انجمن اسلامیہ رانچی کے صدر حاجی مختار احمد صاحب کی ہمہ گیر شخصیت اور ان کی خدمات ( مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی) 7004951343 )


انسان خدا کی ایک ممتاز مخلوق ہے ، انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے تخلیق کا بہترین شاہکار ہے ، اس نے خدا کی عطاء کردہ تخلیقی صلاحیتوں سے فائیدہ اٹھا کر اپنے کردار و عمل سے اپنے آپ کو تمام مخلوقات سے ممتاز کرکے دنیا کو حیران و پریشاں کردیا ہے ، مگر اسلامی تعلیمات و احکامات کے مطابق ایک اچھا انسان اور ایک اچھا مسلمان وہ ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ثابت ہو ، وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بہترین اخلاق کا ثبوت دے ، اس کے اندر ذمداری کا احساس اس طرح جاگ جائے کہ وہ اپنی زبان سے کسی کا دل نہ دکھائے ، اس کے ہاتھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ، وہ دوسرے لوگوں کے بارے میں اپنے دل کو صاف رکھے ، اگر کسی کے بارے میں کوئی غلط بات کہی جائے تو محض سننے کی بنیاد پر ہرگز اس کو نہ مانے ، یا تو اس کو خوش گمانی پر محمول کرتے ہوئے اپنے ذہن سے نکال دے اور اگر کسی وجہ سے اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ضروری ہو تو پورے معاملے کی تحقیق کر لے ، مکمل تحقیق کے بغیر کوئی رائے نہ بنائے اور نہ اس کی بنیاد پر کوئی اقدام کرے ، وہ ہر اس عمل اور ہر اس روش کو چھوڑ دے جس میں بدخواہی کا کوئی پہلو پوشیدہ ہو ، گھر سے لے کر باہر تک اس کا کوئی بھی عمل اخلاق اور نیک نیتی کی روش سے ہٹا ہوا نہ ہو ، وہ دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو خود اپنے لئے پسند کرتا ہو ، دوسروں کے لئے خیرخواہی کا جذبہ اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ، وہ باتیں کم اور کام ذیادہ کرتا ہو ، وہ خاموش رہتا ہو مگر اس کی خاموشی کے اندر سمندر کی سی گہرائی و گیرائی ہو ایسی ہی صفات کے حامل ہیں انجمن اسلامیہ رانچی کے موجودہ صدر جناب حاجی مختار احمد صاحب ، حاجی مختار احمد صاحب بنیادی طور پر دھوبی گلی ہند پیڑھی رانچی کے رہنے والے اور رانچی شہر کے مشہور و معروف تاجر و سماجی خدمت گار حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم کے سب سے ہونہار اور قابل لڑکے ہیں ،
حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم کے تمام لڑکوں میں سماجی و فلاحی کاموں میں پیش پیش رہنے کی وجہ کر جو شہرت و مقبولیت حاجی مختار احمد صاحب کو ہے وہ کسی کو نہیں ہے ، لمبا قد و قامت ، سڈول جسم ، مناسب شکل و صورت ، گندمی رنگ ، چوڑی پیشانی ، چہرے پر ہلکی داڑھی ، شرٹ پینٹ میں ملبوس حاجی مختار احمد صاحب کی پرکشش شخصیت بحیثیت ایک کامیاب تاجر ، مشہور و معروف سماجی خدمت گار اور میں روڈ رانچی میں واقع ” کرتہ محل” سے رانچی ہی نہیں پورے جھارکھنڈ کے لوگ واقف ہیں ، تعلیمی اعتبار سے انھوں نے کامرس میں ایم ، اے ، اور وکالت میں ایل ، ایل ، بی ، کیا ہوا ہے ، ارود اور ھندی زبان کے علاوہ انگریزی زبان پر اچھی گرفت رکھتے ہیں اور انگریزی تحریر بھی ان کی ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہوتی ہے ، کسی بھی معاملے میں ان کی ڈرافٹنگ بہت ہی شاندار اور جاندار ہوتی ہے جس کا اعتراف ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں ، انھوں نے اپنے والد محترم جناب حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم کے دور سے ہی سماجی اور فلاحی کاموں سے دلچسپی لینا شروع کردیا تھا ، وہ اپنی نوجوانی کے ایام سے ہی سماجی اور فلاحی کاموں سے عملی طور پر دلچسپی لینے لگے تھے ، کیونکہ وہ شروع سے ہی اپنے والد محترم جناب حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم کے سماجی و فلاحی کاموں سے منسلک رہے اور ان کی معاونت کرتے رہے ، جس کی بنیاد پر حاجی مختار احمد صاحب کو سماجی و فلاحی کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دینے اور ادارہ و تنظیم چلانے کا بہت طویل اور گہرا تجربہ رہا ہے ، جس زمانے میں حج و عمرہ پر جانے کے لئے آج کی طرح سہولتیں اور آسانیاں نہیں تھیں اس دور میں حاجی مختار احمد صاحب اپنے والد محترم کے ساتھ مل کر عازمین حج کے لئے حج کا فارم بھرنے اور پاسپورٹ بنوانے سے لے کر سفر حج پر جانے کے تمام مراحل کو لوگوں کے لئے آسان کرنے میں دن رات لگے رہتے تھے ، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ، حاجی مختار احمد صاحب کو سماجی و فلاحی کاموں میں جنون کی حد تک لگے رہنے کا حوصلہ و جذبہ اپنے والد محترم سے وراثت میں ملا ہے ، آج پورے ہندوستان میں عازمین حج کے لئے ” حج تربیتی کیمپ” کا انعقاد کیا جاتا ہے ، لیکن بہت ہی کم لوگ اس بات سے واقف ہوں گے کہ حج تربیتی کیمپ کا آغاز سب سے پہلے حاجی مختار احمد صاحب کے والد محترم نے کیا ، جو ہر سال مشہور و مقبول ہوتا گیا ، حتی کہ اب ہر شہر اور علاقے میں حج تربیتی کیمپ لگائے جانے لگے یہاں تک کہ آج ہندوستان کے تمام ضلعوں میں حج تربیتی کیمپ لگائے جاتے ہیں ، حج تربیتی کیمپ کا پودا درحقیقت حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم نے لگا تھا جو آج ایک تناور درخت کی شکل میں پھیل چکا ہے ،
حج تربیتی کیمپ کے آغاز و ارتقاء میں حاجی مختار احمد صاحب اپنے والد محترم کے ساتھ سائے کی طرح لگے رہتے تھے جس سے ان کے اندر حصول ثواب کی خاطر حاجیوں کی خدمت اور ان کے لئے سہولیات و آسانیاں فراہم کرانے کا جنون سوار ہو گیا ، اپنے والد محترم کے انتقال کے بعد انھوں اپنے والد محترم کی اس وراثت کو قائم اور باقی رکھا ، ان کی انھیں خوبیوں اور صلاحیتوں کے بنیاد پر کسی کی پیروی اور روپئے خرچ کئے بغیر انھیں دو مرتبہ جھارکھنڈ سرکار نے حج کمیٹی کا رکن نامزد کیا ، وہ حج کمیٹی میں اپنے تجربے اور صلاحیت کی بنا پر سب سے زیادہ متحرک رہتے تھے ، دیہی علاقے کے لوگ براہ راست کرتہ محل آتے اور حج و عمرہ میں جانے کی ساری کاروائیاں حاجی مختار احمد صاحب کے سپرد کر جاتے ، حاجی مختار احمد صاحب دن بھر اپنی دوکان میں بیٹھ کر پاسپورٹ بنوانے اور حج فارم بھرنے کے عمل میں مصروف رہتے ، ان کی دوکان میں عازمین حج کی بھیڑ لگی رہتی تھی ، وہ ایک مصروف ترین تاجر اور کاروباری ہونے کے باوجود سب کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ، وہ یہ سارے کام محض حصول ثواب اور خدمت خلق کے جذبے سے کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں ، جھارکھنڈ ریاستی حج کمیٹی کے دو ٹرم رکنیت کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی انھوں نے حاحیوں کی خدمت سے اپنے آپ کو الگ نہیں رکھا بلکہ انھوں نے ” رابطہ حج کمیٹی” کے نام سے ایک فعال اور متحرک تنظیم بنائی جس کے صدر جناب حاجی مطلوب اور جنرل سکریٹری جناب حاجی مختار احمد صاحب ہیں ،رابطہ حج کمیٹی کے پلیٹ فارم سے عازمین حج کے لئے رانچی سے براہِ راست جدہ کے لئے فلائٹ کا مطالبہ اور اس سے سلسلہ میں ضروری کاروائی کرنے کے علاوہ اور بھی ناقابلِ فراموش بڑے بڑے کام کئے ہیں جس کی ایک لمبی فہرست ہے ، حاجی مختار احمد صاحب کی انھیں سماجی و فلاحی کاموں میں گہری دلچسپی اور ہر مرحلے میں پیش پیش رہنے اور شہری و دیہی علاقوں میں مضبوط گرفت اور اثر و رسوخ کی وجہ کر رانچی کی عوام نے مولانا آزاد کے قائم کردہ مسلمانوں کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم انجمن اسلامیہ رانچی کا دو مرتبہ جنرل سکریٹری منتخب کیا ، حاجی مختار احمد صاحب نے انجمن اسلامیہ رانچی کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے اس وقت کے صدر جناب ابرار احمد صاحب کے ساتھ مل کر بہت بہتر طریقے سے انجمن اسلامیہ رانچی کو چلایا ، دونوں کی جوڑی عوام و خواص کے نزدیک بہت اچھی اور مشہور و مقبول رہی ، دو مرتبہ انجمن اسلامیہ رانچی کے جنرل سکریٹری اور صدر رہنے کے دوران دونوں کے درمیان بہت اچھا تال میل رہا ، دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ، ایک دوسرے سے مشورہ لیتے اور دیتے رہے ، دونوں کی دوستی اتنی گہری اور مضبوط تھی کہ دونوں کو ایک دوسرے پر مکمل اعتماد اور بھروسہ تھا ، اس لئے دو ٹرم انجمن اسلامیہ رانچی اور اس کے ذیلی اداروں کو چلانے میں کہیں دقت اور پریشان کھڑی نہیں ہوئی ، لیکن تیسرے ٹرم کے آتے آتے دونوں کے راستے الگ ہوگئے ، کہا جاتا ہے کہ ، میاں بیوی یا دو دوست کے درمیان اختلاف و افتراق ہمیشہ کسی تیسرے کی وجہ سے ہوتا ہے ، وہ تیسرا بڑی آسانی اور چالاکی کے ساتھ اپنا کام کر کے دونوں کو دو راہے پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گیا ، انجمن اسلامیہ رانچی کے تیسرے ٹرم کے انتخاب سے پہلے دونوں کے درمیان مصالحت کی بہت کوشش کی گئی مگ شاید کہیں نہ کہیں منافقت یا نیتوں میں کھونٹ کی وجہ سے مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں ، آخر کار دونوں نے انجمن اسلامیہ کے صدر کی حیثیت سے چناؤ لڑا جس میں حاجی مختار احمد صاحب انجمن اسلامیہ رانچی کے صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے ، اپنے تین سالہ دور صدارت میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور مزاحمت کے باوجود حاجی مختار احمد صاحب نے بہت کام کیا ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ، انجمن اسلامیہ اسپتال کے صحن کے داہنی طرف پرانی البیسٹر کی عمارت کو توڑ کر چار منزلہ عالیشان عمارت کھڑی کردی جس سے انجمن اسلامیہ اسپتال کی عمارت میں توسیع ہوگئی ، اس نئی عمارت میں کئی یونٹ کھولے گئے ، ڈاکٹروں کے چیمبر بنائے گئے جس سے اسپتال میں مریضوں کا لوڈ کم ہوا ، آپریشن روم کو بہتر بنایا گیا ، ہر شعبے میں نئے اور قابل ڈاکٹر بحال کئے گئے ، انجمن اسلامیہ اسپتال کا اپنا پیتھولوجی یونٹ قائم کیا گیا ، اسپتال کے احاطے میں ہی مریضوں کو کم قیمت پر دواؤں کی فراہمی کے دواخانہ کھولا گیا جس سے مریضوں کو بہت فائیدہ ہو رہا ہے ، انجمن اسلامیہ اسپتال میں صاف صفائی ، نرسنگ سسٹم اور انتظام و انصرام کو اور زیادہ بہتر بنایا گیا ، انجمن اسلامیہ اسپتال میں تعمیر و ترقی کا یہ سارا کام حاجی مختار احمد صاحب صدر انجمن اسلامیہ رانچی نے اپنے چند ساتھیوں کے تعاون و اشتراک سے اس کٹھن گھڑی اور شدید ردعمل اور رکاوٹوں کے درمیان کیا جبکہ انجمن اسلامیہ اسپتال کا کروڑوں روپیہ آپسی اختلاف و افتراق کی وجہ سے بینکوں میں منجمد ہے ، اسی طرح جناب حاجی مختار احمد صاحب صدر انجمن اسلامیہ رانچی نے مولانا آزاد کالج میں بہت بہتر طریقے سے بغیر کسی شور و غوغا کے بہت اچھا کام کیا ہے ، راتو بلاک کے بانا پیڑھی رانچی میں کالج کے لئے جناب ابرار احمد صاحب کے دور صدارت میں خریدی گئی پانچ ایکڑ زمین کئی برسوں سے یوں ہی پڑی ہوئی تھی ، حاجی مختار احمد صاحب نے سب سے پہلے اس زمین پر چہار دیواری کھڑی کرنے کا فیصلہ کالج کی گورننگ باڈی میں لیا اور چہار دیواری کا کام شروع کروایا ، وہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں مگر تمام رکاوٹوں کو دور کرتے اور اپنے بلند حوصلے و جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاجی مختار احمد صاحب ہمیشہ آگے بڑھتے رہے ، حاجی مختار احمد صاحب کی پہل اور کوششوں سے کالج کی اسی زمین اور اس پر کھڑی نامکمل چہار دیواری کی بنیاد پر راجیہ سبھا کے ایک ممبر نے مولانا آزاد کالج کی بلڈنگ کی تعمیر کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپئے دینے کا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے ، بہت جلد کاغذی کاروائی کے مکمل ہوتے کالج کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا ، انشاءاللہ ، اتنی بڑی رقم کو منظور کرانے میں حاجی مختار احمد صاحب نے دن رات ایک کردیا ، اس کے لئے مستقل لگے رہے اور ابھی بھی پوری مستعدی سے لگے ہوئے ہیں ، انھوں نے مولانا آزاد کالج کی پرانی عمارت کی مرمت کا کام کروایا ، کالج کی پرانی عمارت کے پیچھے حاجی محمد نثار صاحب مرحوم کے دور صدارت میں تعمیر نئی بلڈنگ کی تیسری منزل کی تعمیر کروائی ، جس سے کلاس روم کی کمی کا مسئلہ دور ہوگیا ، پوری عمارت میں اندر اور باہر وائٹ واشنگ کروایا ، پورے کالج کے ماحول اور نظام کو بہتر بنانے میں لگے رہتے ہیں ، ابرار احمد صاحب سابق صدر انجمن اسلامیہ رانچی نے اپنے دور صدارت میں جن پانچ اساتذہ کی مستقل بحالی کی تھی ان پانچ میں سے چار اساتذہ کو جناب مختار احمد صاحب کے دور صدارت میں ان کی محنت اور کوششوں کی بدولت جھارکھنڈ سروس کمیشن ، رانچی یونیورسٹی رانچی اور ایچ ، آر ، ڈی ، سے منظوری بھی مل گئی ہے جبکہ ایک کا معاملہ جھارکھنڈ سروس کمیشن میں زیر التواء ہے ، اگر خدا نخواستہ ان چار اساتذہ کی مستقل بحالی کو سرکاری منظوری نہ ملی ہوتی تو مولانا آزاد کالج ایک دو سال میں خود بخود بند ہو جاتا کیوں کہ تمام پرانے اساتذہ کے ریٹائرمنٹ کے بعد کالج اساتذہ سے خالی ہو رہا ہے ، اس اعتبار سے حاجی مختار احمد صاحب نے کالج کو بند ہونے سے بچا لیا ہے ، نئی تعلیمی پالیسی کے تحت انٹر کو ڈگری کالج سے الگ کرنے کا انٹر میڈیٹ کمشن نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ، جس کی بنیاد پر اب مولانا آزاد کالج کو بھی انٹر سیکشن الگ کرنا ہوگا ، اس کے لئے جناب حاجی مختار احمد صاحب نے مولانا آزاد کالونی میں واقع کالج کی بہت پہلے سے موجود کالج کی زمین پر جناب ابرار احمد صاحب کے دور صدارت میں تعمیر نامکمل عمارت میں انٹر کی پڑھائی شروع کرنے کے سلسلے میں کاروائی شروع کر دیا ہے ، اس سلسلے میں مقامی لوگوں کے ساتھ کالج کے صدر جناب حاجی مختار احمد صاحب کی جدو جہد اور کوشش سے سکریٹری ، پرنسپل اور تمام اساتذہ کے ساتھ ایک نشست بھی ہوئی جس میں مقامی لوگوں نے صدر محترم کو یقین دلایا ہے کہ مولانا آزاد کالج کی اس زمین پر انٹر سیکشن کھولنے اور انٹرمیڈیٹ کی پڑھائی شروع کئے جانے کے لئے ہم سب سے آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے اور ہم لوگوں کا مکمل تعاون رہے گا ، مقامی لوگوں نے حاجی مختار احمد صاحب کی اس کوشش اور پہل کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مولانا آزاد انٹر کالج کے کھل جانے سے مختلف سماجی برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی ، اب دیکھنا یہ ہے کہ حاجی مختار احمد صاحب کی اس پہل اور کوشش کا لوگ کتنا اور کہاں تک ساتھ دیتے ہیں ، اپنے اپنے مسلک و مشرب اور اپنی اپنی پنچایتوں ، اداروں اور تنظیموں سے وابستہ رہتے ہوئے ایک ہوکر اور ساتھ مل بیٹھ کر قومی و ملی مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مولانا آزاد نے ہمیں ” انجمن اسلامیہ رانچی” جیسا ایک متحدہ پلیٹ فارم دیا تھا جسے بد قسمتی سے ہم نے اپنی ہار جیت اور اپنی آنا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے ، اے کاش اللہ کا کوئی نیک اور مخلص بندہ اپنی کوششوں سے ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور بکھرے ہوئے موتیوں کو اتحاد کے دھاگے میں پرو کر ہار کی شکل دے دیتا اور انجمن اسلامیہ کے نام سے ہمارے درمیان جو آپسی اختلاف و افتراق ہے اسے دور اور ختم کرادیتا تو یہ اھل رانچی اور مولانا آزاد کی روح پر بھی بہت بڑا احسان ہوتا ، قرآن کریم کی سورہ نمبر 4 اور آیت نمبر 128 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” والصلح خیر” صلح میں ہی خیر اور بھلائی ہے ،








