ہماری زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے


خانقاہ عرفانیہ جہاز قطعہ کے سالانہ اجلاس میں علما کرام و بزرگان دین کا خطاب
گڈا جھارکھنڈ
صاحب کرامت ولی ، قطب الاقطاب حضرت مولانا محمد عرفان جہازی مظاہری (چشتی قادری نقشبندی سہروردی) نور اللہ مرقدہ کے فیوض و برکات اور توجہات کا مرکز خانقاہ عرفانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ کا سہ روزہ سالانہ اجلاس عام اختتام پذیر ہوا ،اس اجلاس میں ہندوستان کے مختلف خطوں سے حضرت کے خلفاء ، مریدین اور متوسلین جمع ہوئے اور خانقاہ عرفانیہ کی اصلاحی و روحانی مجلسوں میں شریک ہوئے. آخری روز بعد نماز مغرب سے تقریباً 11 بجے رات تک عمومی اجلاس ہوا جس میں کئی علماء کرام اور بزرگان دین کا روح پرور خطاب ہوا

بنگلور سے تشریف لانے والے حضرت کے خلیفہ مولانا شفیق احمد صاحب قاسمی نے بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر انسان اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی اور روحانی استحکام چاہتا ہے تو اس کو بزرگوں کا دامن تھامنا چاہیے، صالحین کی رفاقت اپنانی چاہیے اور اسے کسی معتبر خانقاہ سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے،انہوں نے اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا محمد عرفان صاحب جہازی مظاہریؒ (چشتی و قادری) کے بلند روحانی مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرتؒ کا ولایت میں اعلی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جلیل القدر عالمِ دین بھی تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سی کرامات کے ساتھ سلبِ امراض جیسی کرامت سے بھی نوازا تھا۔
مفتی محمد الیاس صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء دمکا نے اصلاح باطن اور تزکیۂ نفس کے موضوع پر نہایت مدلل اور پر مغز خطاب کیا ۔ انہوں نے خانقاہ کے پس منظر، اس کی دینی و روحانی خدمات اور اس کے فیوض و برکات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ حضرتؒ نے اپنے بعد ایک ایسے مخلص اور باکمال وارث کو ہمارے درمیان چھوڑا ہے جو خانقاہ کے موجودہ پیر و مرشد حضرت مولانا و مفتی محمد سفیان صاحب قاسمی کی ذاتِ گرامی ہیں۔ ہمیں ان سے استفادہ کرنا چاہیے اور ان کی صحبت کو غنیمت سمجھنا چاہیے
ان کے علاوہ ہارون خان صاحب سہسرام، مولانا سلیم الدین قاسمی باگھاکول ، مولانا عبد القیوم صاحب قاسمی جہازقطعہ مولانا محمد شاہنواز چترویدی سین پوری اور دیگر علماء و بزرگان دین کا اثر انگیز خطاب ہوا جبکہ شاعر اسلام مولانا شمشاد خادم دمکاوی،شاعر اسلام جناب افتخار حسین احسن اور ابو الکلام کرہریا وی نے مسحور کن نعت و نظم سے مجلس کو گل و گلزار بنا دیا.
اخیر میں خانقاہ عرفانیہ کے سجادہ نشین اور حضرت مولانا محمد عرفان جہازی کے خلیفہ و جانشین مفتی محمد سفیان قاسمی کا خطاب ہوا جس میں انھوں نے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے پر زور دیا انھوں نے کہا کہ ہمارا دھیان اور ہماری توجہ ہر وقت اللہ کی طرف رہنی چاہیے اور ہمارا جو بھی عمل ہو اس میں صرف اللہ کی رضا مقصود ہو بلکہ ہماری زندگی کا مقصد صرف رضاء الہی ہونی چاہیے، اس کے لئے مجاہدہ کی ضرورت ہے، اس کے بعد ذکر اللہ کی مجلس ہوئی اور پھر ان کی رقت آمیز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا، اجلاس کے بعد بہت سے افراد حضرت مفتی صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئے
اس پروگرام میں حضرت مولانا محمد عرفان مظاہری رحمۃ اللہ علیہ کے جن خلفاء نے شرکت کی ان میں مولانا محمد شفیق صاحب قاسمی کٹیہار مقیم بنگلور ، مولانا محمد اویس صاحب سیریچک بھاگلپور ، مولانا عبد الحمید صاحب رگھو ناتھ پور پاکوڑ ،مولانا عثمان صاحب رگھو ناتھ پور پاکوڑ کمال الدین اربا رانچی، محمد ہارون خان سہسرام اور مفتی محمد سفیان قاسمی جہازقطعہ گڈا ہیں جبکہ اشہد صاحب الہ آباد، ناصر صاحب بنگلور اور دیگر خلفاء کچھ اعذار کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے
حضرت کے مریدین و محبین میں سے جن لوگوں نے شرکت کی ان میں مولانا شمشاد صاحب برتلہ دمکا صغیر احمد برتلہ مولانا نوشاد بچھیا پہاڑی دمکا ،ارشد آلودہا پاکوڑ اشرف رولا گرام پاکوڑ ،مفتی الیاس قاسمی استا جوڑا دمکا مولانا عبد القیوم قاسمی جہازقطعہ ، حافظ محمد نسیم نکٹا ، مولانا عتیق جہازقطعہ مولانا محمد جعفر رجون، حافظ منصور گوپی چک حافظ اقبال چیرو ڈیہ دمکا محمد منصار دگھی قاری محمد جاوید صاحب کیتھ پورہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں
ان کے علاوہ علاقہ کے مؤقر علماء کرام و دانشوران عظام مولانا سلیم الدین صاحب قاسمی باگھاکول قاری ظفر صاحب مال پرتاپور، مولانا ضیاء الحق دھپرا ، جناب محمد آفتاب صاحب پچوا قطعہ ، نظام الدین صاحب کیتھیہ ماسٹر محمد جعفر جہازقطعہ اور دیگر حضرات شریک جلسہ رہے
ناظم جلسہ مولانا محمد شاہد سنگارپوری نے انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے
اس اجلاس میں حضرت کو ایصال ثواب کرنے کے ساتھ تمام مومنین کے لئے اور خاص طور سے اس سال رحلت فرمانے والے حضرت کے خلیفہ مولانا بشیر الدین صاحب قاسمی آلودہا پاکوڑ اورحضرت کے مرید حاجی عبد الوحید صاحب مرحوم دہرادون اور والدہ شیخ مبارک صاحب بنگلور کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کیا گیا
واضح رہے کہ خانقاہ عرفانیہ جہاز قطعہ کا یہ سالانہ اجلاس ہر سال 20 شعبان المعظم کو منعقد ہوتا ہے۔ ابتدائی تین دنوں تک ہر نماز کے بعد خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں ذکر و اذکار، ایصال ثواب ،وعظ و نصیحت اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جبکہ اختتام پر عمومی اجلاسِ عام منعقد کیا جاتا ہے۔








