All India NewsBloghealthJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

بزرگ ھومیوپیتھ ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب کی شخصیت و خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی)

Share the post

انسانی زندگی میں صحت و تندرستی کی کیا اہمیت ہے اس بات سے کم و پیش ہر شخص اچھی طرح واقف ہے ، صحت و تندرستی کے حاصل کرنے اور باقی رکھنے کے لئے بیماریوں سے بچنا نہایت ضروری ہے اور بیماریوں سے بچنے کے لئے ان چیزوں سے دور رہنا ضروری ہے جو بیماریوں کی دعوت دیتی ہیں یا پھر بیماریوں کو مزید تقویت پہنچاتی ہیں ، آج انسان جن نئی نئی بیماریوں میں مبتلا ہے ، پچاس ساٹھ سال قبل لوگوں نے ان بیماریوں کا نام بھی نہیں سنا ہوگا ، کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے ، حرص و ہوس میں دوسروں سے آگے بڑھنے اور عیش و آرام کی تمام سہولیات کو حاصل کرنے کی خاطر زندگی کے بھاگ دوڑ میں انسان نے اپنی طرز حیات کو بدل کر رکھ دیا ہے ، جس کی وجہ سے آج انسان تمام تر سہولتوں کے باوجود پرسکوں زندگی سے محروم ہے ، حرص و ہوس میں انسان یہ بھول گیا کہ دولت سے نرم بستر تو خریدا جا سکتا ہے لیکن نیند نہیں خریدی جاسکتی ہے ، دولت سے دوائیاں تو خریدی جاسکتی ہیں لیکن صحت و تندرستی نہیں خریدی جاسکتی ہے ، نئی نئی بیماریوں نے آج ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ،

ان سے نکلنے اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں مہنگی جانچ مشینوں اور مہنگی دواؤں سے سمجھوتہ کرنا پڑ رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج ڈاکٹری کے پیشہ نے ایک کاروبار کی شکل وصورت اختیار کر لیا ہے ، آج لوگ کہنے لگے ہیں کہ سب سے اچھی تجارت اور کاروبار ہاسپیٹل چلانا ہے ، کسی زمانے میں سب سے محترم اور باعزت پیشہ ڈاکٹری کا پیشہ ہوا کرتا تھا ، مسلمان اللہ کے بعد ڈاکٹر کو ہی سب کچھ سمجھتا تھا جبکہ غیر مسلموں نے ڈاکٹروں کو بھگوان کا درجہ دے رکھا تھا ، بیماری جب آتی ہے تو امیر اور غریب دیکھ کر نہیں آتی ، امراء تو بڑے بڑے مہنگے اسپتالوں میں اپنا علاج کروا لیتے ہیں جبکہ غریب ان مہنگے اسپتالوں میں جانے اور علاج کرانے کی سوچ بھی نہیں سکتا ہے ، آج بھی غریب انسان قسمت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا علاج سرکاری اسپتالوں میں یا پھر ھومیوپیتھک دواؤں کے ذریعے کراتا ہے ، آج سے تقریباً چالیس پچاس سال قبل عام طور پر غریبوں کے علاج کا سب سے بڑا ذریعہ اور سہارا ھومیوپیتھک علاج ہی ہوا کرتا تھا ، رانچی کے مسلم اکثریتی علاقہ ھند پیڑھی کے سکنڈ اسٹریٹ میں پوسٹ آفس کے بالکل بغل میں بزرگ ھومیوپیتھ ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم ہوا کرتے تھے ، جن کو ھومیوپیتھک علاج میں کافی مہارت اور تجربہ حاصل تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں ہی شفاء رکھا تھا ، دور دور سے لوگ ان سے علاج کرانے کے لئے بلا تفریق مذہب آیا کرتے تھے ، آج انھیں کے مکان کے سامنے ڈاکٹر شاہ نواز صاحب اور کچھ ہی دوری پر ان کے بھائی ڈاکٹر امتیاز صاحب اپنی ھومیوپیتھک کلینک میں ان کی روایت کو زندہ اور باقی رکھے ہوئے ہیں ، ڈاکٹر شاہ نواز اور ڈاکٹر امتیاز کافی عرصے تک ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کے ساتھ رہے اور ان کے علم و تجربات سے فائدہ اٹھا کر آج لوگوں کو فیض یاب کر رہے ہیں ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب بنیادی طور پر غالباً بہار شریف کے رہنے والے تھے اور سید برادری سے تعلق رکھتے تھے ، تلاش معاش میں رانچی آئے اور رانچی کے ہی ہوکر رہ گئے ، اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اس لئے رانچی میونسپل کارپوریشن میں نوکری لگ گئی ، رانچی میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے ، پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے ، اپنی ڈیوٹی کو انجام دینے میں وہ بہت اصول و ضوابط کے پابند تھے ، ھند پیڑھی رانچی کے مشہور و معروف تاجر اور میرے نانا حافظ جمال الدین صاحب مرحوم بتایا کرتے تھے کہ رانچی میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں ہم نے کبھی ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کو تاخیر سے پہنچتے ہوئے نہیں دیکھا ،

دوسرے ملازمین وقت پر آئیں یا نہ آئیں لیکن ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم ہمیشہ وقت پر دفتر پہنچ جایا کرتے تھے ، دفتری ملازمین ان کی بہت عزت و اکرام کیا کرتے تھے ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم ھومیوپیتھ کے باضابطہ طور پر ڈاکٹر تھے اور ان فن میں انھیں کافی مہارت اور تجربہ بھی حاصل تھا ، لمبے قد ، اکہرا بدن ، گورا رنگ ، کرتہ پاجامہ میں ملبوس اور نورانی چہرے پر ہلکی گھنی داڑھی سے ہی شخصیت کا رعب جھلکتا تھا ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم سب سے پہلے مین روڈ رانچی میں واقع اے ، ڈی پال ٹیلرنگ کی مشہور و معروف دوکان کے ٹھیک سامنے میونسپل کارپوریشن کی زمین پر بنے ایک مکان میں صبح اور شام دو وقت مریضوں کو دیکھا کرتے تھے ، وہیں سے آپ کے علاج کی شہرت و مقبولیت پورے علاقے میں پھیل گئی ، رانچی میونسپل کارپوریشن کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم سیکنڈ اسٹریٹ ھند پیڑھی رانچی میں واقع اپنے مکان میں مریضوں کو دیکھنے لگے ، جہاں پورے علاقے کے لوگ آپ سے علاج کرانے کے لئے رجوع کرتے تھے ، آج ہر بیماری کے لئے ھومیوپیتھک دوائیں آگئی ہیں اور اس میدان میں ھومیوپیتھک ریسرچ کے ذریعے کافی ترقی ہوئی ہے اور ھومیوپیتھک علاج اور دواؤں پر بھی لوگوں کا اعتماد اور یقین کافی بڑھا ہے کیوں کہ ایلوپیتھک دوائیں کافی مہنگی ہوگئی ہیں اور اس کے منفی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں جبکہ ھومیوپیتھک علاج اور دواؤں میں منفی اثرات نہیں ہوتے ہیں ، اس لئے اب لوگ ھومیوپیتھک علاج کی طرف تیزی سے مائل ہو رہے ہیں ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم نے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اپنی پوری زندگی ھومیوپیتھک علاج کے ذریعے عوامی خدمت کے لئے وقف کردی تھی ، اس زمانے میں عام طور پر متوسط اور غریب طبقہ کے لوگ ہی اپنے اپنے بچوں کا علاج ھومیوپیتھک دواؤں سے کرایا کرتے تھے کیوں کہ اس زمانے میں ہومیوپیتھیک دواؤں کا کوئی پیسہ نہیں لگتا تھا ، یہ دوائیں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے عوام کو ھومیوپیتھ ڈاکٹروں کے ذریعے دی جاتی تھیں ، ڈاکٹر صاحب کے گھر کے کلینک میں صبح و شام لوگوں کی اتنی بھیڑ ہوتی تھی کہ انھیں کئی لوگوں کو دوا بنانے کے لئے رکھنا پڑا تھا جو بعد میں آگے چل کر ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کے تجربہ سے فائیدہ اٹھاتے ہوئے مستقل ڈاکٹر بن گئے اور باضابطہ کلینک کھول کر علاج کرنے لگے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کے گھر کے باہر لکڑی کے دو تین لمبے بینچ لگے رہتے تھے جہاں بیٹھ کر مریض اپنی باری کا انتظار کرتے تھے ، ڈاکٹر صاحب مریضوں کا علاج کرتے ، بیماری کے مطابق دوا کی تشخیص کرکے دوا بنانے والے کو دیتے ، اس کام کے لئے ڈاکٹر صاحب کئی لوگوں کو باضابطہ طور پر رکھا ہوا تھا ، ڈاکٹر شاہ نواز اور ڈاکٹر امتیاز صاحب انھیں ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کے فیض یافتہ ہیں جن کے ذریعے روزانہ سینکڑوں افراد کو فائیدہ پہنچ رہا ہے ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کا طریقہ علاج بہت ہی نرالا تھا ، وہ سب سے پہلے مریض کی خیریت پوچھتے ، اس کے بعد اس کی تکلیف دریافت کرتے ، پورے اطمینان سے مریض کی کیفیت اور اس کی حالت جاننے کے بعد بہت غور و خوص کے بعد دواؤں کی تشخیص کرتے تھے ، اس زمانے میں اکثر و بیشتر جو بیماریاں ہوا کرتی تھیں ، وہ سردی ، کھانسی ، نزلہ ، بخار ، دست ، قئے ، بدہضمی ، پیٹ درد ، سر درد ، کان درد ، دانت درد اور خارش ہوا کرتی تھی ، سب سے بڑی بیماری اس زمانے میں عام طور پر ٹائفائیڈ بخار اور چیچک ہوا کرتا تھا جو مسلسل مہینوں تک رہتا تھا ، جس سے بدن کمزور اور آنکھیں گھس جایا کرتی تھیں اور سر کے بال جھڑ جایا کرتے تھے ، پورے چہرے اور بدن میں چیچک کے نشان پڑجایا کرتے تھے ، ان تمام بیماریوں کے مریض دور دور سے ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کے پاس آتے تھے اور ان سے اپنا علاج کراکر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شفاء پاتے تھے ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم شروع سے ہی صوم و صلوٰۃ کے بڑے پابند تھے اور ذکر و اذکار سے ان کا ایک خاص لگاؤ تھا ، امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب سے بیعت تھے ، میں (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی) نے اپنے بچپن میں جب کبھی بھی انھیں دیکھا تو ذکر و اذکار سے ان کے لب کو ہلتے ہوئے دیکھا ہے ،

ھند پیڑھی بڑی مسجد کے مستقل نمازی تھے ، سخت سردی ہو گرمی ہر نماز بڑی مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے ، ضعیفی کے دنوں میں بھی ہم نے انھیں بڑی مسجد میں صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہوئے بچپن میں دیکھا ہے ، بہت خاموش طبیعت کے مالک تھے ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم ، لیکن ان کی اس خاموشی میں بھی ایک گہرائی اور گیرائی ہوا کرتی تھی ، آج کے اکثر و بیشتر ڈاکٹر مریض سے زیادہ بات چیت کرنا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں مگر ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم اس کے برعکس اپنے مریضوں سے کھل کر بات کرتے اور پوری تفصیل کے ساتھ ان کی ساری کیفیات دریافت کرتے ، جس سے مریض پوری طرح مطمئن ہو جاتا تھا اور آدھی بیماری اس کی وہیں دور ہوجاتی تھی ، ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کا یہ انداز اور ان کا طریقہ علاج لوگوں میں بہت مشہور و مقبول تھا ، جس کی وجہ کر لوگ ان کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچے چلے آتے تھے ، کئی دہائیوں کے بعد بھی ڈاکٹر وجیہ اللہ صاحب مرحوم کے نام اور ان کے کام سے لوگ اچھی طرح یاد ہے ، لیکن نئی نسل مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دینے والوں کی قربانیوں سے آج بے بہرہ ہے ، لوگ سیاسی و سماجی ، تعلیمی و مذھبی میدانوں میں کام کرنے والوں کی ہمہ جہت شخصیت اور ان قربانیوں کو فراموش کرتے جارہے ہیں جبکہ غیر قومیں اپنے چھوٹے چھوٹے اور بدنام زمانہ لوگوں کو ھیرو بنانے میں لگی ہوئی ہیں ،

Leave a Response