All India NewsBlog

نوجوان ایس آئی آر سے متعلق ضروری دستاویزات کی تیاری میں معاون بنیں: مفتی محمد انور قاسمی

Share the post

اٹکی کی مساجد میں جمعہ سے قبل امارتِ شرعیہ کے علمائے کرام کے خطابات اور جامع مسجد میں ورکشاپ کا انعقاد

(نمائندہ: اٹکی | 30 جنوری 2026)
امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے ریاستِ جھارکھنڈ کے تمام اضلاع اور بلاک میں ایس آئی آر (SIR) کے سلسلے میں ایک ماہ سے جاری طویل ترین بیداری مہم اور عملی تربیتی ورکشاپ محض ایک وقتی یا انتظامی سرگرمی نہیں، بلکہ ملت کے فکری، سماجی اور دستوری مستقبل کے تحفظ کی ایک سنجیدہ، منظم اور دور رس جدوجہد ہے۔ یہ مہم اس حقیقت کی غماز ہے کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ شعور، نظم اور عملی رہنمائی کے ذریعے اپنی شناخت اور حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔
اس تحریک کے پس منظر میں حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم کی بصیرت افروز اور متوازن قیادت کارفرما ہے، جو جذباتی ردِعمل کے بجائے سنجیدہ، تعمیری اور آئینی دائرے میں رہ کر عملی اقدام کو ترجیح دیتی ہے۔
اسی سلسلے میں آج بعد نمازِ جمعہ ضلع رانچی کی مشہور آبادی اٹکی کی عظیم الشان جامع مسجد میں ایس آئی آر سے متعلق ایک جامع بیداری پروگرام اور عملی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی صدارت قاضیٔ شریعت رانچی حضرت مفتی محمد انور قاسمی (دارالقضاء رانچی) نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے امارتِ شرعیہ کی ایک صدی پر محیط دینی، تعلیمی، سماجی اور آئینی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارتِ شرعیہ نے ہر دور میں حالات کے اندھیروں میں شمعِ بصیرت جلانے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی ملت کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا ہوا، امارتِ شرعیہ نے بروقت اور مؤثر قدم اٹھایا۔
حضرت مفتی محمد انور قاسمی نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بدلتے ہوئے حالات میں دینی شعور کے ساتھ آئینی و قانونی آگہی نہایت ضروری ہے، اور ایس آئی آر اسی شعوری جدوجہد کا ایک عملی مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد ہر بستی میں ایسے باشعور، باکردار اور ذمہ دار نوجوان تیار کرنا ہے جو خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ عوام کی رہنمائی کر سکیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی ضرورت سمجھتے ہوئے عملی میدان میں کردار ادا کریں۔
واضح رہے کہ ریسرچ ٹیم کے اراکین مفتی قیام الدین قاسمی اور مفتی اکرام الدین قاسمی نے پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے ایس آئی آر کی عملی تربیت فراہم کی۔ انہوں نے نہایت سادہ، واضح اور عام فہم انداز میں ایس آئی آر کے تمام تکنیکی مراحل، مطلوبہ دستاویزات اور ضروری احتیاطی نکات تفصیل سے بیان کیے۔ شرکاء کو موقع پر عملی مشق بھی کرائی گئی، جس سے پروگرام کی افادیت میں نمایاں اضافہ ہوا اور نوجوانوں میں زمینی سطح پر کردار ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔
پروگرام کے دوران شرکاء کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور درپیش عملی مسائل کے قابلِ عمل حل پیش کیے گئے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایس آئی آر کے مرحلے میں عوامی رہنمائی کو اپنا دینی و سماجی فریضہ سمجھتے ہوئے گھر گھر جا کر یہ خدمت انجام دیں گے۔
اس سے پہلے امارت شرعیہ کی مفتی محمد انور قاسمی، مفتی قیام الدین قاسمی، ڈاکٹر حفظ الرحمن اور مفتی اکرام الدین قاسمی پر مشتمل ایس آئی آر تربیتی ٹیم کے پہنچنے پر اٹکی کے ذمہ داران اور باشندگان خصوصاً مولانا منیر الدین شمسی، جناب عقیل صاحب، حاجی تسلیم صاحب، حاجی معین صاحب، جناب الطاف صاحب، مولانا طلحہ ندوی صاحب، مولانا انصار ندوی صاحب، قاری طیب صاحب وغیرہم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور خوش آمدیدی کہا۔

واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں جاری یہ بیداری مہم حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم کی ہدایت پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ محترم ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی، قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء حضرت مفتی محمد انظار عالم قاسمی، مفتی محمد سہراب قاسمی ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ اور دیگر ذمہ داران کی دلی کوشش ہے کہ جھارکھنڈ کی عوام—خواہ وہ آدی واسی ہوں، اقلیتی طبقات ہوں یا اکثریتی عوام—کسی بھی مرحلے میں کسی دشواری کا شکار نہ ہوں اور تمام مراحل سہولت کے ساتھ مکمل کر سکیں۔
اس سے پہلے، قصبہ اٹکی کی پانچ مساجد جامع مسجد، مسجد جعفر، مدینہ مسجد، مسجد جامع رشید اور بلال مسجد میں جمعہ سے قبل بالترتیب قاضیٔ شریعت رانچی حضرت مفتی انور قاسمی صاحب، مفتی قیام الدین قاسمی، مفتی اکرام الدین قاسمی، ڈاکٹر حفظ الرحمن اور مفتی ابو داؤد قاسمی صاحب (معاون قاضی رانچی)، کے خطابات ہوئے، جن میں حالاتِ حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے بعد نمازِ جمعہ منعقد ہونے والی تربیتی نشست میں شرکت کی پرزور اپیل کی گئی۔

Leave a Response