نظام تعلیم کومستحکم كرناادارہ شرعیہ کےکلیدی اہداف میں شامل رہاہے: مولاناغلام رسول بلیاوی


عالمی بحران کامستقل حل قرآنی تعلیمات میں ہے : نبیرہ اعلی حضرت علامہ فیض خان
ادارہ شرعیہ کاسالانہ اجلاس اختتام پذیر،علامہ احمدمصباحی وعلامہ فیض رضاخان کی ہوئ آمد،علامہ غلام رسول بلیاوی وڈاکٹرحسن رضاکاہوا اصلاحی وانقلابی خطاب،57/فارغین کی ہوئ دستاربندی،سامعین کازبردست کی ہوئ جم غفیر

پٹنہ : 1/فروری 2025
ہندوستان کامشہورومعروف علمی مذہبی اور تنظیمی ادارہ مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار کا سالانہ اجلاس کئی تاریخ ساز اقدامات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
اعلان کے مطابق 10/بجےدن سے رئیس القلم علامہ ارشدالقادری، سیمینار ہال میں ختم بخاری شریف اور تکمیل درس افتا کا اہتمام ہوا۔خیرالاذکیا،ماہرعلم وفن،محقق عصرحضرت علامہ محمداحمدمصباحی صاحب قبلہ جامعہ اشرفیہ یوپی نے ان دونوں کاموں کو بحسن وخوبی انجام دیا۔ اس موقع پر ان کا دیا گیا خطبہ انتہائی جامع اور معنی خیز رہا۔ امام بخاری کی زندگی کے احوال سے لے کر بخاری شریف کی احادیث تک کا علمی انداز و اسماء الرجال پراسرارورموزکے ساتھ صحت حدیث،علل حدیث،ضبط حدیث میں پیش کیاگیاخاکہ اور جائزہ ہمیشہ سامعین کے اذہان میں محفوظ رہے گا۔

اس موقع سے شہر اور بیرون شہر کے علما اور اصحاب فضل وکمال نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔
عشا کی نماز کے بعد ادارہ کا سالانہ جلسہ دستار افتاوفضیلت وحفظ بنام “کنزالایمان کانفرنس” منعقد ہوا جس میں گیارہ 11/مفتیان کرام پندرہ 15/فضلا اور اکتیس31 حفاظ کی دستاربندی عمل میں آئی ۔
پروگرام کا آغاز نبیرہ حضورحجة الاسلام،حضرت پیرطریقت علامہ فیض رضاخان بریلی شریف کی سرپرستی اورغازی ملت صدر ادارہ شرعیہ حضرت مولانا غلام رسول بلیاوی صاحب کی قیادت میں حمد و نعت سے آغاز ہوا۔نظامت حضرت مولاناسیداحمدرضاو مفتی ڈاکٹرامجدرضاامجداور مولانا قطب الدین رضوی نے انجام دیں. اجلاس کی ترتیب صدرمفتی محمدحسن رضانوری،مولانانوازش کریم فیضی،مولانامفتی جمال انوررضوی،حافظ غلام جیلانی،فخرالدین رضوی نےکی۔
واضح رہے کہ اس اجلاس میں کئی صوبوں کے صاحبان علم و فضل نے شرکت کی۔حضرت مولاناعبدالحلیم صاحب،حضرت مولاناامیرالدین صاحب،حضرت مولانانورالدین،حضرت مولانا ثناء المصطفی صاحب،حضرت مفتی اعجازحسین رانچی،حضرت مولانا ریاض لوہردگا،حضرت مولانااحمدعلی گیا،حضرت مولاناعمران صاحب سیوان،حضرت مولانامحمدرضاصاحب بیتیا،حضرت مولاناعبیدرضا،حضرت مولاناغلام رسول ہاشمی،حضرت مولانا لئیق احمدنقشبندی،شاعر اسلام حضرت صدف سعیدصاحب،جناب شاکرحسین صاحب،حضرت سبطین عظیم آبادی،حضرت غلام دستگیر،شاعراسلام صغیرصبامرادابادی قابل ذکرہیں۔
اس اجلاس میں باضابطہ عنوان کے تحت علما نے خطاب فرمایا اور سامعین ایک اجلاس مین کئی پیغام لے کر یہاں سے گیے۔

پیرطریقت،نبیرہ اعلیحضرت حضرت علامہ فیض رضاخان بریلی شریف نے ادارہ شرعیہ کی خدمات کوصراحتے ہوئےاپنے خطاب میں فرمایاکہ واقعی ادارہ شرعیہ میرے جداعلی حضورمفتی اعظم ہندکاوہ گلشن ہے جس سے صرف بہارہی نہیں بلکہ پورا ملک مستفیض ومستنیرہورہاہے۔علامہ غلام رسول بلیاوی کی قائدانہ کردارنے مسلک اعلی حضرت کی ایسی آبیاری کی ہے کہ تاریخ ان کی خدمات کوفراموش نہیں کرسکتی،انہوں نے کہاکہ آج عالمی سطح پراگراتشی فضااوراختلافی صورت حال سے نپٹناہےتواسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ورلڈکے مناہج وپالیسی کوطئے کرنے ہوں گے اوراس بات كاعزم مصمم کرناہوگاکہ اللہ اوراس کےرسول کے سامنے سرتسلیم خم کرناہی کامیابی ہےاورتفاسیرکی روشنی میں مبسوط گفتگوکرتےہوئےفرمایاکہ خاندان اعلیحضرت علیہ الرحمہ نے ہمیشہ قرآن تفاسیر کی روشنی میں ملت کی رہنمائ کی ہے۔تاریخ شاہدہےکہ حضورنقی علی خان والدبزرگوار سرکار اعلی حضرت سے لےکراب تک تفسیراول سورہ الم نشرح فرمایااورتعلیمات قرآنی فرمودات رسول اکرم کاعامل بنے رہنے کی تلقین فرمائی اوراسی نہج پرادارہ شرعیہ گامزن ہے انہوں نے کہاکہ عام طورپرجتنےکل طلبامدارس رہتے ہیں اتنی تعدادمیں طلبایہاں سے ہرسال فارغ ہوکردین وسنیت کاکام کررہے ہیں اوریہ بڑی زبردست تحریک ہے ادارہ شرعیہ کی کہ ادارہ شرعیہ اپنے فارغین کوفتاوی رضویہ کامکمل سیٹ دے کرتاریخی کارنامہ انجام دے رہاہے۔

غازی ملت،صدرادارہ شرعیہ سابق ممبرآف پارلیامنٹ حضرت مولانا غلام رسول بلیاوی صاحب نےمرکز اہل سنت بریلی شریف کی مرکزیت ،اعلی حضرت کی عبقریت اور بزرگان بریلی سے اپنی اور پورے ادارہ کی والہانہ وابستگی کا آئینہ سامنے رکھا اور فرمایا ادارہ شرعیہ علمی مذہبی ملی اور مسلکی اعتبار سے فکررضاکاترجمان ہے اور انہین کے خطوط پہ وہ قومی وملی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے اور دیتا رہے گا۔انہوں نےکہاکہ مدارس اسلامی قلعے ہیں اس کی ایک اینٹ کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، یہ مدرسہ ہی ہے جوقوم کے ایمان وعقائدکے تحفظات کادستہ تیارکرتاہے،کوئ آسان كام نہیں ہےایک دوسال کی قليل مدت میں بچوں کے سینے میں پورا قرآن بسادینا،مسجدوں کے محراب اور اسلام کے تقدس وشعائراگراج بھی اپنی اصلی ہیئت میں باقی ہے تو یہ مدارس اسلامیہ کی قربانی ہے۔ہم سب مل کرعہدکریں کہ اس قلعہ کی حفاظت ہم دل وجان سے کریں اس لئے خوبصورت مسجدبنانااسان ہے لیکن خوبصورت ائمہ آسانی سے نہیں ملتے ہیں۔

مقررخصوصی ڈاکٹرحسن رضاپی ایچ ڈی نے اپنے بیان میں کہاکہ ادارہ شرعیہ بزرگوں کی امانت ہے ہمارے اکابرین بشمول حضور مفتی اعظم ہند،حضور قائداہلسنت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ نے ملک وملت کے لئے ایک عظیم اثاثہ دیاہے جو روزبروز ترقی کے منازل طئےکررہاہے،انہوں نے کہاکہ قرآن حکیم یقیناحکیم ہے اوراللہ کے بندے مریض ہیں اب ضرورت ا س بات کی ہے ہرمریض قرآن حکیم سے اپنابہترعلاخ کرکے خوشگواری زندگی گزارے.
اجلاس کے اختتام پر دستار بندی کا روح پرور منظر لوگوں نے ملاحظہ کیا،سلام ودعا پہ مجلس کا اختتام ہوا.
اس اجلاس کے تمام امور کو انجام دینے میں ادارہ کے اساتذہ میں مفتی غلام حسین ثقافی، مفتی غلام سرور قادری، مفتی عبدالباسط رضوی،مفتی غلام اختررضا، مفتی وسیم رضوی،مفتی وسیم اختر،مفتی غلام رسول اسماعیلی،حافظ معراج احمد فریدی،حافظ اكمل حسین،قاری برہان،مفتی شان محمد،مفتی اعظم،جناب عبدالودود،جناب آصف رضا،جناب شمشادماسٹر،جناب مسعود احمد رضوی،غلام مصطفی اورجناب صدرالدین،حافظ جلال نے اہم رول ادا کیا.اجلاس كااختتام حضرت پیرطریقت نبیرہ اعلی حضرت کی رقت انگیزدعاپرہوا.








