مسلم شعراء کی شرکت کثیر تعداد میں ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو ہندو اور مسلمان دونوں کی ہے۔

مہمان خصوصی نے کہا کہ مشاعرے عام طور سے پرانی دہلی کی فصیلوں، جامعہ نگر یا سلم پور وغیرہ کے علاقے میں منعقد ہوتے ہیں لیکن منگولپور کے علاقے میں اس کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے۔جبار شارب نے بھی اسطرح کے پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا۔مشاعرے کا افتتاح شمع روشن کرکے روایتی انداز میں عمل میں آیا۔


جن شعراےکرام نے اس مشاعرے اپنے کلام سے محظوظ فرمایا،ان کے اسمائے گرامی اسطرح ہیں:- خمار دہلوی،راشدہ باقی حیا،اعجاز انصاری، برہم بھاردواج حشمت،نعیم بدایونی،پرمود شرمااثر،جبار شارب،رام شیام حسین،ڈاکٹر سنجے جین،قاضی نجم السلام نجم،اسلم بیتاب،دلدار دہلوی،جاوید عباسی،ابراہیم علوی،ڈاکٹر شویتا سریواستو،احترام صدیقی،دیپیکا ولدیہ،گولڈی غضب،ڈاکٹر سیما وتس،گُلبہار گُل،ہما دہلوی،ہمانشو گپتا،پون سنگھ تومر،اور گُرمیت سنگھ مرجانا

Leave a Response