All India NewsBlogJharkhand NewsNews

بلسوکرا میں مجلسِ علماء جھارکھنڈ کے زیرِ اہتمام اصلاحِ معاشرہ پروگرام کا انعقاد

Share the post

آج بروز اتوار، یکم فروری 2026ء کو مسجدِ عمر، بلسوکرا میں مجلسِ علماء جھارکھنڈ کے زیرِ اہتمام ایک جامع اور بامقصد اصلاحِ معاشرہ پروگرام منعقد کیا گیا۔
اس اصلاحی نشست کی صدارت حضرت مولانا صابر صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ ،صدر مجلسِ علماء جھارکھنڈ نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض حافظ عبدالعزیز صاحب اور مفتی طلحہ صاحب ندوی سیکرٹری مجلسِ علماء جھارکھنڈ نے مشترکہ طور پر نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ اللہ سے ہوا۔
اس پروگرام میں بلسوکرا اور اطراف کے تمام دیہات کے صدور، سیکرٹریز اور ذمہ دار حضرات شریک ہوئے، جب کہ تقریباً سو سے زائد ذمہ داران کی شرکت نے پروگرام کو غیر معمولی اہمیت بخشی۔ نیز علاقے کے معزز علماء کرام، ائمہ اور حفاظ کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود رہی۔


پروگرام کے دوران معاشرتی اصلاح سے متعلق مختلف امور پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا، جس میں علماءکرام اور ذمہ دار حضرات نے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ رائے دینے والوں میں بالخصوص مولانا نور الحسن صاحب ، ناظم دارالعلوم قاسمیہ بلسوکرا ،مولانا شوکت صاحب چانہو، مولانا عبد القیوم صاحب ، صدر جمعیت علماء جھارکھنڈ ،مولانا مشرف صاحب، ڈاکٹر زاہد اقبال قاسمی صاحب، حافظ عبدالعزیز صاحب، مولانا ابوالکلام صاحب، مولانا عبدالقیوم صاحب، جناب عبدالحنان صاحب، جناب قاسم صاحب، مولانا رفیق صاحب، مولانا صابر صاحب ،صدر مجلسِ علماء جھارکھنڈ , مولانا شریف حسن مظہری ، نائب صدر مجلسِ علماء جھارکھنڈ
اور دیگر معزز حضرات شامل تھے۔
اصلاحِ معاشرہ سے متعلق زیرِ غور اہم نکات
اوّل:
مسلم معاشرے کے بچوں اور بچیوں کو نشہ، بے حیائی اور اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ نئی نسل دینی و اخلاقی اعتبار سے محفوظ رہ سکے۔
دوم:
نکاح کو آسان بنایا جائے، جہیز جیسی سماجی برائی کا خاتمہ کیا جائے، مساجد میں نکاح کے فروغ کو عام کیا جائے اور بارات کے نظام کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
سوم:
علاقے کے مختلف مقامات پر اصلاحِ معاشرہ کے پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں خواتین کی پردے کے ساتھ شرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ اصلاح کا دائرہ پورے معاشرے تک پہنچ سکے۔
چہارم:
درسِ قرآن اور درسِ حدیث کو عام کیا جائے، تاکہ عوام کے عقائد درست ہوں اور لوگ سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
پنجم:
ائمہ کرام جمعہ کے خطبات میں معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں، خرابیوں اور کمیوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح طور پر بیان کریں، تاکہ اصلاح کا شعور عام ہو۔
ششم:
امت کے درمیان میراث کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دیا جائے، کیونکہ میراث میں کوتاہی کے باعث آج بھائی بھائی کے درمیان اختلافات اور عدالتی تنازعات جنم لے رہے ہیں، جو معاشرتی انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد دیگر نکات پر گفتگو ہوئی، جن پر آئندہ مرحلے میں توجہ دی جائے گی۔
پروگرام میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بلسوکرا علاقے کے لیے مجلسِ علماء کی ایک مستقل ٹیم تشکیل دی جائے، جس کے کنوینر حافظ عبدالعزیز صاحب ہوں گے، جب کہ ان کے معاونین میں مفتی غازی صلاح الدین صاحب، ڈاکٹر زاہد اقبال قاسمی صاحب، مفتی امتیاز الرحمن صاحب اور مولانا عبدالکلام صاحب (بیجو پاڑا) کو شامل کیا گیا۔
نشست کے اختتام پر یہ اعلان کیا گیا کہ پیش کی گئی تمام تجاویز پر ان شاء اللہ مرحلہ وار عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ پروگرام بلسوکرا اور اطراف کے علاقوں میں دینی بیداری، سماجی اصلاح اور اتحادِ امت کی جانب ایک اہم اور امید افزا قدم ثابت ہوگا۔

Leave a Response