جھارکھنڈ تنظیم کے بانی صدر شمشیر عالم کی شخصیت اور ان کی سیاسی و سماجی خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی قاسمی 7004951343)


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اسے کردار و عمل کی آزادی دی تاکہ وہ دوسری مخلوقات پر اپنی برتری ثابت کرسکے ، انسان نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس آزادی کے ذریعے اپنے کردار و عمل کے سے ثابت کردیا کہ اس کے اندر اشرف المخلوقات بننے کی ساری صلاحیتیں موجود ہیں ، انسان نے اپنی علمی تحقیق و تفتیش کے ذریعے دنیا کو ترقی کی جن بلندیوں تک پہنچا دیا ہے وہ دراصل انسان کے اندر اشرف المخلوقات کی پوشیدہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ ہے ، جسے آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں اور برت بھی رہے ہیں ، زندگی کے تمام شعبوں میں شروع سے دو قسم کے لوگ ہوتے رہے ہیں، ایک عوام کا اور دوسرے خواص کا، انسانی تواریخ میں سیاسی ، سماجی ، مذہبی یا تعلیمی اعتبار سے جب بھی کوئی انقلاب آیا ہے تو اس کا خاکہ ہمیشہ خواص نے تیار کیا ہے اور عوام کی قیادت و رہنمائی کا بیڑہ خواص نے ہی اٹھایا ہے ، واضح رہے کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر قیادت و رہنمائی کی چار قسمیں ہمیشہ سے رہی ہیں ،
(1) مذہبی قیادت و رہنمائی (2) سیاسی قیادت و رہنمائی (3) سماجی قیادت و رہنمائی (4) تعلیمی قیادت و رہنمائی ،
ان چاروں قیادت و رہنمائی کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ، ان چاروں قیادت و رہنمائی کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی ، شرط یہ ہے کہ قیادت و رہنمائی کی یہ باگ دوڑ نڈر ، بے خوف ، بیباک اور دوراندیش قائد کے ہاتھوں میں رہے ، نہ کہ چاپلوس ، خود غرض ، مفاد پرست ، موقع پرست ، اور قوم و ملت کا سودا کرنے والے سوداگروں کے ہاتھوں میں ، مسلمانوں کو سیاسی فائدہ و نقصان اچھے یا برے قائدین کی وجہ سے ہی پہنچتا رہا ہے اور پہنچتا رہے گا ، اچھی یا بری ، مثبت یا منفی ، کار آمد یا ناکارہ سیاسی قیادت و رہنمائی ہی قوم و ملت کے عروج و زوال کا سبب بنتی ہے ، متحدہ بہار کے دور میں اور جھارکھنڈ بننے کے بعد بھی رانچی میں کئی سیاسی قائد و رہنما ہوئے جنھوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر عوامی مسائل کی خاطر حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کیں اور ان کی نیندیں حرام کردیں ، عوامی طاقت کا مظہر بن کر ابھرے اور اپنی قائدانہ سیاسی بصیرت و حکمت کی بنیاد پر میدان سیاست میں چھا گئے ، انھیں مضبوط ، بیباک ، نڈر، باصلاحیت اور دور اندیش سیاسی رہنماؤں میں ایک اہم اور نمایاں نام جناب شمشیر عالم صاحب کا ہے
جو بنیادی طور پر بہار کے رہنے والے ہیں لیکن متحدہ بہار کے وقت ہی کافی عرصہ قبل رانچی آئے اور رانچی کے ہی ہو کر رہ گئے اور جھارکھندی تہذیب و ثقافت میں رچ بس گئے ، درمیانہ قد و قامت ، گورا رنگ ، ، مسکراتہ چہرہ ، صاف و شفاف کرتہ پاجامہ اور اکثر و بیشتر کشمیری ٹوپی میں ملبوس ، پُرکشش شخصیت اور بلند اخلاق کے مالک شمشیر عالم صاحب اب مستقل طور پر ھند پیڑھی رانچی کے نالا روڈ میں اپنے تمام بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں ، جناب شمشیر عالم صاحب کے تمام بھائیوں کا آپسی اتحاد و اتفاق بھی آج کے دور میں ایک مثال ہے جو بہت کم دیکھنے اور سننے میں آتا ہے ، کہتے ہیں کہ بھائی سے بڑا دوست کوئی نہیں اور بھائی سے بڑا دشمن بھی کوئی نہیں ، ہم نے شمشیر عالم کے تمام بھائیوں کا آپسی رشتہ دوست کی طرح دیکھا ہے ، سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ہمیشہ ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ، اپنے تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت شمشیر عالم صاحب نے اپنی سیاسی قیادت و رہنمائی اور عوامی خدمات کی بنیاد پر حاصل کی ہے ، جناب شمشیر عالم صاحب کی سیاسی و سماجی قیادت و رہنمائی اور سماجی خدمات کا آغاز متحدہ بہار کے دور میں ہی ان کی طالب علمی کے زمانے سے ہی شروع ہوگیا تھا ، وہ شہر رانچی کے مشہور و معروف مارواڑی کالج کے ہونہار طالب علم رہے ہیں ، انھوں نے ایک عام طالب علم کی طرح صرف کتابی علم حاصل کر کے صرف اپنی ذات کے لئے بہتر زندگی گزارنے کا خواب نہیں دیکھا بلکہ انھوں نے سماج اور سماجی خدمت کے لئے جینے کا نصب العین طئے کیا جس پر وہ آج بھی قائم ہیں ، طالب علمی کے زمانے سے ہی انھوں نے طلباء و طالبات کے تعلیمی مسائل اور ان کی پریشانیوں سے دلچسپی لینا شروع کر دیا تھا ، اس کے لئے وہ انجام کی پرواہ کئے بغیر مارواڑی کالج سے لے کر رانچی یونیورسٹی تک احتجاج و مظاہرہ کا جمہوری طریقہ اختیار کرتے اور وائس چانسلر سے طلباء کے مسائل حل کروا کر ہی دم لیتے تھے ، جناب شمشیر عالم صاحب کی بیباکی ، بے خوفی اور ان کی دلیرانہ قیادت و رہنمائی سے رانچی یونیورسٹی رانچی کی انتظامیہ بھی کانپتی تھی ،
اس زمانے میں مولانا آزاد کالج رانچی کا میں بھی ایک طالب علم تھا اور طلباء یونین کی تعلیمی و سیاسی سرگرمیوں کو براہ راست دیکھا کرتا تھا ، جس میں شمشیر عالم صاحب ہمیشہ پیش پیش نظر آتے تھے ، رانچی یونیورسٹی رانچی اور مین روڈ کی تمام دیواروں میں طلباء یونین کے لیڈر کی حیثیت سے ہر جگہ شمشیر عالم صاحب کا نام نظر آتا تھا ، اس زمانے میں جب بھی بہار کے ابھرتے ہوئے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو ائیرپورٹ سے بذریعہ کار گورنر ہاؤس پہنچتے تو مین روڈ کی تمام دیواروں اور یونیورسٹیوں کے ارد گرد اسٹوڈینٹ یونین لیڈر شمشیر عالم صاحب کا ہی نام دکھتے ، یہیں سے شمشیر عالم صاحب لالو پرساد کی نظروں میں آ گئے اور لالو پرساد سے ان کی سیاسی قربت بڑھ گئی ، شمشیر عالم کے ایک بہت ہی قریبی رشتے دار اور بہار کے قد آور سیاسی رہنما و بہار اسمبلی کے رکن عبد الباری صدیقی صاحب
کی لالو پرساد سے قربت و نزدیکی نے بھی شمشیر عالم کو لالو پرساد یادو کے بہت قریب کردیا جس کی وجہ سے شمشیر عالم رانچی میں لالو پرساد کی سیاسی جماعت کا نمائندہ بن کر سامنے ابھرے اور کافی مشہور و مقبول ہوئے ، جب بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے لالو پرساد یادو عروج پر تھے تو رانچی میں شمشیر عالم کی طوطی بولتی تھی ، اسی دور میں وہ ویجفیڈ کے چیئرمین بنائے گئے اور لال بتی کے خصوصی اعزاز سے نوازے گئے ، اس دور میں انھوں نے رانچی کے مسلمانوں کا ہر موقعے پر ساتھ دیا ، جہاں کہیں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کا یا کوئی اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا تو شمشیر عالم صاحب اپنی پوری سیاسی طاقت کے ساتھ پہنچ جاتے اور ضلع انتظامیہ کے سر پر سوار رہتے تاکہ مسلم اقلیت اپنے آپ کو بے سہارا نہ سمجھے اور ہر حال میں امن و شانتی قائم رہے ، عوامی مسائل کو بہتر طریقے سے اٹھانے اور لوگوں کی زیادہ سے زیادہ سماجی خدمت کرنے کی غرض سے انھوں نے ” جھارکھنڈ تنظیم” قائم کیا ، جو آج بھی قائم ہے اور عوامی خدمت کی راہ پر گامزن ہے ، جس کے وہ بانی صدر بھی ہیں ، جس کا مرکزی دفتر مین روڈ رانچی میں واقع ” گیلیکسی مول” میں ہے ، جھارکھنڈ تنظیم کے تحت شمشیر عالم صاحب ہمیشہ موقع بموقع غریبوں ، بے سہاروں اور معذوروں کی مختلف طریقے سے مدد کرتے رہتے ہیں ، ہر سال اپنی یوم پیدائش کے موقعے پر غریبوں کو کمبل اور معذوروں کو وہیل چیئر تقسیم کرتے ہیں ، جس سے بقول شمشیر عالم صاحب ایک دلی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ، جناب شمشیر عالم صاحب ایک نیک اور زندہ دل انسان ہیں ، تمام مظلوم طبقات کے اندر عدم تحفظ اور نابرابری کا احساس نہ بڑھے اس کے لئے وہ جھارکھنڈ تنظیم کے تحت کوئی نہ کوئی پروگرام کرتے رہتے ہیں تاکہ حکومت اور انتظامیہ تک یہ پیغام پہنچتا رہے کہ مسلم اقلیت سوئی ہوئی نہیں ہے ، انھوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ مسلم اقلیت کا حال زیادہ دگر گوں ہے ، زندگی کے ہر میدان میں ان کے ساتھ ظلم ، نا انصافی اور جانبداری کا سلوک تسلسل سے جاری ہے ، جان و مال کے نقصان کا مسئلہ تو اب اس مرحلہ میں ہے کہ احساس زیاں بھی جاتا رہا ، ہر سطح پر یہ اقلیت ظلم و نا انصافی کا شکار ہے ، ان سارے معاملات سے بڑھ کر مسلمانوں کے دین و ایمان اور ان کی وفاداری کو رہ رہ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے ، مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور ان کی مادری زبان کو مسلسل تختہ مشق بنایا جا رہا ہے ، ان تمام وجوہات کی بناء پر ایک بڑے سیاسی پلیٹ فارم سے سیاسی قیادت و رہنمائی کی خاطر جناب شمشیر عالم صاحب نے لالو پرساد یادو سے ذاتی تعلق و رشتہ قائم رکھتے ہوئے راجد کا دامن چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھام لیا ہے جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں ،
جھارکھنڈ میں کانگریس کی حمایت سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی سرکار ہے جس میں خود کانگریس بھی عملی طور پر شریک ہے ، جناب شمشیر عالم صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے اپنے کوٹے سے انھیں ” جھارکھنڈ اقلیتی کمیشن” کا وائس چیئرمین بنایا ہے ، جھارکھنڈ اقلیتی کمیشن کے ایک چیئرمین ، تین وائس چیرمین اور کئی ارکان ہیں لیکن جھارکھنڈ اقلیتی کمیشن کو لوگ وائس چیرمین جناب شمشیر عالم صاحب کے ذریعے ہی جانتے ہیں اور اقلیتوں سے متعلق زیادہ تر مسائلِ انھیں کے پاس آتے ہیں جن پر وہ فوراً کاروائی شروع کر دیتے ہیں ، کچھ لوگوں کی اپنی کوئی بڑی حیثیت نہیں ہوتی لیکن جب وہ کسی عہدے یا کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو اس عہدے اور کرسی کی وجہ اس آدمی کی حیثیت اور پوزیشن بڑھ جاتی ہے ، لیکن کچھ لوگ ایسے
کچھ لوگ ایسے باحیثیت ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی عہدے یا کسی سے نوازے جاتے ہیں تو ان کی وجہ سے اس عہدے یا اس کرسی کی حیثیت اور پوزیشن بڑھ جاتی ہے ، جناب شمشیر عالم صاحب کی ذات ایسی ہے کہ ان کے وائس چیئرمین بننے جھارکھنڈ اقلیتی کمیشن کے عہدے اور کرسی کی حیثیت اور پوزیشن بڑھ گئی ، جناب شمشیر عالم صاحب کی پوری سیاسی اور سماجی زندگی ہمارے سامنے ہے ، وہ اسلام اور مسلمانوں کے تئیں ہمیشہ بہت سنجیدہ رہے ہیں ، رانچی شہر و مضافات میں کہیں کوئی معاملہ ہو جاتا ہے تو سب سے پہلے شمشیر عالم صاحب پہنچ جاتے ہیں اور اپنے سیاسی و سماجی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے امن و امان بحال کرنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ، دعاء ہے کہ وہ اسی طرح سیاسی و سماجی خدمات کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں اور ترقی کرتے رہیں ،








