مدرسہ حسینیہ ‘رانچی کے سالانہ انعامی و اختتامی پروگرام میں علمی، دینی اور عصری سرگرمیوں کا شاندار مظاہرہ


مشرقی ہند کی عظیم دینی درسگاہ اور اسیر مالٹا شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کی ہندوستان میں پہلی یادگار مدرسہ حسینیہ ‘حسین آباد ‘ کڈر و ‘رانچی کے سالانہ انعامی و اختتامی پروگرام کا انعقاد نہایت تزک و احتشام اور نظم و ضبط کے ساتھ عمل میں آیا، جس میں سالانہ امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے والے طلبہ اور اختتامی پروگرام کے دوران تلاوتِ قرآن کریم، نعتِ رسول ﷺ، نظم اور تقریری مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔

پروگرام میں شرکت کے لیے دو سو سے زائد طلبہ نے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے جانچ و انتخاب کے بعد ایک سو سے زائد طلبہ کو مختلف مقابلہ جاتی مراحل میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا۔ یہ پروگرام تین نشستوں میں منعقد ہوا، جو صبح سے دوپہر تک اور پھر ظہر سے عصر تک جاری رہا۔ ان نشستوں کے دوران طلبہ نے اپنے علمی، فکری اور تخلیقی جوہر کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
طلبہ نے تلاوتِ قرآنِ کریم، نعتِ رسول ﷺ، نظم خوانی اور عربی، اردو و انگریزی زبانوں میں تقاریر ‘ عربی زبان میں مکالمےپیش کیے ، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ ہر گروپ کے لیے دو دو معزز ججز مقرر کیے گئے تھے، تلاوت کے لیے قاری محمد شکیل صاحب اور قاری محمد اسرائیل صاحب ‘ نعت کے لیے قاری محمد احسان صاحب اور قاری مشتاق احمد صاحب جب کہ تقاریر کے لیے مفتی محمد قمر عالم صاحب اور مفتی اشفاق اقبال صاحب انھوں نے مقررہ اصولوں کے مطابق طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور نمبروں کی بنیاد پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا انتخاب کیا گیا۔
مفتی محمد قمر عالم قاسمی مدرس درجہ عربی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے طلبہ کو ان کی دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اور کامیابی کے راز بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کے اندر محنت ‘لگن ‘ وقت کی پابندی اور صبر ہوگا وہ دنیا اور آخرت میںکامیاب ہوگا مزید انہوں نے کہا کہ علم کے ساتھ عمل، اخلاص اور کردار سازی ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔
اسی موقع پر مدرسہ کے روحِ رواں حضرت الحاج مولانا محمد صاحب قاسمی، مہتمم مدرسہ، نے اپنے صدارتی خطاب میں مدرسہ کی مختصر تاریخ پر روشنی ڈالی اور حضرت مدنیؒ سے مدرسہ کی نسبت کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے مدرسہ میں بزرگوں اور اللہ والوں کی آمد، ان کے فیوض و برکات کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کی بہتر کارکردگی پر مسرت کا اظہار کیا اور تعلیمی و تربیتی معیار کو مزید بلند سے بلند تر کرنے کے عزم کا اعادہ بھی فرمایا۔
حضرت مہتمم صاحب نے بتایا کہ مدرسہ میں اس وقت دینیات، حفظِ قرآن، تجوید و قراءت اور شعبۂ عربی کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کلاسز اور جمعیۃ اسٹڈی سینٹرکے تحت این آئی او ایس بورڈ کے ذریعہ میٹرک اور بارہویں جماعت کی معیاری عصری تعلیم بھی جاری ہے، تاکہ طلبہ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کر سکیں اور زمانے کے چیلنجز کا حسن و خوبی کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔
مدرسہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئےشہر اور اطرف شہر سے کثیر تعداد میںمعزز ڈاکٹر ‘وکلاء اور بہی خواہانِ مدرسہ اور طلبہ کے سرپرست حضرات نے اپنے قیمتی اوقات فارغ کر کے پروگرام میں شرکت کی، جس سے تقریب کی وقارمیں مزید اضافہ ہوا۔حضرت مولانا محمد کلیم صاحب مظاہر ی بنگلور نے بھی طلبہ کے تعلیمی مظاہرہ اور کارکردگی پر مسرت کا اظہا ر فرمایا اور اپنے قیمتی تا ٔثرات سے نوازا۔
بعد نماز مغرب تیسری نشست میں حضرت مہتمم صاحب اور معزز اساتذۂ کرام کے دستِ مبارک سے کامیاب طلبہ کو قیمتی دینی و تعلیمی کتابیں، اسنادِ امتیاز اور شال پیش کیے گئے۔
سالانہ امتحا ن میں درجہ عربی میں محمدعرباض کوڈرمااول ‘ محمدنصیر الدین چترادوم ‘محمدصنور حسین گریڈیہ سوم ‘ شعبہ حفظ کی مختلف درسگاہوں میں بالترتیب اول ‘دوم اور سوم پوزیشن لانے والے طلباء محمد عفان اڈیشہ اول ‘ محمدسالم ظفر لوہردگا دوم ‘محمد سعد امروز رانچی سوم ‘محمد حذیفہ خان بیگوسرائےاول ‘ عبدالاحدگیادوم ‘ محمد انس لوہردگاسوم ‘ محمددلشاد چترااول ‘آفتاب عالم پورنیہ دوم ‘ عابد حسین دھنباد سوم ‘ محمد جنید دربھنگہ اول ‘ محمد حسنین دربھنگہ دوم ‘ محمدشرف الدین بانکاسوم ‘ محمدتوقیر چترااول ‘ محمدسمڈیگادوم ‘ محمد سرفراز رانچی سوم‘ مجیب الرحمٰن رام گڑھ اول ‘ عبدالرافع گڈادوم ‘نعمان سعدپلاموں سوم ‘ محمد انس سہیل رانچی اول ‘ محمد کیف (خرد)رانچی دوم ‘ ابوریحان(اعمیٰ)‘رانچی دوم ‘ محمدمشرف دھنبادسوم اسی طرح درجہ دینیات میں عامر آفریدی رانچی اول ‘ عفان سمیع ‘رانچی دوم اورمحمد معمرافسرگملانےسوم پوزیشن حاصل کی۔
اور آج کے انعامی مسابقہ میں
تلاوت میںانس احمد ہندپیڑھی اول ‘ محمد اسمٰعیل رام گڑھ دوم ‘ محمد حسنین ڈھیپاٹولی دوم ‘ عبدالحفیظ رانچی سوم ۔نعت میں محمد کیف خان رانچی اول ‘ محمد اجمل انصاری ‘ رانچی اول ‘ محمد ابوریحان رانچی دوم ‘ محمد عفان لاتیہار سوم‘ محمد بن اسعد سمڈیگا سوم ۔اردو تقریر میں عبیداللہ آندھراپردیش اول ‘ منہاج عالم ارریہ دوم ‘ عبدالماجد دھنباد سوم ‘ محمدابوبکر گریڈیہہ سوم ‘ محمد احتشام الحق رانچی چہارم ‘ محمد عرش رانچی چہارم ‘ مجیب الرحمٰن رام گڑھ چہارم ‘ محمد سنجر نواز پلاموں پنجم ‘ ۔عربی تقریر میں محمد سہراب گریڈیہہ اول ‘ محمد انس شیخ رانچی دوم ۔عربی مکالمے میں محمد عرباض کوڈرما اول ‘ محمد نصیر الدین دوم ‘ محمد سہراب گریڈیہہ سوم ‘ محمد منہاج ارریہ سوم ۔عربی محادثہ میں محمدشعیب اختر رانچی اول ‘ محمد نفیس دربھنگہ دوم ‘ محمد تمیم انصاری دیوگھر سوم ۔حفظ حدیث میں محمد عمر لاتیہار اول ‘عدنان گملا اول ‘ابوریحان لاتیہار دوم ‘ اورنگ زیب نالندہ دوم ‘ ۔سیرت کوئز میں ابوبکر رانچی ‘ حماد نقیب اول ‘ محمود عالم رانچی دوم ‘ آیت اللہ ہندپیڑھی سوم ۔اسلامی معلومات کوئز میں محمدشفیق پرولیا اول ‘ محمد اریب ہنہٹ لوہردگا دوم ۔مسنون دعاء میں محمد حمدان اسلم رام گڑھ اول ‘ محمد امان اختر اڈیشا دوم ‘ ۔انگلش تقریر میں محمدسفیان لاتیہاراو‘ محمد ایان انیس ہزاریباغ نے پوزیشن حاصل کی ۔
دعا کے ساتھ اس بامقصد اور کامیاب پروگرام کا اختتام ہوا، جو ادارہ کی ہمہ جہت تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا ایک روشن نمونہ ثابت ہوا۔








