مدرسہ حسینیہ رانچی میں تقریبِ یومِ جمہوریہ کا انعقاد


ملک کی سلامتی آئین کی بالادستی میں مضمر ہے: مولانا محمد
رانچی: مدرسہ حسینیہ میں 77واں یومِ جمہوریہ نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر طلبہ نے یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے متنوع اور دلکش پروگرام پیش کیے، جن میں قومی و ملی نغمے، ترانے، نظمیں اور تقاریر شامل تھیں۔تقریب کا آغاز انس احمد (رانچی) کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ کیف خان (رانچی) نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ اس کے بعد مہتممِ مدرسہ مولانا محمد اور اساتذۂ کرام کے ہاتھوں رسمِ پرچم کشائی ادا کی گئی۔ محمد عرش (رانچی)، محمد اشرف (دھنباد) اور محمد اسمٰعیل (رام گڑھ) نے وطن کی محبت سے سرشار مشہور قومی ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ پیش کر کے سامعین کو مسرور کر دیا۔
عطاء اللہ (دربھنگہ) نے 26 جنوری کی اہمیت پر تقریر پیش کی، جبکہ محمد اسمٰعیل نے نظم کے انداز میں وطن کی سلامتی کی دعا پیش کی۔ اس موقع پر مولانا اطہر حسین (مدرس عربی) نے جمہوریت اور جشنِ جمہوریہ کے موضوع پر مختصر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں احمد افضل (رانچی) نے ہندوستان کے موضوع پر ایک منفرد نظم پیش کی۔مفتی محمد قمر عالم قاسمی نے جنگِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے تعلق سے مختصر مگر جامع خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ملک اور اکابرین کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ آزادیٔ وطن کے لیے دی گئی قربانیوں سے صحیح طور پر واقف ہو سکیں۔ محمد اطہر حبیب (رانچی) نے بھی وطنِ عزیز ہندوستان کے تعلق سے ایک خوبصورت نظم پیش کیا۔مہمانِ مکرم ایڈوکیٹ سرفراز احمد نے قرآنِ مجید اور آئینِ ہند کے تناظر میں مفید اور دلچسپ معلومات پیش کیں۔ اس کے بعد مدرسہ حسینیہ کے روحِ رواں حضرت مولانا محمد نے آزادی اور آئینِ ہند کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے مجاہدینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور فرمایا کہ ملک کی ترقی آئین پر عمل میں مضمر ہے۔ اگر خدانخواستہ آئین کی بالادستی ختم کر دی جائے تو یہ وطن کے لیے تباہی اور بربادی کا راستہ ہوگا۔

آخر میں حضرت مولانا نے تمام اساتذہ، کارکنان، طلبہ کے سرپرستوں اور معزز مہمانوں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں کے لیے مٹھائی اور ناشتہ کا بھی اہتمام تھا۔ حضرت مہتمم صاحب کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔ نظامت کے فرائض محمد عرباض کوڈرما اور محمد سہراب گریڈیہ نے انجام دیے۔
اس موقع پرقاری عبدالقدوس،قاری محمد احسان ،قاری محمد اخلد،قاری محمد اسعد حسین،قاری اسجد، قاری عبد الماجد ، قاری مشتاق احمد،مفتی اشفاق اقبال ،مولانا اظہر الدین ،مولانا اسرافیل،مولانا اقبال عادل،قاری محمد صادق مولانا شعیب،اور دیگر اساتذہ ، طلبہ اور ان کے گارجین حضرات ،شہراور اطراف کے معزز مہمانان شریک رہے۔








