روزہ اسلام اور دیگر مذاہب میں


مولانا عبدالواجد رحمانی چترویدی سکریٹری جمعیۃ علماء جھارکھنڈ
دنیامیں آباد انسانوں کو صحیح طور پر زندگی گزارنے کے لیے مذہب عطا کئے گیے تاکہ انسان دنیا کی اس زندگی کو مالک کے حکم کے مطابق گذار سکے
مذاہب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ انسان کی پیدائش کا اصلی مقصد پیدا کرنے والے مالک و خالق کی بندگی اور اسکی عبادت ہے دنیا میں رائج مذاہب میں عبادت وریاضت کے مختلف طریقے بیان کیے گیے ہیں جن میں ایک طریقہ روزہ بھی ہے روزہے کا تصور دنیا میں موجود تمام مذاہب میں الگ الگ صورتوں میں پایا جاتا ہے جس کا مقصد خواہشات نفسانی کو مٹاکر قلب ونظر کو پاک کرنا اور تقوی اختیار کرنا ہے۔
اسلام میں روزہ اہمیت: اسلام کے بنیادی ارکان پانچ ہیں
نمبر 1.کلمہ شہادت یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں
نمبر 2۔ نماز قائم کرنا
3۔زکوۃ دینا
4۔رمضان کے روزے رکھنا 5۔حج کرنا
اسلام میں روزہ کو اسلام کی بنیادوں میں شامل کیا گیا ہے اور یہ اسلام کی ایک اہم ترین عبادت ہے جو تمام مسلمان عاقل بالغ مرد عورت پر فرض ہے جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ۔
يا ايها الذين آمنو كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون
اۓ ایمان والوں تم پر روزے فرض کیے گیے جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گیے تھے تاکہ امید ہے تم متقی بن جاؤ۔
مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ مسلمانوں پر فرض ہے
2۔روزہ اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض رہا
3۔روزہ کے ذریعے آدمی متقی بن جاتا ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر ایک مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے جسکے دن کا روزہ تم پر فرض کیا گیا ہے
اسی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھر مسلمان روزہ رکھتے ہیں تاکہ انھیں روح کی طہارت اور تقوی نصیب ہو جاۓ۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کیا دوسرے مذاہب میں بھی اسلام کی طرح روزے کا حکم ہے یا روزے رکھنے کا کوئی تصور موجود ہے ۔
یہودی مذہب یہودیت ایک قدیم آسمانی مذہب ھے جسکی کی تعلیمات اور عقائد میں روزہ شامل ہے یہودی مذہب کی کتابوں میں انفرادی واجتماعی روزوں کا ذکر موجود ہے انفرادی روزوے عام طور پر گناہوں کا کفارہ اور قلب ونظر کی طہارت و پاکیزگی کے لیے رکھا جاتا ہے اور اجتماعی روزوں کا مقصد خدا کی رحمت کو متوجہ کرنے کے لیے روزے میں یہودی خدا سے دعا کرتے ہیں کہ خدا اپنی رحمت نگاہ بنی اسرائیل کی طرف ڈال دے
یہودیوں کے یہاں سب سے مقدس روزہ یوم کپور کا روزہ ہوتا ہے اسکے علاوہ عاشورہ کابھی روزہ رکھتے ہیں حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لاۓ تو دیکھا یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر ان لوگوں نے بتایا کہ اس دن ہم یادگار طور پر مناتے اور روزہ رکھتے ہیں اسی دن موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ نے فرعون کے ظلم سے نجات عطا کی کی تھی
یہودی اپنی روحانیت پر سختی کے توجہ مرکوز کرنے کے لیے بھی روزہ رکھتے ہیں یہودی شادی کے دن بھی روزہ رکھتے ہیں اور انکا عقیدہ کے شادی کے دن روزہ رکھنا دولہا دلہن کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے کتاب احبار میں ہے
ابتدائی موسم کے مقررہ مہینے کے کے دسویں دن تمہیں اپنی ذات سے پہلو تہی کرنی چاہئیے نہ ہی کوئی اسرائیلی نہ ہی کو کوئ تمہارے بیچ رہنے والا کوئی بھی کام یا شرب و طعام کرسکتا ہے ؛تمہیں اس دن پاکیزگی عطا کی جاۓ گی اور تم خدا کی بارگاہ میں سب گناہوں سے پاک کر دۓ جاؤگے ‘یوم سبت تمہارے لیے مکمل آرام کا دن ہوگا اس دن تم خود سے پہلو تہی کرو گے (احبار29-16:31)
عیسائیت میں روزہ
عیسائی بھی یہودی کی طرح روزہ رکھتے ہیں حضرت عیسو مسیح اپنے شاگردوں کو ہدایت کی کہ
“اور جب تم روزہ رکھو تو اسے ظاہر نہ کرو جیسا کہ منافق کرتے ہیں اس لئے وہ شکستہ حال اور پریشان دکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگ روزہ کی وجہ سے انکی تعریف کریں میں تمہیں سچائی بتاتا ہوں کہ صرف اجر ہی ہے جو انھیں ملےگا ؛جب تم روزہ رکھو تو کنگھی کرو منہ دھؤو ؛اس لیے کہ کوئی جان نہ سکے گا کہ تم روزہ سے ہو سواۓ تمہارے خدا کہ جو ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو تم خفیہ طور پر کرتے ہو اور تمہارا خدا جو سب کچھ دیکھتا ہے تمہیں اس کا اجر وثواب دے گا(متی 6:16)
عیسائیت میں روزے شکل کھانے پینے اور جماع سے مکمل پرہیز کرنا ہے مگر اس پر عمل عیسائیت کے سب فرقے نہیں کرتے بعض مخصوص کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جوش اور دیگر اشیٹکا استعمال جائز سمجھتے ہیں بعض مخصوص ایام میں گوشت وغیرہ سے پرہیز کو ہی روزہ سمجھتے ہیں رومن کیتھولک روزہ کو روحانیت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ سمجھتے رون کیتھولک فرقے میں چالیس دن کا بھی روزہ رکھا جاتا ہے
عیسائیت میں گڈ فرائیڈے کا روزہ بھی اہم مانا جاتا ہے
ہندو دھرم اور روزہ
ہندو مذہب میں روزہ بنادی اہمیت رکھتا ہے ہر اہم تیج تہوار کے موقعوں اور پوچا پاٹ کے وقت ہندو روزہ یعنی برت رکھتے ہیں یہ روزے خاص طور دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے اور روحانیت کو ترقی دینے کے لیے رکھے جاتے ہیں بعض موقعوں پر ہندو خواتین اپنے شوہر کی درازی عمر کے لیے برت روزہ رکھتی ہیں
مہابھارت اور پرانوں کے مطابق روزہ محض اپواس (فاقہ )نہیں بلکہ روح کی پاکیزگی نفس کا تزکیہ گناہوں کا کفارہ اور خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے
روزہ یا برت کے ذریعے انسان جسم وروح کی بے شمار بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے
بالمیکی رامائن میں ہے کہ سب سے پہلے شری رام چندر جی نے روزہ برت رکھا
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ راون پر لشکر کشی سے پہلے بھی برت کیا گیا
ہندو دھرم میں اجتماعی روزے کا تصور نہیں ملتا تاہم روزے یعنی برت کا ذکر کثرت سے کیا گیا ہے کچھ خاص دن ہیں جس میں ہندو دھرم کے لوگ برت یعنی روزہ رکھتے ہیں
تہواروں پوچا پاٹ کے موقعوں پر
ایکادشی کے موقعے پر
چھٹ کے موقعے پر عورتیں روزہ رکھتی ہیں
ہندو برت میں اناج کے علاوہ پھل دودھ یا دوسرے مشروبات استعمال کرتے ہیں بعض برت ایسے جس میں ان پانی سب کی ممانعت ہوتی ہے
بہرحال روزہ کا تصور تمام مذاہب میں موجود ہے جسے روحانیت کی ترقی کا زینہ روح کی پاکیزگی قلب کا سکون تزکیہ نفس اور خدا کی رحمت کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے








