All India NewsBlog

ادبی چوپال فاؤنڈیشن دہلی کے زیرِ اہتمام محفل مشاعرہ

Share the post

نئی دہلی (پریس ریلیز)
ادبی چوپال فاؤنڈیشن دہلی کے زیراہتمام 18،پارک اینڈ کالونی،پریت وہار میں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔صدارت معروف شاعر اعجاز انصاری نے کی۔ جبکہ مہمانِ خصوصی حامد علی اختر تھے۔
مشاعرے کی نظامت کے فرائض اسلم بیتاب نے انجام دئے۔ شروع میں جوائنٹ کنوینر پنڈت پریم بریلوی نے تمام مہمانوں اور فاؤنڈیشن کا مختصر تعارف پیش کیا جبکہ فاؤنڈیشن کے بانی و چیئرمین خمار دہلوی نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر صدر مشاعرہ اعجاز انصاری نے آج کی محفلِ مشاعرہ کمیٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مشاعرے کی پامال ہوتی ہوئی تہذیب اور قدروں کا بھی تحفظ کرنا ہے۔
مہمانِ خصوصی حامد علی اختر نے کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن دہلی نے فروغِ اردوکے لئے نمایاں کردار ادا کیا ہے جو قابلِ ستائش ہے۔
پیش خدمت ہیں شعراےکرام کے منتخب اشعار۔
لمحاتِ خوشی زیست میں پائے نہیں جاتے۔
ایّام بغیر ان کے گزارے نہیں جاتے
(استاد شمیم ضمیری سردھنوی)

جنہوں نے جان دی تھی اے وطن تیری حفاظت میں۔
مہک ان کے لہو کی آج بھی مٹی سے آتی ہے
(اعجاز انصاری)

ہرایک سختیءِ راہ کو جھیل لوں گا
اگر تم چلو میرے شانہ بہ شانہ ۔
(حامد علی اختر)

آپکادعٰوی مسیحائی کا ہے
آپ قتلِ عام رہنے دیجئے۔
(خمار دہلوی)

یہ انتظار کے لمحے، یہ پنگھٹوں کے ستم۔
گراں میری سماعت پہ آہٹوں کے ستم۔
(قاضی نجم الاسلام نجم)

آنکھوں میں اشک، پاؤں میں زنجیر دیکھ کر،
وہ خود بھی رو پڑے مری تصویر دیکھ کر۔
(نعیم بدایونی)

بے سہاروں کی ڈھال بن جاؤ۔
زندگی میں مثال بن جاؤ
(اسلم بیتاب)

نہیں ہوتی کوئی دستک تو آنکھیں تلملاتی ہیں۔
نہیں آتا کوئی مہماں تو دسترخوان جل جاتا ہے
(سید غفران راشید)

زخم دینا ہے تو بیشک دیجئے۔
ساتھ ہم کو دیجئے مرہم الگ
(رام شیام حسین)

مجھے منظور جو کرتے نہیں تھے
انہیں منظور ہوتا جا رہا ہوں
(جاوید عباسی)

وہ، جسے ہم نے مسیحا کر دیا۔
چھین کر منہ سے نوالہ لے گیا۔
(پنڈت پریم بریلوی)

اچھا ہوں چند لوگ کی اچھی نگاہوں میں،
ہر آدمی کے واسطے اچھا نہیں ہوں میں
(اشوک صاحب)

احسان دوستوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوست
(احترم صدیقی)

کاغذ پہ جب اکیری ہے تصویر یار کی
کمرے کے سونے پن کا مقدر بدل گیا
(گولڈی غضب)

اس کے نام سے سجتی اور سنورتی ہوں۔
چھم-چھم کرتی پاؤں کی پایل کیا جانے
(صبا عزیز)

ماضی کی دیکھنے میں کتابیں جو کل گئی
دیکھا جو خط تمہارا تو حسرت مچل گئی
(گلبہار صدیقی)

یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ-لمحہ عجب اذیّت ہے
(ہما دہلوی)

خود کو اپنی نظر سے بچانا بھی ہے
اسلئے ‘روزی’ کاجل لگاتی ہوں میں
(روزی خان)
آخر میں صاحبِ خانہ قاضی نجم الاسلام نجم نے تمام مہمانوں اور شاعروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔.

Leave a Response