مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرسا مڑما میسال میں مسابقۃ القرآن الکریم کا انعقاد


اول پوزیشن مدرسہ دارالعلوم حسنیہ مانڈر، اول پوزیشن دارالعلوم اسلام نگر جاڑی بنا پیڑھی، اول پوزیشن مدرسہ مظہرالعلوم اربا رہا
رانچی: مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرسا مڑما میسال میں یک روزہ عظیم الشان مسابقۃ القرآن الکریم الحفظ والتجوید آج تین نشستوں میں منعقد ہوا۔ نشست اول بوقت صبح 7تا 11 بجے و نشست ثانی 11سے ظہر تک، نشست ثالثہ ظہر تا عصر منعقد ہوا۔ اس مسابقتہ القرآن الکریم میں 6 اضلاع کے 32 مدارس شامل ہوئے۔ مسابقہ کے کنوینر حضرت مولانا طہ تھے۔ ممتحن حضرت مولانا محمد اللہ قاسمی، حکم حضرت مولانا توفیق آفندی الرشیدی، حکم حضرت مولانا قاری توصیف الرشیدی، حکم حضرت مولانا مفتی احتشام الحق قاسمی، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا قاری صہیب احمد، مسابقہ کے نگراں حضرت مولانا مفتی احمد بن نذر، حضرت مولانا مفتی محمد بن نذر، حضرت مولانا مفتی احرار تھے۔
پروگرام کا آغاز حضرت مولانا طہ مسعود المظاہری کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔نعت نبی جھارکھنڈ کے مشہور قاری قرآں حضرت قاری صہیب احمد نے پڑھا۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے حضرت مولانامفتی طلحہ ندوی جنرل سکریٹری مجلس علماء جھارکھنڈ وامام وخطیب جامع مسجد اپر بازار رانچی،حضرت مولانا مفتی عمران ندوی مہتمم مدرسہ مظہر العلوم اربا وخطیب بڑی مسجد رانچی،حضرت مولانا منصور صدر مدرس مدرسہ عالیہ عربیہ کانکے تھے۔مسابقۃ القرآن الکریم کے شرکاء ( علماء، قراء اور حفاظ و عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسابقہ حضرت مولانا عبدالجلیل قاسمی ندوی ناظم مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرسا مڑما میسال نے فرمایا کہ ” مسابقات سے جہاں طلباء کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں وہیں ارباب مدارس کو بھی اس بات کا علم ہوتا ہے کہ شرکاء مدارس کا تعلیمی معیار کیا ہے ؟ اور اس معیاری تعلیم کے لئے کیا طریقہ کار درکار ہیں ؟جوبچے کمپٹیشن میں بیٹھتے ہیں وہ بچے کامیاب ہوتے ہیں۔

اور مسابقہ کے سرپرست حضرت مولانا مفتی احمد بن نذر نے فرمایا کہ مسابقات کے انعقاد کے منجملہ مقاصد کے ایک خاص مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلباء میں قرآن کی تعلیم سیکھنے کا ذوق و شوق عام ہو اور قرآن سے رغبت پیدا ہو اور قرآنی شغف میں اضافہ ہو ۔ مسابقۃ القرآن الکریم پروگرام کے مہمان خصوصی مفتی طلحہ ندوی،مفتی عمران ندوی ،مولانا منصورنے مسابقہ قرآن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ قرآن کریم خدا کی آخری کتاب ہے جس کی تلاوت احکام تجوید کے عین مطابق بے حد ضروری اور لازم ہے۔ قرآن کی آیت جسکا ترجمہ : جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کو اس طرح پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔حاصل یہ کہ قرآن کریم کا تجوید و تحسین کے ساتھ پڑھنا ہر فرد کے لئے فرض عین ہے ، اسی سلسلہ کو مزید حسن و معیار کی بلندی عطاء کرنے کے لئے قرآن کمپٹینشن اور مسابقہ کا انعقاد کرایا جاتا ہے ۔
اس سے اساتذہ کی محنت میں ندرت و نکھار پیدا ہوتا ہے اور طلباء کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ مدارس کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔وہیںدوسرے مقررمولانا نجم الدین قاسمی،مولانا رفیق قاسمی،مولانا ضیاء الرحمان،مولانا شہاب الدین نے فرمایا کہ مسابقات میں امتیازی مقام و پوزیشن حاصل کرلینا کمال نہیں ہے بلکہ صلاحیتوں کو بچا کر رکھنا اور ملت کی تعمیرو ترقی میں استعمال کرنا اصل کامیابی ہے۔مسلمانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قرآن کی تعلیم و تدریس کا اہتمام کریں اور اس کی تلاوت اور فہم وتدبر کو اپنا شعار و وطیرہ بنائیں اگر انہوں نے اسے اپنے عقیدہ و عمل میں داخل کر لیا تو نہ صرف وہ خود صحیح معنوں میں کامیاب ہوجائیں گے بلکہ ساری انسانیت کے لیے بھی وجہ سعادت بن جائیں گے اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔

مسابقۃ القرآن الکریم کے کنوینر حضرت مولانا طہ مسعودالمظاہری نے فرمایا کہ آج امت مسلمہ جن مسائل و مشکلات میں گھری ہوئی ہے اس کا واحد سبب قرآنی تعلیمات سے دوری ہے۔ جناب کنوینر مولانا طہ نے مسابقہ کے اہداف و مقاصد بیان فرماتے ہوئے کہا کہ مسابقۃ القرآن الکریم الحفظ التجویدکے انعقاد کا اہم مقصد یہ ہے کہ ہماری نئی نسل قرآن سے وابستہ ہوجائے اور انسان صحیح معنوں میں انسان بن جائے، اس کی روح وجدان قرآن کی خوشبو سے معطر و معمور ہو اور وہ اسلامی طرز زندگی سے بہرہ ور ہو ۔

مسابقتہ القرآن الکریم کو کامیاب بنانے والوں میں مولانا قاری طہٰ مسعود المظاہری، مولانا رفیع الدین المظاہری، مولانا عتیق الرحمان قاسمی، مولانا علی حسین ندوی، مولانا ساجد المظاہری، مولانا جاوید المظاہری، حافظ اصغر، حافظ شفیق مسعود، مفتی شاہد الرشیدی، حاجی شمشیر، مولانا انعام الحق ندوی، مولانا مظہر الحق ندوی، الطاف، مفتی دلشاد ندوی، مفتی شاہد المظاہری، مولانا یعقوب ندوی، مفتی احمد بن نذر، مفتی احرار، مفتی محمد بن نذر، حضرت قاری صہیب احمد، مولانا عبدالجلیل قاسمی نے اہم رول ادا کیا۔

مولانا رفیع الدین قاسمی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔مدرسہ ھذا کی بنیاد 1962میں قاری علیم الدین قاسمی ،قاری فخرالدین کے ہاتھوں رکھی گئی تھی۔مسابقہ میں حصہ لینے والے سبھی بچوں کو ایک بیگ،ایک سند،ایک کتاب اور کامیاب ہونے والے بچوں کو ایک بیگ،ایک سند،ایک کتاب،ایک مومنٹو،چیک دیا گیا۔زمرہ اولیٰ میں اول پوزیشن مدرسہ مظہرالعلوم ارباکے طالب علم محمد فیض،دوم مدرسہ تجویدالقرآن سمڈیگا،سوم دارالعلوم اسلام نگر جاڑی بنا پڑھی کے طالب محمد تجمل رہے۔

زمرہ ثانیہ میں اول پوزیشن دارالعلوم اسلام نگر جاڑی بنا پیڑھی کے طالب علم عبداللہ،دوم دارالعلوم حسینیہ کوکدوروکے طالب علم فردوس،سوم مدرسہ تجویدالقرآن کے طالب علم مصطفی عالم رہے۔زمرہ ثالثہ میں اول پوزیشن دارالعلوم حسنیہ ملتی مانڈر کے طالب علم محمد معاذ،دوم پوزیشن مدرسہ عربیہ قاسم العلوم کھونٹی کے طالب علم محمد مزمل،سوم مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرسا مڑما میسال کے طالب علم توصیف الرحمان رہے۔اول مقام حاصل کرنے والے طالب علم کو 15 ہزار ) پندرہ ہزار، دوم پوزیشن کو 10 ہزار ) دس بزار، اور سوم پوزیشن کو 8 ہزار ) آٹھ ہزار ) روپے نقد انعامی رقم سے نوازا گیا، نیز پوزیشن لانے والے طلبہ کے اساتذہ کی خدمت میں بھی تحائف پیش کئے گئے۔

ساتھ ہی ساتھ مسابقۃ القرآن الکریم میں سبھی مدارس کو توصیفی اسناد اور انعامات پیش کیے گئے ۔آخیر میں تقسیم انعامات کے بعد مولانا.نجم الدین قاسمی کی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ مسابقۃ القرآن الکريم اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر مولانا نجم الدین مہتمم جامعہ حسینیہ کڈرو، مولانا زبیر احمد غفرلہ مہتمم مدرسہ دارالقرآن، مولانا محمد رفیق احمد قاسمی، حضرت قاری صہیب احمد، مولانا مفتی احمد بن نذر، مولانا مفتی محمد بن نذر، مولانا عبدالماجد المظاہری مدرس مدرسہ انورالعلوم،

مولانا محمد کاشف قاسمی، قاری عبدالحفیظ عرفانی، مولانا شوکت نعمانی، حافظ علی آصف، قاری محمد طیب عرفانی، مولانا محمد تبریز قاسمی، حافظ محمد انور اسلام، مولانا محمد عرفان ندوی، مولانا دلشاد حسین ندوی، مولانا محمد معصوم اطہر اشاعتی، مولانا محمد پرویز المظاہری، مفتی عرفان، مفتی فیروز، حافظ تنویر سمیت سینکڑوں لوگ موجود تھے۔









