All India NewsBlogJharkhand NewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

جب انسانیت ہار جائے، تب سوال صرف حکومت سے نہیں—سماج سے بھی ہوتا ہے…. غلام شاہد………

Share the post

جھارکھنڈ کی سرزمین سے اُٹھنے والے کچھ واقعات آج ہمارے معاشرے کی روح کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ رانچی کے کوکر میں ایک آدیواسی خاتون کو چوری کے شبہے میں نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس کے چہرے پر کالک پوتی گئی، جوتوں اور چپلوں کا ہار پہنایا گیا اور اسے سڑکوں پر گھمایا گیا۔ یہ منظر صرف ایک عورت کی توہین نہیں تھا—یہ پورے معاشرے کی بے حسی کا جلوس تھا۔
دوسری طرف، ہزاری باغ کے وشنوگڑھ میں ایک ماں کے ذریعے اپنی ہی 13 سالہ بیٹی کی مبینہ قربانی دینے کا واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ توہم پرستی کا اندھیرا آج بھی ہمارے درمیان کتنا گہرا ہے۔ جہاں ایک طرف ہجوم قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی عزت کو پامال کرتا ہے، وہیں دوسری طرف جہالت اور فرسودہ رسومات ایک ماں سے اس کی ممتا چھین لیتی ہیں۔
ہم آخر کس سمت بڑھ رہے ہیں؟ کیا ہماری پہچان اب ایک ایسے معاشرے کی بنتی جا رہی ہے جہاں انصاف کے نام پر توہین کا کھلا مظاہرہ ہوتا ہے؟ جہاں کسی عورت کو سزا دینے کے نام پر اسے ذلیل کرنا، سڑکوں پر گھمانا “عام” سمجھا جانے لگا ہے؟
سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان واقعات کے درمیان انتظامیہ کی خاموشی کئی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ کیا غریب، آدیواسی اور بے سہارا لوگوں کے لیے انصاف کی تعریف الگ ہے؟ کیا ان کی عزت، ان کا وقار، ان کی جان اتنی سستی ہے کہ کوئی بھی ہجوم اسے کچل سکتا ہے؟
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومت کو قصوروار ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ ہجوم میں شامل لوگ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب ہم خاموش رہتے ہیں، جب ہم ایسے ظلم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں، تو ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک بن جاتے ہیں۔
آج ضرورت ہے سخت قانون و نظم کی، فوری کارروائی کی اور مجرموں کو ایسی سزا دینے کی، جو معاشرے میں ایک واضح پیغام دے—کہ کسی بھی عورت کی عزت سے کھیلنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ ساتھ ہی، توہم پرستی اور جہالت کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
یہ صرف دو واقعات نہیں ہیں—یہ ایک وارننگ ہے۔
اگر آج بھی ہم نہ جاگے، تو کل انسانیت کا نام صرف کتابوں میں رہ جائے گا۔
اب سوال یہ نہیں ہے کہ قصوروار کون ہے—سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی انسان بنے رہنا چاہتے ہیں؟

Leave a Response