مدرسہ عالیہ عربیہ کانکے میں تعلیمی مظاہرہ و اختتامی پروگرام انجمن اشرفیہ کا انعقاد


رانچی: علاقے کی معروف قدیم دینی درسگاہ مدرسہ عالیہ عربیہ کانکے کے انجمن اشرفیہ کے تحت مسابقہ تلاوت، نعت وخطابت و تقسیم انعامات پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مدرسہ کے مختلف شعبہ جات سے30 طلباء نے حصہ لیا۔ یہ مسابقہ تلاوت، نعت و اردو، عربی وانگریزی تقاریر پرمشتمل تھا۔ مسابقہ کا آغاز مدرسہ ہٰذا کے طالب علم محمد فیاض کی تلاوت سے کیا گیا۔اورنظامت کے فرائض انجام مدرسہ ھٰذا کے طالب علم محمد مظہر نے انجام دیا۔ مسابقہ میں جھارکھنڈ کے مشہور قاری قرآن حضرت قاری صہیب احمد معاون ناظم مدرسہ عالیہ عربیہ کانکے کے شعبہ حفظ و نعت حکم کی حیثیت سے موجود رہے۔
جبکہ حضرت مولانا مفتی عمران ندوی مہتمم مدرسہ مظہر العلوم اربا اور مولانا مفتی محمد توقیر شعبہ تقریر کے حکم کی حیثیت سے موجود رہے۔ مدرسہ عالیہ عربیہ کانکے رانچی کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا قاری اشرف الحق مظاہری نےفرمایا کہ دنیا کے اندر کوئی بھی کام کرنے والا ہو وہ الله اور الله کے رسول کے نزدیک قرآن کریم پڑھنے پڑھانے والے سے بہتر نہیں ہے۔ بہتر وہی ہے جو قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے میں ہے۔ قاری اشرف الحق مظاہری نے آگے فرمایا کہ جو طلباء آج حفاظ کی شکل میں آپکے سامنے بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں یہ دراصل انکی رات و دن کی کڑی محنت اور اساتذۂ کرام کی جدو جہد اور ان کے والدین کی کوششوں کا ثمرہ ہےـ

اس موقع پر مولانا فیروز، مولانا صابر حسین المظاہری، مولانا منصور المظاہری، مولانا شہاب الدین المظاہری، مولانا مکرم المظاہری نایب ناظم کا خصوصی بیان ہوا اور طلبہ کو بڑی قیمتی نصیحتیں فرمائیں۔ مقررین نے کہا کہ کہ جن بچوں نے قرآن کریم کی تکمیل کا شرف حاصل کیا ہے الله تعالی نے انکو اپنا ذاتی کام سونپا ہےـ مزید چند قیمتی نصیحتوں کے بعد مولانا صابر حسین المظاہری کی دعائیہ کلمات پر پروگرام کا اختتام ہواـ پروگرام میں جن حضرات نے خاص طور پر شرکت کی ان میں حضرت مولانا قاری اشرف الحق مظاہری ناظم اعلیٰ مدرسہ عالیہ، قاری عبدالرؤف، قاری صہیب احمد، مولانا منصور عالم مظاہری، مولانا شہاب الدین مظاہری، مفتی عمران ندوی، مولانا مکرم، قاری مظفر حسین، مولانا معین الدین، مولانا شہامت حسین، مولانا صابر حسین المظاہری، مولانا فیروز قاسمی، مولانا توقیر، مفتی سہیل، مولانا تاج الدین، قاری خالد، حافظ عرفان، حافظ عبدالقدوس، قاری عثمان، پرویز وکیل، حاجی منور، محمد احمد، جمیل اختر، عبدالحکیم، مشرف سمیت سینکڑوں لوگ موجود تھے۔








