گھر کی تختیوں پر نام اردو میں لکھنے پر سرکار کی کوئی پابندی نہیں ہے۔۔۔اخترالواسع


گزشتہ شام دہلی کی ادبی و ثقافتی نمائندہ تنظیم نئی آواز آور کمپیوٹر انسٹی ٹیوشن آف انفارمیشن ٹیٹوریل سوسائٹی ٹرسٹ کے مشترکہ بینر تلے کُل ہند مشاعرہ بتعاون اردو اکادمی، دہلی بعنوان جشنِ شیدا امروہوی منعقد ہوا۔صدارت اسلم بنارسی نے کی۔دہلی پولس کے ڈپٹی کمشنر اور آئی پی ایس آفسر جیتندر منی ترپاٹھی مہمانِ خصوصی تھے۔افتتاح پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کیا۔نامور آرکیٹیکٹ ویویک سنگھ راؤ اور فیروز احمد صدیقی مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے تشریف لائے۔سبھی مہمانوں کا گلپوشی سے کنوینر اعجاز انصاری ور رام شیام حسین،اسلم بیتاب اور ہما دہلوی کے ذریعے استقبال کیا گیا۔پروفیسر اختر الواسع نے سے موقع پر اپنے کلمات ادا کرتے ہوئے کہ ہم اپنے گھروں کی تختی پر اردو میں نام کیوں نہیں لکھتے ہیں ؟ایسا کرنے کے لئے سرکار نے ہم پر کوئی پابندی نہیں لگا رکھی ہے۔جیتندر منی ترپاٹھی نے اس خوبصورت پروگرام کے انعقاد کے لئے اعجاز انصاری کو مبارکباد پیش کی۔اس موقع پرصاحبِ جشن اور بزرگ شاعر شیدا امروہوی کو شال اوڑھا کر لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور سند پیش کی گئی۔
مشاعرے سے قبل نئی آواز تنظیم کی جانب سے ملک کی نمائندہ شخصیات کو نمایاں خدمات کے لئے نئی آواز ایوارڈ پیش کئے گئے۔جن میں آرکیٹیکٹ ویویک سنگھ راؤ کو برائے قومی یکجہتی،اسلم بنارسی کو برائے اردو شاعری،شہنوازاحمدکوبرائے اوورسیز ریکورمینٹ، وسیم انصاری برائے سماجی خدمات، ڈاکٹر سید تنویر احمد برائے ڈینٹسٹری اور یو۔ ایم۔قریشی برائے سماجی و فلاحی خدمات۔ ایوارڈ شیلڈ،شال اور سرٹیفکیٹ پر مشتمل تھا۔اس کے علاؤہ تمام شعرائے کرام کو بھی نئی آواز کی جانب سے خوبصورت مومینٹو پیش کئے گئے۔
مشاعرے کی نظامت اعجاز انصاری نے جبکہ شروع کی نظامت حامد علی اختر نے کی۔خوشبو پروین نے سبھی ایوارڈیافتگان کا تعارف پیش کیا۔جن شعرائے کرام نے اپنے کلام سے محظوظ کیا انکے اسمائے گرامی اس طرح سے ہیں۔ متین امروہوی،خمار دہلوی،اسلم بنارسی(بنگلور)،عتیق دانش(سورت)،عبداللہ راز(دیوبند)،حامد علی اختر،اسلم بیتاب،مہدی رمن،مشفق بچھرایو ی،پنڈت پریم بریلوی،راشدہ باقی حیا،صباعزیز،خوشبو پروین،ڈاکٹر سنتوش کومل اور ہما دہلوی۔
آخر میں ایوارڈ کمیٹی،نئی آواز کے چیئرمین فیروز احمد صدیقی نے سبھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا۔مشاعرے میں بحثیت سامعین جن لوگوں کی شرکت رہی ان میں وارث صدیقی،عبدالحق،شکیل احمد،جاوید عباسی،نوید شیدا،غوثیہ انتخاب،شانِحسن ببلو،محمد زاہد اور انتخاب احمد کے نام خاص طور سے شامل ہیں۔








