All India NewsBlogJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

دار العلوم قاسمیہ، مدرسہ چوک بلسوکرا، رانچی میں کئی حفاظ کرام نے ایک بیٹھک میں قرآن سنایا

Share the post

،تاریخ کے دامن میں کچھ لمحے ایسے ثبت ہو جاتے ہیں جو صرف واقعات نہیں رہتے بلکہ ایمان کی حرارت، روح کی تازگی اور دلوں کی روشنی بن جاتے ہیں۔ دار العلوم قاسمیہ، مدرسہ چوک بلسوکرا رانچی (جھارکھنڈ) میں پیش آنے والا یہ بابرکت واقعہ بھی انہی یادگار لمحات میں سے ایک ہے، جہاں سات خوش نصیب اور باہمت طلبہ نے ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنانے کی سعادت حاصل کی۔ یہ منظر محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں تھا بلکہ اخلاص، محنت اور ربانی نور کی ایک درخشاں تصویر تھا۔
اس روحانی محفل میں سات جلیل القدر اور صاحبِ فضل اساتذہ کے سامنے قرآنِ کریم کا مکمل حفظ سنایا گیا۔ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے صبر، شفقت، اخلاص اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنے شاگردوں کے سینوں کو قرآن کے نور سے منور کیا۔ حضرت قاری رمضان صاحب، حضرت حافظ احمد سعید صاحب، حضرت حافظ شبیر صاحب، حضرت حافظ عظیم الدین صاحب، حضرت قاری اسجد صاحب، حضرت قاری سالک صاحب اور حضرت مولانا ریاض احمد صاحب—یہ وہ نام ہیں جو علم و تقویٰ، تربیت و رہنمائی اور قرآنی خدمت کے روشن عنوان بن کر تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ ان حضرات کی تعلیم صرف الفاظ کی حد تک محدود نہ تھی بلکہ ان کی روحانی بصیرت نے طلبہ کے قلوب کو قرآن کے نور سے زندہ کر دیا۔
ان سعادت مند طلبہ کے اسمائے گرامی یہ ہیں: عزیزم محمد حسنین امباٹولی، محمد ریان احمد پنڈری، محمد سرفراز احمد مسمانو، محمد عاطف حسین چانہو، محمد سرفراز پوکھرٹولی، محمد آفتاب دیشوالی اور محمد تنویر کیرو۔ ان طلبہ نے اپنی ذہانت، شب و روز کی محنت اور اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کے ذریعے قرآنِ کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا۔ ان کی یہ عظیم کامیابی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جب نیت خالص اور جستجو مضبوط ہو تو کامیابی خود انسان کے قدم چومتی ہے۔ بلاشبہ یہ طلبہ مستقبل کے وہ روشن چراغ ہیں جو امتِ مسلمہ کو علم و ہدایت کی روشنی عطا کریں گے۔
دار العلوم قاسمیہ کی یہ بابرکت نشست صرف ایک ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قرآنِ کریم ہی اصل ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اساتذہ کی بے لوث قربانیاں، طلبہ کی انتھک محنت اور قرآن کے نور سے منور یہ محفل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف دنیاوی ترقی میں نہیں بلکہ اس کتابِ ہدایت سے وابستگی میں ہے جو دلوں کو جِلا بخشتی ہے، کردار کو سنوارتی ہے اور آخرت کی راہوں کو روشن کرتی ہے۔
بعد از نمازِ ظہر اسی مدرسہ میں عظمتِ قرآن کے موضوع پر ایک نہایت بابرکت اور پراثر مجلس کا انعقاد ہوا۔ اس مجلس میں صدر المدرسین حضرت مولانا دلاور حسین قاسمی صاحب نے نہایت مختصر مگر جامع انداز میں قرآنِ کریم کی عظمت، اس کی تعلیمات اور ہماری عملی زندگی میں اس کی رہنمائی پر روشنی ڈالی، جس سے حاضرین کے دلوں میں قرآن سے وابستگی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا۔
مجلس کا اختتام ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا نور الحسن صاحب مظاہری کی پرسوز اور رقت آمیز دعا پر ہوا، جس نے حاضرین کے دلوں کو نرم اور روحوں کو سکون بخش دیا۔ دعا کے بعد طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مولانا معین الدین صاحب قاسمی کی جانب سے بطورِ انعام نقد رقوم پیش کی گئیں، جو ان کے لیے مزید محنت اور استقامت کا سبب بنیں۔
یہ بابرکت محفل نہ صرف طلبہ کے لیے باعثِ ترغیب بنی بلکہ تمام حاضرین کے دلوں میں قرآنِ کریم سے محبت، اس کی عظمت اور اس پر عمل کرنے کا شوق پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان طلبہ اور اساتذہ کو دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے، ہمیں قرآنِ کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے عام کرنے کی توفیق بخشے، اور اس نورِ ہدایت کو پوری امت تک پہنچانے کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

Leave a Response