جو بڑھ کر اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے


تاریخ عالم گواہ ہے کہ کامیابی اور اقبال مندی انہی لوگوں کا نصیب بنتی ہے جو زندگی میں کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ترقی کی راہوں پر وہی لوگ پہونچ پاتے ہیں جن کی ہمتیں بلند، شعور پختہ اور ضمیر بیدار ہوتا ہے، تاریخ اور اتہاس میں وہ جیالے ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتے ہیں جو اپنا نقشِ پا اور نشانِ راہ چھوڑ جاتے ہیں، علامہ اقبال مرحوم نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا تھاکہ-
نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے
اور “کامیابی” در اصل ایک طویل سفر کا نتیجہ اور اس کی منزل ہوتی ہے؛ چناں چہ محنت اور سعی اس کا راستہ اور طریق ، دور اندیشی اور منصوبہ بندی زادِ راہ ، ہمتوں کی بلندی اور حوصلہ کی پختگی اس کی سواری ، صلاحیت اور استعداد اس کے لئے قطب نما ، کامیابی و ظفر یابی اس کی منزل ہے، اور ظاہر ہے کہ ترقی انہی لوگوں کا مقدر ہوتی ہے جو محنت اور کوشش کو اپنا نصب العین اور مقصدِ اصلی بنالیتے ہیں؛ کیوں کہ
یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو
روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو
کامیابی کی کلید محنت کے پردہ میں !
جس طرح زندہ دلی کا نام ہی زندگی ہے اسی طرح کام کرنا ہی کامیابی ہے؛ کیوں کہ جب انسان جہدِ مسلسل اور سعیٔ پیہم کی پوشاک زیب تن کرکے میدانِ عمل میں اُترتا ہے تو ترقی و سربلندی، اس کے قدم چومنے لگتی ہے،
بس اپنے اندر جنون کی چنگاری شعلہ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؛ لیکن افسوس کہ ہماری صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے کہ ہماری قوم کو نہ ترقی اور بلندی کا شوق ہے نہ کچھ کرنے کا جذبہ، نہ شاندار ماضی کی خبر ہے نہ روشن مستقبل کی فکر، اولو العزم جیالوں کی داستانِ حیات سے شناسائی ہے نہ اوراقِ تاریخ پر نظر، بس غفلت سے لبریز زندگی گذر رہی ہے، ستم ظریفی کی انتہا یہ کہ نہ ہم خود محنت کرتے ہیں اور نہ کسی کی محنت ہماری آنکھوں میں جچتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ کوتاہ عملی اور کام چوری ہماری طبیعت ثانیہ بن چکی ہے، اور محنت و مشقت سے بچنے کے لئے حیلہ بازی کا سہارا لیا جاتا ہے؛ حالانکہ یہ تو ناامید اور نامراد لوگوں کا طریقۂ کار اور وتیرہ خاص ہوا کرتا ہے اور کامیابی کا حصول محنت و سعی پر منحصر ہے، اگر ہم بھی اپنی زندگی میں کچھ انقلابی کام کرنا چاہتے ہیں تو سستی وکاہلی کی زنجیروں کو محنت ومشقت کی قیچی سے چاک کرنا پڑے گا ؛ یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے اور اپنی قسمت کو کوسنے سے رتی برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا، اور دنیا کا دستور بھی ہے کہ ”کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے“۔
کیوں کہ کسی نے سچ کہاہے-
منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل
خیرات میں تو چاند ستارے نہیں ملتے
مشاہداتِ زمانہ گواہ ہے کہ کامیاب تو وہی شخص ہوگا جو محنت و مشقت کرے، مشکل کن اور صبر آزما حالات میں صبر و استقامت کا دامن چھوٹنے نہ دے، لوگوں کی اول فول بگواس اور دشنام طرازیوں کی پرواہ کیے بغیر اور نکتہ چینوں کی تلخ نوائی اور سخت کلامی پر شکستہ دل ہونے کے بجائے اپنی منزل اور اپنے گول پر پوری توجہ مرکوز رکھیں کیوں کہ محنت کے بغیر کوئی کامیابی نہیں اور محنت کے بعد کوئی محرومی نہیں، اور اس کے برخلاف یوں ہی شیخ چلی کی طرح محنت کے بغیر کامیابی اور ترقی کے خواب دیکھنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں، سچ تو یہ ہے کہ
ہماری عدیم الفرصتی کا بحران:
ہمارے زمانہ کا سب سے بڑا المیہ اور ناسور یہ ہے کہ جب بھی کسی شخص سے ملاقات ہو اور اسے کسی ذمہ داری کی تفویض کی جائے یا تعمیلِ امر کی بات کہی جائے تو اس وقت سامنے والے کی زبان پر یہی شکوہ تازہ دم ہوتا ہے کہ فرصت نہیں ہے، وقت نہیں ملتا، اور تعجب کی بات تو یہ کہ بہت سے لوگوں کو تو کام کچھ ہوتا نہیں، لیکن پھر بھی سارا دن مصروف اور مشغول رہتے ہیں، دراصل یہ سب مقصد سے بے خبری اور منزل کی عدم تعیین اور منظم و مؤثر منصوبہ بندی نہ ہونے کا نقصان ہوتا ہے؛ ورنہ مصروفیت کوئی وجہ نہیں، کام کرنے والوں نے یہ تو اپنے تنگ وقت اور عدیم الفرصتی کے باوجود تنہا وہ کام کرگئے، جن پر آج بھی پوری دنیا رشک کرتی ہیں، تو پھر ہماری مصروفیتیں کس درجہ کی ؟
الغرض یہاں پر بطورِ مثال اور عبرت کے لئے تاریخ اسلام کے صرف ایک شخص کی تصویر پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ بائیس لاکھ مربع میل کا حکمران سیدنا حضرت عمر بن خطاب ؓ کی شخصیت ہے، ”امیر المؤمنین سے بڑھ کر مصروف ترین اور عدیم الفرصت کون ہوسکتا ہے مگر فرصت کی فراوانی کا حال یہ ہے کہ زکات کا اونٹ بھاگ گیا اس کی تلاش کے لئے خود ہی نکلے ہوئے ہیں، ایک بدو کے یہاں رات کو ولادت کا مرحلہ ہے اس کا خیمہ مدینہ کے باہر ہے تو آپ خود اپنی زوجہ مکرمہ کو لیکر اس کے پاس پہونچتے ہیں اور جب تک بخیریت تولد نہیں ہوجاتا وہاں سے ہٹتے نہیں ، ایک عورت خالی ہانڈی آگ پر چڑھائے ہوئے ہے آپ کو معلوم ہوتا ہے تو بیت المال سے کھانے کا سامان خود لے جاتے ہیں خود آگ جلاتے ہیں ، خود پکاتے ہیں، خود بچوں کو کھلاتے ہیں اور کس قدر خوش ہوکر آتے ہیں-
اور بزبانِ حال یہ کہہ گئے :
”وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے“
یاد رکھنا چاہیے کہ کام کرنے والے اس طرح بھی کام کرکے چلے جاتے ہیں لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ کچھ کام کرنے کا عہد کریں، محنت کا مزاج بنائیں ، اور اپنی محنت پر نظر ہو، نتیجہ کی فکر نہ ہو، جب محنت و جفاکشی مسلسل اور پیہم ہو تو متوقع نتائج کا برآمد ہونا یقینی امر ہے، یہی قدرت کا اصول اور دنیا کا دستور ہے جیسا کہ ایک شاعر نے اس حقیقت کو الفاظ کے موتیوں میں کچھ اس انداز سے پرویا ہے :
بِقَدرِ الكدِّ تُكتَسَبُ المَعالي
وَمَن طَلبَ العُلا سَهرَ اللَّيالي
محنتوں کے بقدر ہی مراتب ملا کرتے ہیں اور جو بلند مقام و مرتبے کے خواہشمند ہوتے ہیں وہ راتوں کو جاگا کرتے ہیں
تَرومُ العِزَّ ثم تَنامُ لَيلًا
يَغوصُ البحر من طلبِ اللآلي
تمہیں عزت کی طلب ہے مگر راتوں میں بے خبر پڑے سوتے رہتے ہو۔ (جان لو کہ) جنہیں موتیوں کی طلب ہوتی ہے وہ گہرے سمندروں میں غوطے لگایا کرتے ہیں۔
وَمَن رامَ العُلا مِن غَيرِ كَدٍ
أضاعَ العُمرَ في طَلَبِ المُحالِ
اور جس نے بغیر مشقت کے کامیابی پانا چاہی، اُس نے اپنی عمر ایک ناممکن کام میں ضائع کردی۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی کہ
الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے رحمت صافیہ بنت انور حسین صاحب (آزاد بستی، مشن گراؤنڈ ، رانچی جھارکھنڈ) نے نیٹ کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی ، (وماتوفیقی الا باللہ)
یہ کامیابی ان کی انتھک محنت، جہد مسلسل،اساتذہ کی رہنمائی، والدین کی آہ سحر گاہی ، الحاح وزاری ، نیک نیتی ، تمام اعزاء اقارب اور اہل بستی کی دعاؤں اور خصوصا رحمت صافیہ کی بڑی ہمشیرۂ نیک ” ثنا امین ” کی توجہات اور کوشش کا ثمرہ ہے۔
ہم اپنی اور تمام اعزاء و اقارب ، اہل محلہ اور مسجد جیلانی ( آزاد بستی ، مشن گراؤنڈ ، رانچی) کی کمیٹی کی جانب سے خوب خوب مبارک باد پیش کرتے ہیں ،
اگتا سورج دعا دے آپ کو
کھلتا پھول خوشبو دے آپ کو
ہم تو کچھ دینے کے قابل نہیں
دینے والا ہزار خوشیاں دے آپ کو
اور رب العالمین کے حضور دعاء گو ہیں کہ اللّٰہ رب العزّت پچی کو دنیا وآخرت کی تمام تر کامیابی سے ہم کنار کرے ، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ، اور خلق خدا کی خدمت کا جذبہ پیدا فرمائے – آمین یارب العالمین،
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
انس علی اشاعتی (امام وخطیب مسجد جیلانی آزاد بستی رانچی)
