ایس علی(شمیم علی) اقلیتی معاملات کے جانکار و سماجی خدمت گار کی شخصیت و خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی (700495134)


ہمارا ملک بھارت 15/ اگست 1947 کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور ایک سیکولر اور جمہوری ملک قرار دیا گیا جس کا اپنا ایک الگ سیکولر دستور بنا ، جس میں تمام شہریوں کے حقوق و اختیارات طئے کردئے گئے ہیں ، انسانی فطرت کے مطابق چونکہ اکثریتی فرقے نے ہمیشہ اقلیتیوں کا استحصال کیا ہے اور ان کو ان کے بہت سارے حقوق و اختیارات سے محروم رکھا ہے اور ان کے حقوق غصب کئے ہیں ، اس لئے آزاد ہندوستان کے سیکولر دستور کی تشکیل کے وقت ہی اس بات کو محسوس کرتے ہوئے اقلیتیوں کو دستور ہند میں خصوصی حقوق و اختیارات دئے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی پوری ذمداری مرکزی اور ریاستی سرکاروں پر ڈالی گئی ہے تاکہ دستور میں دئے گئے حقوق و اختیارات کی بنیاد پر اقلیتیوں کو بھی زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا موقع مل سکے ، لیکن کتنے لوگ ہیں ؟ جو دستور میں اقلیتیوں کو دئے گئے حقوق و اختیارات سے واقف ہیں
اور اگر واقف ہیں تو ان حقوق و اختیارات کی حق تلفی کی صورت میں اس کی بازیابی کے لئے کتنے لوگ کوشاں رہتے ہیں؟ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی معاشرہ کبھی باصلاحیت ، باشعور اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد سے خالی اور عاری نہیں ہوتا ، ہر معاشرے میں چند افراد ایسے ضرور ہوتے ہیں جو دستور میں دئے گئے اقلیتوں کے حقوق و اختیارات کی بازیابی کے لئے مسلسل جدو جہد اور احتجاج و مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ، اعلیٰ حکام اور محکمہ جاتی وزراء سے ملاقات اور میمورنڈم کے ذریعے اقلیتوں کے مسائل اور ان کی حق تلفی کی جانب ان کی توجہ مبذول کراتے رہتے ہیں ، رانچی کا بہت ہی قدیم علاقہ پرانی رانچی کا رہنے والا تعلیم یافتہ ، باصلاحیت ، ہونہار اور اقلیتی معاملوں کی اچھی خاصی جانکاری رکھنے والا ایسا ہی ایک نوجوان ایس ، علی (شمیم علی) ہے ، جو اپنی طالب علمی کے دور سے ہی طلباء کے مسائل اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے مسلسل تحریک چلاتے رہے جس نے انھیں کالج و یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کے نزدیک مشہور و مقبول بنادیا ، طلباء و طالبات اور دوسرے اقلیتی مسائل ” آل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن” (آ میا)کے پلیٹ فارم مستقل سے اٹھاتے رہتے ہیں ، اسی ” آل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن” کے پلیٹ فارم سے وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں راج بھون کے سامنے مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف انجام کی پرواہ کئے بغیر سب سے پہلے احتجاج و مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی متحدہ قیادت و سیادت کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں اور اداروں کے ٹھیکیداروں کو آئینہ دکھانے کا کام کیا تھا اور ثابت کردیا تھا کہ اگر قوم و ملت کے مسائل کے تئیں نیک نیتی اور بلند حوصلگی سے قدم بڑھایا جائے تو راستے کے پتھر خود بخود کنارے لگ جاتے ہیں لیکن اگر اداروں اور تنظیموں کے عہدوں پر صرف شہرت و مقبولیت اور ذاتی مفاد حاصل کرنے کی خاطر داؤ پیچ اور توڑ جوڑ کی سیاست کی جاتی رہے تو ایسے لوگ قومی و ملی مسائل کیا خود اپنے گھر اور محلے کے مسائل حل نہیں کر سکتے ، ایس علی (شمیم علی) نے اقلیتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے مسلسل احتجاج و مظاہرہ کرتے ہوئے رانچی ہی نہیں بلکہ پورے جھارکھنڈ میں اپنی ایک الگ شناخت اور پہچان بنا لی ہے ایس ، علی (شمیم علی) بنیادی طور پر پرانی رانچی کا رہنے والا اور ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے جس نے غربت و افلاس سے لڑتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمےداریوں کو بھی سنبھالا اور اپنا تعلیمی سفر بھی جاری رکھا ، اس نے غربت و افلاس کو بہت قریب سے دیکھا بھی ہے اور محسوس بھی کیا ہے
کہ غریب اور پسماندہ طبقات سے آنے والے طلباء وطالبات کو تعلیم حاصل کرنے میں کتنی مشقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کس طرح ان کا استحصال کیا جاتا ہے جس سے تنگ آ کر کتنے ہی نوجوان بیچ میں ہی اپنا تعلیمی سفر ختم کر دیتے ہیں ، طالب علموں کے اس درد کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کے بعد ہی ایس علی نے ” جھارکھنڈ چھاتر سنگھ” کی تشکیل طلباء کے مسائل کے حل کے لئے کی ، جھارکھنڈ چھاتر سنگھ کے پلیٹ فارم سے انھوں نے سینکڑوں طلباء کے مسائل حل کئے اور آج بھی کرتے رہتے ہیں ، اقلیتیوں کے حقوق و اختیارات کی بازیابی و حصول یابی کے لئے سرکار کے سامنے جمہوری طور پر چھوٹے بڑے پیمانے پر اپنے معاونین کے ساتھ مل کر اسی جھارکھنڈ چھاتر سنگھ کے پلیٹ فارم سے اکثر و بیشتر احتجاج و مظاہرہ کرتے رہتے ہیں ، جس میں بیشتر معاملوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیابی حاصل ہو ہی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے ایس علی ( شمیم علی) کے قائم کردہ ” آل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن” اور ” جھارکھنڈ چھاتر سنگھ” سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جڑی ہوئی ہے ، جب کبھی قومی و ملی مسائل پر ایس علی آواز دیتے ہیں تو ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے گاؤں گاؤں سے سینکڑوں ہزاروں نوجوان جمع ہو جاتے ہیں ، دنیا میں وہی قوم زندہ رہتی ہے جو اپنے حقوق و اختیارات کے تئیں بیداری اور زندگی کا ثبوت دیتی رہتی ہے ،
ہمارے معاشرے میں ایس ، علی جیسے لوگ دستور میں اقلیتوں کو دئے گئے حقوق و اختیارات کی بازیابی و حصول یابی کے لئے بیداری کا آکسیجن فراہم کرنے کا کام کرتے رہتے ہیں جس کی حوصلہ افزائی ہوتی رہنی چاہئے اس سے کام کرنے والوں کو حوصلہ ملتا ہے اور ہمت بھی بڑھتی ہے ، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لفاظی کرنے والوں کو سر میں بٹھایا جاتا ہے اور صحیح نہج پر کام کرنے اور قوم و ملت کی صحیح رہنمائی کرنے والوں کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں ، ناکام اور نامراد لوگ جب اپنی نااہلی کی بنیاد پر خود کہیں نہیں پہنچ پاتے تو وہ دوسروں کو اپنی سطح پر لانے کی خاطر غیبت ، بہتان ، الزام تراشی ، بغض و حسد ، بیجا عداوت و دشمنی اور انتقامی کارروائیوں کے ناپاک راستے پر چلنے سے بھی گریز نہیں کرتے ، جن لوگوں کو قوم و ملت سے ذیادہ اپنے ذاتی مفاد کی فکر رہتی ہے ایسےموقع پرست ، مفاد پرست اور خود غرض لوگوں کو ہی ہمارے اداروں اور تنظیموں کے بڑے بڑے عہدوں پر بٹھایا جاتا ہے اور جو لوگ بے لوث قوم و ملت کی خدمت کرتے ہیں ایسے لوگوں کو ہمارا معاشرہ نظر انداز کرتا ہے ، ہماری پنچایتوں ، تنظیموں اور تعلیمی و سماجی اداروں میں ایسے بیکار ، نامراد اور ناہنجار لوگوں کو عہدوں پر بٹھایا جاتا ہے جس سے ان پنچایتوں ، تنظیموں اور اداروں کا بھلا ہو یا نہ ہو اس کے عہدیداروں کا بھلا ضرور ہو جاتا ہے ، ایس علی کی نظر ہمیشہ اقلیتوں کے خلاف اٹھنے والی آواز اور ان کے خلاف کی جانے والی سرکاری کاروائیوں پر رہتی ہے ، وہ اقلیتوں کے حقوق و اختیارات کی حصول یابی اور بازیابی کے لئے معاشرے میں گویا اذان دینے کا کام کرتے رہتے ہیں ، معاشرے کو جگاتے اور بیدار کرتے رہتے ہیں ، انجمنیں ، تنظیمیں اور مسلمانوں کے خودساختہ ادارے بیدار ہوں یا نہ ہوں ،ایس علی دیوانہ وار اقلیتی معاملوں پر عوام اور سرکار کو بیدار اور ہوشیار کرنے کے لئے انجام کی پرواہ کئے بغیر نکل پڑتے ہیں ، کچھ لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں تو کچھ لوگ ان کی تنقید کرنے ، ان کی برائی کرنے اور ٹانگ کھینچنے میں ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ، ان کے گلے کا ہار اتار کر خود پہن لیتے ہیں یا دوسروں کو پہنا دیتے ہیں، ان تمام باتوں اور حرکتوں سے بے پرواہ ایس علی اقلیتوں کے حقوق و اختیارات کے تئیں ہمیشہ بیدار اور حساس نظر آتے ہیں ، چاہے وہ اردو کا معاملہ ہو ، اردو اسکولوں کا معاملہ ہو ، طلباء و طالبات کے اسکالر شپ کو ختم کردینے یا کم کردینے کا معاملہ ہو ، اردو اسکولوں سے صدیوں سے چلی آرہی جمعہ کے دن کی چھٹی کو ختم کرنے کا معاملہ ہو ، اردو اسکولوں کی اقلیتی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ ہو ، اردو کتابوں کی اشاعت کے کا معاملہ ہو ، موبلنچنگ کا معاملہ ہو ، سرکاری مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معاملہ ہو ، سرکاری مدرسوں کے اساتذہ کو بھی سرکاری اسکولوں کی طرز پر پنشن دینے کا معاملہ ہو ، وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاج و مظاہرہ کرنے کا معاملہ ہو ، امید پورٹل میں وقف جائیدادوں کے اندراج کا معاملہ ہو یا پھر مدرسہ بورڈ کے عالم فاضل کی سند کو سہایک اچاریہ( اردو ٹیچر) کی بحالی میں منظوری کے لئے سرکار پر دباؤ بنانے کی خاطر پورے جھارکھنڈ میں تحریک چلانے کا معاملہ ہو ، ہر جگہ ایس علی سب سے پہلے سماجی طور پر اذان دیتے ہوئے آپ کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کی قیادت کرتے اور ان کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے نظر آئیں گے ، ایس علی کی مذکورہ بالا خدمات کے صلے میں 11/ نومبر 2025 کو ہائیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی آف انجمن اسلامیہ رانچی کی جانب سے مولانا آزاد کالج رانچی کے ہال میں ” مولانا آزاد ایوارڈ دے کر اور شال اوڑھا کر ان کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کی گئی ،
اگر ایس علی جیسے نوجوان کی مسلم معاشرے نے حوصلہ افزائی نہیں کی ، اس کے کام اور اس کے مقام کو نہیں سمجھا ، اس کی جدو جہد اور قوم و ملت کے تئیں اس کی مسلسل تحریکات کو اہمیت نہیں دی گئی تو پھر یہی ہوگا کہ ،
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے ،








