رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند شاخ جھارکھنڈ زون 3 کا سالانہ امتحان اختتام پذیر


رانچی، لوہردگا، گملہ، کھونٹی سے 18 مدارس کے ڈھائی سو طلبہ نے شرکت کی
رانچی:(عادل رشید) رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے مقاصد میں ہندوستان کے مدارس کو مربوط کر کے ان کے نظام تعلیم و تربیت کو بہتر اور فعال بنانا ہے۔ ساتھ ہی وقت اور حالات کے اعتبار سے مفید ہدایات دینا اور درپیش مسائل کا مناسب حل کرنا ہے۔ تعلیم کو معیاری بنانے کے لیے ریاستی اعتبار سے صدور و نظماء منتخب ہیں۔ جن کی نگرانی میں صوبائی امتحانات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں مختلف اضلاع کے مدارس کے طلبہ اپنے اپنے مراکز میں امتحان کے لیے شرکت کرتے ہیں۔ جس سے مدارس کے اساتذہ و ذمہ داران میں احساس ذمہ داری اور طلبہ میں عمدہ صلاحیت پیدا کرنے کی صالح فکر ہوتی ہے۔

چنانچہ اسی پس منظر میں آج مورخہ 28 رجب المرجب بمطابق 18 جنوری 2026 کو ضلع رانچی، لوہردگا، گملا، کھونٹی کے 18 مدارس کے تقریبا ڈھائی سو سے متجاوز طلباء نے شرکت کی اور مرکز امتحان جامعہ حسینیہ جامعہ نگر کڈرو رانچی میں اپنا امتحان دیا۔ امتحان دو نشستوں پر مشتمل تھا۔ نشست اول 9 تا 12 بجے اور نشست دوم 2 تا 4 بجے تھا۔ بفضلہ تعالی امتحان نہایت صاف شفاف اور پرسکون ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ سالانہ اجتماعی امتحان حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب قاسمی ،صدر رابطہ صوبہ جھارکھنڈ ومہتمم مدرسہ اصلاح المسلمین سرکار ڈیہہ، حضرت مولانا عبدالقیوم قاسمی دار العلوم قاسمیہ مدرسہ چوک بلسوکرا و صدر رابطہ مدارس ضلع رانچی، حضرت مولانا نجم الدین قاسمی مہتمم جامعہ حسینیہ کڈرو رانچی کی ہدایات کی روشنی میں عمل میں آیا۔ نگراں کی حیثیت سے حضرت مولانا دلاور حسین صاحب قاسمی، صدر مدرس دارالعلوم قاسمیہ مدرسہ چوک بلسوکرا، حضرت مولانا منصور عالم مظاہری صدر مدرس مدرسہ عالیہ عربیہ کا نکے، جھارکھنڈ کے مشہور قاری قران حضرت قاری صہیب احمد صاحب مدرس مدرسہ عالیہ عربیہ، حضرت مولانا شہاب الدین مظاہری مدرس مدرسہ عالیہ تھے۔

حضرات ممتحینین میں حضرت قاری محمد سعید مدرس مدرسہ حسینیہ جمشیدپور، حضرت قاری محمد سہیل مدرس مدرسہ جامعہ رشید العلوم چترا، حضرت مولانا نظام الدین مدرس مدرسہ اصلاح المسلمین سرکار ڈیہہ، حضرت قاری نثار مدرس مدرسہ اصلاح المسلمین تھے۔ ان کے علاوہ جمعیت علماء جھارکھنڈ کے جنرل سیکرٹری جناب شاہ عمیر صاحب، شہر قاضی حضرت مولانا شعیب اختر ثاقبی، مفتی عمر فاروق، مولانا کاشف، مولانا گلفام، مولانا پرویز مولانا ندیم، مولانا ضیاء اللہ سمیت کئی معزز لوگ موجود تھے۔یہ اطلاع مولانا دلاور حسین قاسمی نے دی









