All India NewsBlogJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

جامعۃ المسلمات اسلام نگر جاڑی بناپیڑھی میں الوداعی تقریب کا انعقاد

Share the post

آج بتاریخ 29جنوری 2026 بروز جمعرا ت جامعۃ المسلمات اسلام نگر جاڑی، بناپیڑھی، رانچی میں ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئ ۔ اس مجلس کی صدارت محترمہ سعیدہ طلعت صالحاتی صاحبہ نے انجام دی۔‌ یہ پروگرام صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک جاری رہا‌ ۔عالمیت کی تعلیم مکمل کرکے فارغ ہونے والی طالبات نے جامعہ کے نظام تعلیم اور گزارے ہوۓ دنوں کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار نظم ونثرمیں کیا، اور عربی چہارم و عربی سوم کی طالبات نے ان کے اعزاز میں الوداعیہ مضامین و نظم وغیرہ پیش کیا۔ سال رواں جامعہ ہذا سے جھارکھنڈ اور بہار کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی 9 طالبات نے سند فراغت حاصل کی ،اور اساتذہ کرام نے نیک دعاؤں کے ساتھ انہیں رداۓ فضیلت عطاء کی ۔ نیز تشریف لانے مہمانوں نے اپنے مثبت اور حوصلہ بخش تاثرات کا اظہار فرمایا۔


جناب مولانا صابر حسین مظاهری نے قرآن مجید کی آیت کریمہ” يا نساء النبي لستن كأحد من النساء“ سے استدلال کرتے ہوۓ فرمایا ” کہ جو طالبات مدرسے میں علوم نبوت حاصل کر رہی ہیں ، وہ اللہ کے جانب سے منتخب اور چنندہ ہیں۔ وہ عام نہیں بلکہ خاص ہیں ، اللہ تعالیٰ نے علوم شریعت کی حفاظت ، معاشرے اور خاندانی نظام کی اصلاح کے لئے ان کو چنا ہے۔ تاکہ وہ علم حاصل کرکے سماج کی برائیوں کو دور کرنے اور بہترین نسل تیار کرنے میں نمایاں خدمات انجام دے سکے“ اسی طرح مفتی طلحہ ندوی نے آیت کریمہ” فلولا نفر من كل فرقة طائفة ليتفقهوا فى الدين “ کی وضاحت کرتے ہوۓ فرمایا کہ جس طرح مردوں کے ذمہ لازم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت تفقہ فی الدین حاصل کرے۔ علوم شریعت کو مکمل طور پر حاصل کرے اور قوم کی اصلاح کا فریضہ انجام‌ دے ، اسی طرح خواتین کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان میں بھی کچھ خواتین ایسی ہوں جو علوم شریعت میں کمال پیدا کریں ، اور خاص طور پر خواتین سے متعلق مسائل کے بارے میں گہری واقفیت حاصل کریں۔ تاکہ دین کے احکام و مسائل ہر خاتون تک مکمل طور پر پہونچایا سکے “اسی طرح دارالعلوم اور جامعۃ المسلمات کے ناظم جناب مولانا ضیاءالہدی اصلاحی نے طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا جو کچھ بھی تم نے پڑھا ہے اسے زندگی کے معمولات میں شامل کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ جامعۃ المسلمات کے انچارج عبدالجبار قاسمی نے جامعہ کا تعارف کراتے ہوۓ بتایا کہ جامعۃ المسلمات کہ ابتدا اصلا 1981۔82 عیسوی میں بناپیڑھی کے ایک مکتب سے ہوئی اس وقت اس کا نام جامعۃ المحسنات رکھا گیا تھا ، لیکن باضابطہ 1995 میں مولانا عبدالسبحان ندوی مولانا شرف الحق ندوی مولا نظام الدین عبدالرحمن ندوی اور مولانا ضیاء الہدی اصلاحی کی کوششوں سے دارالعلوم کے احاطے میں جامعہ کی شروعات کی گئی تو بقول حضرت مولانا عبدالسبحان صاحب ندوی اس جامعہ کا نام مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی الحسنی رحمہ اللہ علیہ کے ایماں پر جامعۃ المسلمات رکھا گیا ۔ الحمدللہ یہ مدرسہ تقریبا 30 سالوں سے دینی، علمی، ادبی ، تربیتی ، فکری اور اسلامی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ابتداء ہی سے اس مدرسہ کے نصاب تعلیم میں دینیات کے ساتھ ساتھ عصریات کو بھی شامل کیا گیا۔ ہر سال طالبات کی ایک معتد بہ تعداد عالمیت کے ساتھ ساتھ میٹرک کی تعلیم مکمل کر کے فارغ ہوتی ہے۔ اور اصلاح معاشرہ و اصلاح خاندان میں اپنی نمایاں خدمات انجام دیتی ہیں۔ اس ادارہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہاں پر عالمیت تک قرآن، تفسیر، حدیث ، فقہ، اردو و عربی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ ہندی، انگریزی ، حساب اور سائنس کی تعلیم میٹرک تک جھارکھنڈ بورڈ کے مطابق فراہم کی جاتی ہے۔ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے یہ ادارہ آج پورے جھارکھنڈ میں اپنا نمایاں مقام و اہمیت رکھتا ہے۔ آپ بھی اپنے نو نہالوں کے خوبصورت مستقبل کے لئے اس ادارہ کا انتخاب کریں۔
آج کے اس پروگرام میں ناظم مدرسہ جناب مولانا ضیاء الہدی اصلاحی ، جناب مولانا صابر حسین صاحب مظاهری صدر مجلس علماء جھارکھنڈ، مولانا شرف الحق صاحب ندوی، جناب مفتی طلحہ صاحب ندوی جنرل سکریٹری مجلس علماء جھارکھنڈ، جناب مولانا عبد السبحان صاحب ندوی ، مولانا رضوان صاحب ندوی و قاسمی ، مولانا جمشید عالم ندوی، مولانا عبد الجبار قاسمی ،اور مدرسہ کے تمام اساتذہ ،معلمات طالبات اور دور دراز سے تشریف لاۓ ہوۓ علماء کرام اور مہمانان گرامی شریک تھے۔ حضرت مولانا شرف الحق صاحب ندوی کی دعاء پر اس تقریب کا اختتام ہوا۔

Leave a Response