الجامعہ امام ابو حنیفہ ہزاری باغ میں تقریبِ تکمیلِ حفظِ قرآن و سالانہ اجلاسِ عام کا انعقاد


علماء کےخطابات،طلبہ و اساتذہ میں انعامات و تحائف تقسیم، پچیس لفظی کہانیوں کے مجموعے کا اجرا
ہزاری باغ (نامہ نگار)۔قاضیِ شریعت اور علمی و انتظامی صلاحیتوں سے معمور معروف دینی شخصیت مفتی ثناء اللہ قاسمی کی زیر نگرانی شہر کی نہایت معروف اور قلیل مدت میں اپنی شناخت بنانے والی دینی درس گاہ الجامعہ امام ابو حنیفہ ہزاری باغ میں سالانہ اجلاسِ عام اور تقریبِ تکمیلِ حفظِ قرآن کریم بڑے ہی شان و شوکت اور دینی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں علماء، دانشوران، اہلِ خیر، طلبہ، سرپرستوں اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور جامعہ کی دینی و تعلیمی خدمات کو سراہا۔
اجلاس کی صدارت جامعہ رشید العلوم چترا کے صدر المدرسین و استاذِ حدیث مفتی شعیب عالم قاسمی نے فرمائی، جب کہ شہر کے نامور عالم دین مولانا شکیل الرحمن قاسمی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر دیگر علماء کرام، مقامی دانشوران، سماجی شخصیات اور جامعہ کے محبین کی قابلِ ذکر تعداد موجود رہی۔
اجلاس کا آغاز جامعہ کے استاذِ حفظ و قرأت قاری مہتاب فلاحی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا زکریا رازی نے نعت شریف اور قرآن و اہلِ قرآن کی فضیلت و عظمت پر مشتمل منظوم کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ پروگرام کی نظامت معروف نوجوان قلم کار احمد بن نذر نے نہایت خوش اسلوبی اور ادبی چاشنی کے ساتھ انجام دی۔
صدرِ اجلاس مفتی شعیب عالم قاسمی نے اپنے خطاب میں جامعہ امام ابو حنیفہ کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ادارہ نہایت قلیل مدت میں ایک مضبوط تعلیمی و تربیتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جو علاقے کے بچوں اور نوجوانوں کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ آج کے پُرفتن دور میں ایسے دینی ادارے ملت کے لیے قلعۂ حفاظت کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح اسلامی فکر اور کردار سازی کی جاتی ہے۔ انہوں نے اہلِ خیر حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دینی اداروں کی بقا اور ترقی آپ کے تعاون سے وابستہ ہے، اس لیے ہر صاحبِ استطاعت فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق ان اداروں کی کفالت کرے، تاکہ علمِ دین کی شمع فروزاں رہے اور آئندہ نسلیں دین سے جڑی رہیں۔
مدعوء خصوصی مولانا شکیل الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں طلبہ کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآنِ کریم کا حفظ ایک عظیم نعمت اور بڑی ذمہ داری ہے، جس کے تقاضے صرف حفظ تک محدود نہیں بلکہ قرآن کے مطابق زندگی گزارنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے طلبہ کو راہِ راست پر قائم رہنے، وقت کی قدر کرنے اور یکسوئی کے ساتھ تعلیم میں مشغول رہنے کی تلقین کی اور جدید دور کے فتنوں خصوصاً اسٹیج کی شہرت، ریاکاری اور نام و نمود کے فتنوں سے بچنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہعلم دین کا مقصد شہرت یا دنیاوی نام کمانا نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور امت کی رہنمائی ہے، اس لیے طلبہ کو عاجزی، تقویٰ اور سادگی کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔
نمازِ مغرب کے بعد جامعہ کے طلبہ کی انجمن تربیت اللسان کے شرکاء نے اپنی لسانی و بیانی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ طلبہ نے ترتیل و حدر کے ساتھ تلاوتِ قرآن کریم، نعتیہ اشعار، دینی نظموں، دعاؤں اور مختلف موضوعات پر اردو،عربی،فارسی،انگریزی اور ہندی میں پُراثر تقاریر پیش کیں، جس سے حاضرین بے حد متاثر ہوئے اور طلبہ کے علمی و ادبی ذوق کی ستائش کی گئی۔
سالانہ امتحانات میں کامیاب ہونے والے درجہ نورانی قاعدہ سے لے کر درجہ عربی پنجم و ششم تک کے طلبہ کو کتابیں، میڈل، ٹرافیاں، پہننے کے جوڑے اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔
حفظِ قرآن کریم مکمل کرنے والے دونوں طلبہ کے سروں پر اکابر علماء کے دستِ مبارک سے دستار بندی کی گئی، جو اس موقع پر انتہائی روح پرور منظر تھا۔
اسی طرح ایک نشست میں مکمل قرآن کریم زبانی سنانے والے طالب علم کو نقد ایک ہزار روپے اور اس کے استاذ کو آٹھ سو روپے بطور تشجیعی انعام پیش کیا گیا۔ جامعہ کے ناظمِ اعلیٰ مفتی ثناء اللہ قاسمی کی جانب سے اساتذہ کرام کو بطور تحفہ جوڑے بھی عنایت کیے گئے۔
اجلاس کی ایک نمایاں خصوصیت نوجوان قلم کار احمد بن نذر کی پچیس لفظی کہانیوں کے مجموعے “بس پچیس لفظ” کا باضابطہ اجرا تھا، جو علماء و دانشوران کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر مختصر افسانے کی اس منفرد صنف کو اردو ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس مجموعے میں شامل متعدد کہانیاں سوشل میڈیا پر مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ ہند و پاک کے مختلف اخبارات و رسائل مثلاً روزنامہ راشٹریہ سہارا، ہفت روزہ بچوں کا اسلام (پاکستان)، روزنامہ پندار، ماہنامہ الفاظ ہند اور ماہنامہ ہادیہ ای میگزین میں شائع ہو چکی ہیں۔
اس اجلاس میں علاقہ کے علماءکرام اور شہر کے دیگر عمائدین شریک ہوئے۔
اجلاس کا اختتام صدرِ اجلاس مفتی شعیب عالم قاسمی کی پُراثر دعاء پر ہوا، جس میں ادارے، طلبہ، اساتذہ اور امتِ مسلمہ کی فلاح و کامیابی ک لیے دعائیں کی گئیں۔ بعد ازاں تمام مہمانوں، شرکاء اور سامعین کے لیے شاندار عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔








