ذیشان ربانی رشتہ ازدواج سے منسلک, نہ کوئی ڈیمانڈ،نہ کوئی جہیز،سادگی سےنکاح


رانچی:(عادل رشید) آج کے فیشن کے دور میں جہاں ہر کوئی فیشن اور دکھاوے کے پیچھے بھاگتا نظر آتا ہے۔ شادی کے لئے لڑکوں کا الگ ڈیمانڈ اور لڑکیوں کا الگ ڈیمانڈ ہوتا ہے۔ فیشن اور دکھاوے نے سماج کو برباد کر رہاہے۔ لیکن جہاں تعلیم ہوگی وہاں اپنی اثر چھوڑتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ دنیا نیک اور اچھے لوگوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شادی بیاہ اوپر طے ہوتی ہے۔ لیکن بہت کم لوگ سنت کے مطابق شادی کرتے ہیں۔ کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے۔ آج ہم بات کر رہے ہیں نوجوان سماجی کارکن گڈا اور رانچی میں ایک الگ پہچان رکھنے والے ذیشان ربانی کا۔ جنہوں نے سنت کے مطابق شادی کی۔ اپنے والد کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے سادگی سےنکاح پڑھا۔

رانچی شہر کے مشہور شہر قاضی حضرت مولانا مفتی قمر عالم قاسمی نے مہر فاطمی پر نکاح پڑھایا ۔ذیشان ربانی ولداحمد غوث ربانی گڈا نے جناب فیلو شیخ کی بیٹی حسینہ پروین ضلع پاکوڑسے شادی کی۔ شادی کے بعد ولیمہ کرنا سنت ہے۔ اس سنت پر عمل کرتے ہوئے کربلا چوک واقع جمعیت العراقین گلشن میرج ہال میں دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا گیا۔ آنے والے سبھی مہمانوں کااستقبال ذیشان ربانی،ریحان ربانی نے استقبال کیا۔آج کے فیشن کے دور میں سوشل میڈیا کے دور میں پورے گھر کو سمیٹ کر رکھنے والی سبھی کولیکر چلنے والی چاندنی پروین نے کہاکہ بیٹی گھر کی شان ہوتی ہے۔ بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہ کریں۔

اپنی بیٹی کو تعلیم سے آراستہ کریں، یہ ہمارے نبی کی سنت ہے۔ نکاح کو عام کریں۔نکاح اور ولیمہ میں شرکت کرنےوالوں میں صحافی عادل رشید،حافظ محمد عارف، فضل علی، جمعیت علماء جھارکھنڈ کے جنرل سکریٹری نیز سماجی کارکن ہر دلعزیزالحاج شاہ عمیر ،محمد انس، محمد عزیر،شہر قاضی مفتی محمد قمر عالم قاسمی، احمد غوث ربانی، فیلو شیخ،مفتی غلام علی، ریحان ربانی،بابرعلی،سلون شیخ،مولانا وصی اللہ قاضی،عاصف اقبال،نعمان اقبال،حافظ غازی،لکھویرسمیت سینکڑوں لوگ شامل تھے۔













