ڈاکٹر پرویز اختر پرنسپل مولانا آزاد کالج کے بڑھتے قدم( مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی 7004951343)


اسلام نے تعلیم کو خدا شناسی ، خود شناسی اور صحیح و غلط اور حق و باطل کو جاننے اور پہچاننے کا سبب قرار دیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام علم کی ترویج و اشاعت اور حصول کی کوششوں کو سراہتا ہے ، دور دراز کے علاقے میں اگر علم کا چشمہ جاری ہو تو وہاں جاکر علم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے ، دینی اور دنیاوی تعلیم کی تقسیم بنیادی طور پر ایک غلط تقسیم ہے ، کیونکہ اسلام خلوص و للہیت کے جذبے سے کئے گئے مسلمانوں کے سارے اعمال کو عبادت کہتا ہے ، اس طرح مسلمانوں کے سارے کام اسلامی اور دینی ہوجاتے ہیں ، اگر ان کا رشتہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑا رہے ، اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو بہت سارے کام جو عبادت کے طور پر مشہور ہیں وہ بھی عبادت باقی نہیں رہتے ، اسی جذبہ عبادت سے سرشار ہو کر امام الھند مولانا ابوالکلام آزاد نے رانچی کے مسلمانوں کی جہالت و لاعلمی کو قریب سے دیکھتے ہوئے رانچی میں اپنی اسیری کے چار سالہ( 19016- 19019) دور میں رانچی کی سر زمین میں علم کا ایک چراغ ” مدرسہ اسلامیہ ” کے نام سے روشن کیا ، علم کا یہ چراغ مدتوں مدرسہ اسلامیہ اپر بازار رانچی کی اس عمارت میں روشن رہا لیکن بعد میں اس علم کے چراغ کی لَو دھیمی ہوتی چلی گئی ، جس مدرسہ کی عمارت میں نقارہ حریت البلاغ پریس کی نہ صرف ساری رقم پیوست ہے بلکہ مزدوروں کے ساتھ مولانا آزاد کا بہا ہوا گراں قدر پسینہ بھی شامل ہے ،
انقلاب زمانہ نے جب مولانا آزاد کو بھلا دیا تو اس عمارت کو اب کون پوچھے ؟ جو قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود مولانا آزاد کی اصلاحی کوششوں کا ایک بولتا ہوا نمونہ ہے ،19067 میں رانچی کے مشہور و معروف فرقہ وارانہ فسادات کے بعد جب مدرسہ اسلامیہ کی نچلی منزل پر قائم دارالاقامہ رحمانیہ مسافر خانہ مین روڈ رانچی میں منتقل ہوگیا تو رانچی شہر کے چالیس مخیر اور ہمدردان قوم و ملت اور تعلیم کے دلدادہ حضرات نے مسلمانوں میں عصری علوم کی ترویج و اشاعت کی خاطر مولانا آزاد کی قائم کردہ مدرسہ اسلامیہ کی عمارت کی نچلی منزل میں ” مولانا آزاد کالج ” (19071-72) قائم کیا، پہلی منزل پر مدرسہ اسلامیہ کافی عرصے تک بدستور قائم رہا لیکن اب مولانا آزاد کی تعمیر کردہ عمارت میں صرف مولانا آزاد کالج قائم ہے ، مدرسہ اسلامیہ اپنی اصل عمارت سے ہجرت کرکے انجمن اسلامیہ رانچی کی نئی تعمیر شدہ چند کمرے میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے ، مولانا آزاد کالج ہائیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی آف انجمن اسلامیہ رانچی کے تحت آج بھی قائم ہے اور مولانا آزاد کے تعلیمی مشن کی راہ پر گامزن ہے ، مولانا آزاد کالج رانچی یونیورسٹی رانچی سے ملحق ہے ، اس کالج میں کئی پرنسپل آئے اور ریٹائر ہو کر چلے گئے ، ان میں سے اکثر و بیشتر نے وقت گزاری کے سواء کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا جسے بطور مثال اور یادگار پیش کیا جا سکے ، ان میں سے کسی نے مولانا آزاد کالج کا دروپدی کی طرح چیر ھرن کیا تو کسی نے گورے انگریزوں کی طرح اپنی بدعنوانیوں سے اسے داغدار اور پورے شہر میں بدنام کردیا جس کے بدنما داغ کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے لیکن مخالفین کی مخالفت اور حاسدین کے حسد اور بدخواہوں کی بدخواہی سے یہ کالج آج بھی پیچھا نہیں چھڑا پا رہا ہے، کسی نے اس کی عزت و آبرو کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، مولانا آزاد کالج اس طرح کے پرنسپل کے ہاتوں عروج و زوال کے دور سے گزرتا ہوا جب 2022 میں پہنچا تو اسے پرنسپل کی کرسی سے زیادہ کالج سے پیار کرنے اور اس کی حالت کو سدھارنے اور دن رات کالج کی ترقی اور اس کی فلاح و بہبود میں متفکر رہنے والا ایک جنونی پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر کی شکل میں ملا ، جس نے پرنسپل کے عہدے اور کرسی کو اپنی ذات کی سربلندی کے لئے نہیں بلکہ مولانا آزاد کالج کے کھوئے ہوئے وقار کو بلند کرنے ، بوسیدہ عمارت کو درست کرنے ، اس کی تعلیم و تربیت کے معیار کو بلند کرنے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لئے استعمال کیا اور ہنوز کر رہے ہیں ، ڈاکٹر پرویز احمد بنیادی طور پر دھوبی گلی ھند پیڑھی کے رہنے والے ہیں اور شہر کے مشہور و معروف وکیل ابو الفضل مرحوم کے لڑکے ہیں ، جناب ابو الفضل مرحوم ہائیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی آف انجمن اسلامیہ رانچی جس کے تحت مولانا آزاد کالج چلتا ہے کے فاونڈر نائب صدر رہے ہیں ، سوسائٹی کے دستور میں آج بھی ان کا نام اسی عہدہ کے ساتھ درج ہے ، ہائیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی آف انجمن اسلامیہ رانچی اور اس کے تحت چلنے والا مولانا آزاد کالج کا عملی خاکہ شہر رانچی کے جن چند مخلص اور نیک دل افراد نے تیار کیا تھا اس میں ایک اھم اور مرکزی نام ڈاکٹر پرویز اختر پرنسپل مولانا آزاد کالج کے والد محترم جناب ایڈوکیٹ ابو الفضل مرحوم صاحب کا تھا ، ایڈوکیٹ ابو الفضل صاحب مرحوم کو مولانا آزاد کالج کا پہلا چئیرمن ہونے کا فخر اور اعزاز حاصل ہے
، ڈاکٹر پرویز اختر صاحب مشہور و معروف یورولوجی ڈاکٹر سعید احمد صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں ، ان کا پورا گھرانہ عصری علوم سے آراستہ رہا ہے ، لانبے قد و قامت ، گوارا رنگ ، گول چہرہ ، چمکتی آنکھیں ،ہمیشہ صاف و شفاف لباس میں ملبوس ، بلند اخلاق و کردار کے مالک ڈاکٹر پرویز اختر صاحب پُرکشش شخصیت کی تمام صفات غالباََ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ، ڈاکٹر پرویز اختر صاحب بنیادی طور پر کامرس کے بہت ہی باصلاحیت اور ذی استعداد پروفیسر ہیں ، ڈاکٹر پرویز اختر صاحب نے جب 2022 میں مولانا آزاد کالج کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے سب سے پہلے کالج کے تعلیمی ماحول کو تمام اساتذہ و ملازمین کے تعاون سے بہتر بنانے کی تمام تر ممکنہ کوششیں کیں جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں ، اس کے بعد انھوں نے کالج کی بوسیدہ عمارت کو درست کروایا ، رنگ و روغن کا کام کروایا ، کالج کے تمام کمروں میں اور ہال میں کارپیٹ بچھوایا ، روشنی اور پنکھے کا انتظام کیا ، اسٹوڈینٹس اور اسٹاف کے لئے پینے کے پانی کا الگ الگ انتظام کرایا ، اسی طرح طلباء و طالبات اور اساتذہ و ملازمین کے لئے الگ الگ بیت الخلاء بنوایا ، کالج کی لائبریری کو نئی شکل دی گئی ، نصاب تعلیم کے مطابق کتابیں منگوائی گئیں ، جنرل سیکشن ، اکزامینیشن سیکشن ، اکاؤنٹ سیکشن اور انٹر سیکشن کے دفتر کو مزین کیا گیا ، کالج کے پچھلے صحن کو ٹائیلس بچھا کر خوبصورت بنادیا گیا جس سے اب صحن میں برسات کا پانی جمع نہیں ہوتا ہے ، کالج کے ہر کمرے میں لیکچرر ٹیبل (پوڈیم) کا انتظام کیا گیا تاکہ پروفیسر پُروقار انداز میں طلباء کو پڑھا سکیں اور لکچر دے سکیں ، مولانا آزاد کالج کی پرانی عمارت کے پیچھے تیسری منزل کی تعمیر کرائی گئی ، کالج کا اپنا کوئی ویب سائیڈ نہیں تھا ، ڈاکٹر پرویز اختر صاحب نے کالج کا اپنا ویب سائیڈ بنوایا جہاں سے تمام جانکاریاں لی جا سکتی ہیں ، کالج کی بوسیدہ عمارت کو ڈاکٹر پرویز اختر صاحب نے اندر اور باہر سے اس چمکا دیا ہے کہ اب لوگ کہنے لگے ہیں کہ پہلے کے مولانا آزاد کالج میں اور اب کے مولانا آزاد کالج میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے ، اب کالج کے احاطے کو دیکھتے ہی دل باغ باغ ہو جاتا ہے ، یہ ساری کرشمہ سازی ڈاکٹر پرویز اختر صاحب کے بڑھتے قدم کا نتیجہ ہے ، مولانا آزاد ڈگری کالج کے لئے کالج بلڈنگ فنڈ سے انجمن اسلامیہ رانچی کے سابق صدر جناب ابرا احمد صاحب کے دور صدارت میں پانچ ایکڑ زمین جو بانا پیڑھی راتو رانچی میں لی گئی تھی اس میں باؤنڈری کا کام جناب ڈاکٹر پوریز اختر پرنسپل مولانا آزاد کالج نے ہی موجودہ صدر جناب حاجی مختار احمد اور کالج کے سکریٹری جناب امتیاز علی کے تعاون و اشتراک سے شروع کرایا جو ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، لیکن مولانا آزاد کالج کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کا سفر جاری ہے جس کے لئے پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر صاحب جی جان سے لگے ہوئے ہیں ، مولانا آزاد کالونی میں واقع مولانا آزاد کالج کی پہلے سے لی گئی زمین پر علیحدہ انٹر سیکشن کھولنے کی پہل و کوشش میں پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر صاحب دن رات لگے ہوئے ہیں ، مولانا آزاد کالج کی تعمیر و ترقی اور اس کے وجود کی بقاء میں پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر صاحب اس طرح لگے رہتے ہیں جیسے انھوں نے مولانا آزاد کالج کو گود لے لیا ہو ، پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر صاحب نے اپنے سے قبل پرنسپل کا ہمیشہ تعاون کیا ہے اور بھرپور ساتھ دیا ہے ، کالج کے اساتذہ و ملازمین کا جب بھی کوئی قانونی معاملہ رانچی یونیورسٹی یا ایچ ، آر ، ڈی میں زیر غور یا زیر التواء رہا ہے تو ایسے معاملوں کا قانونی راستہ ڈاکٹر پرویز اختر صاحب نے ہی نکالا ہے ، مختصر یہ کہ ڈاکٹر پرویز اختر صاحب نے کالج کو ہمیشہ مشکلات اور پریشانیوں سے باہر نکالا ہے اور ہمیشہ منفی کے بجائے مثبت راستہ اختیار کیا ہے ، مولانا آزاد کالج کی ترقی اور اس کو آگے بڑھانے کی راہ میں ڈاکٹر پرویز اختر صاحب پرنسپل مولانا آزاد کالج رانچی کے بڑھتے قدم کو اگر روکا نہ گیا اور اس کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے گئے اور سب نے ان کا خلوص دل سے ساتھ دیا تو اپنی علمی و فکری صلاحیتوں سے مولانا آزاد کالج رانچی کو ترقی کی اس منزل اور سربلندی کے اس مقام پر پہنچا دیں گے جس کا خواب رانچی کے مسلمان دیکھتے ہیں اور سنت زیوئرس کالج اور گاسنر کالج کی مثال دیتے نہیں تھکتے ہیں ، مولانا آزاد کالج آج بھی دوسرے ترقی یافتہ کالجوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے بشرطیکہ کہ اس کے دشمن ، اس کے حاسدین اور اس کے بد خواہ اپنی منفی حرکتوں سے رک جائیں اور باز آجائیں ، وما توفيقي الا بالله








