دارالعلوم سبیل الرشاد میں وفد کی حضرت مولانا مفتی احمد ثمال صاحب رشادی سے خصوصی ملاقات


مسلمانوں کی سیاسی پسماندگی کے خاتمے اور ملی مسائل کے حل پر تفصیلی گفتگو؛ علماء کے مؤثر سیاسی کردار پر زور
بنگلور، 21 اکتوبر الحمدللہ! منگل 20 اکتوبر کی شام کرناٹک کی مشہور و معروف قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد میں ایک وفد نے ادارے کے مہتمم اور آل انڈیا ملی کونسل، کرناٹک کے نومنتخب صدر، حضرت مولانا مفتی احمد ثمال صاحب رشادی دامت برکاتہم سے خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد کے اراکین نے حضرت مولانا کو آل انڈیا ملی کونسل، کرناٹک کی صدارت کے منصب پر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس وفد میں نوجوان عالم دین حضرت مولانا محمد عابد حسین صاحب اشاعتی دامت برکاتہم، مہتمم مدرسہ عربیہ احسن العلوم للبنات و جنرل سیکریٹری جمعیت علماء شرجاپور، عالی جناب انجینیئر محمد نذیر احمد صاحب، سابق بی ڈی اے ممبر و کرناٹکا اسٹیٹ بھارتی بہوجن الائنس کوارڈینیٹر، جناب عبدالعزیز صاحب بامسیف کرناٹک،معلم صبیح انور صاحب اور کراٹے ماسٹر خواجہ صاحب اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔
ملاقات کے دوران ملک کے موجودہ حالات، مسلمانوں کو درپیش ملی و سماجی مسائل، سیاسی پسماندگی کے اسباب اور مسلمانوں کی سیاسی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے حوالے سے طویل اور اہم تبادلۂ خیال ہوا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ کی اجتماعی بیداری، سیاسی شعور کی ترقی اور ملی قیادت کے درمیان مضبوط رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حضرت مولانا مفتی احمد ثمال صاحب رشادی دامت برکاتہم نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ مہمان نوازی فرمائی۔ اس موقع پر حضرت والا کی جانب سے وفد کے اراکین کی ضیافت کھجور، چائے اور دیگر لوازمات سے کی گئی۔
گفتگو کے دوران عالی جناب بی ڈی اے نذیر احمد صاحب نے بڑے درد مندانہ انداز میں گزشتہ سات دہائیوں کے دوران مسلمانوں کے عروج و زوال، سیاسی بے شعوری کے نقصانات اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے مختلف واقعات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ سیاسی میدان میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی حالات کا صحیح ادراک، دور اندیشی اور منظم جدوجہد ناگزیر ہے۔
اس موقع پر نوجوان عالم دین حضرت مولانا محمد عابد حسین صاحب اشاعتی دامت برکاتہم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کو سیاست کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاست کا رخ اسی وقت درست سمت میں موڑا جا سکتا ہے جب اہلِ علم اور دینی بصیرت رکھنے والی شخصیات اس میدان میں آگے آئیں اور اپنی رہنمائی فراہم کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء کرام کو وقت کے سیاسی و سماجی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ملت کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار ہو، ان کے اجتماعی مسائل مؤثر انداز میں پیش کیے جا سکیں اور ملت کی ترقی و استحکام کے لیے مثبت اور تعمیری راہیں ہموار ہوں
ملاقات خوش گوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اس نشست کو ملی مسائل پر باہمی مشاورت سیاسی شعور کی بیداری اور ملت کے اجتماعی مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا








