حواری مسجد میں ایمانی و قومی جذبے سے لبریز مفتی محمد قمر عالم قاسمی کا خطاب


رانچی (نامہ نگار )
حواری مسجد کربلا چوک رانچی میں شہر قاضی و مسلم میرج رجسٹرار مفتی محمد قمر عالم قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کا ایمانی و قومی جذبے سے لبریز خطاب
مصلیان مسجد نے کہا کہ مفتی صاحب کی تقریر نے مرحوم مولانا جمیل اختر رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ کر دی۔
مفتی قمر عالم قاسمی گزشتہ پچیس برسوں سے مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر کی تدریس و تعلیم میں مشغول ہیں اور آٹھ برسوں سے حواری مسجد کے محراب و منبر کی زینت ہیں۔ وہ شہر رانچی اور صوبہ جھارکھنڈ کے معروف و فعال دینی و سماجی رہنما ہیں، جو مختلف انجمنوں اور اداروں کے ذریعے قوم و ملت کی خدمت انجام دیتے رہتے ہیں۔
یومِ آزادی کے موقع پر آپ نے اپنی مؤثر اور دلوں کو جھنجھوڑنے والی تقریر میں کہا کہ ہندوستان کی آزادی محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ ایمان و عمل، وجود و بقا اور شعائرِ اسلام کی حفاظت کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارے اسلاف اور اکابر علماء نے اس راہ میں تختہ دار کو گلے لگایا، توپوں کے دہانے پر چڑھ کر اپنے جسم کے پرخچے اڑواۓ اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں۔
مفتی صاحب نے موجودہ حالات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آج نئی نسل کو آزادی ہند کی اصل تاریخ اور مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں سے روشناس کرانا ہماری ذمہ داری ہے، کیونکہ نصابی کتابوں سے مسلم مجاہدین اور مغل حکمرانوں کی خدمات کو منظم منصوبے کے تحت حذف کیا جا رہا ہے۔ اگر قوم بیدار نہ ہوئی تو آنے والی نسلیں یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گی کہ ان کے آباؤ اجداد کا آزادی میں کوئی کردار نہیں تھا اور وہ پھر غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں آئینِ ہند اور دستورِ ہند محفوظ ہے، یہ ملک بھی محفوظ ہے۔ اس آئین کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہمیں وہی قربانیاں دینا ہوں گی جو ہمارے آباؤ اجداد نے اس وطن کو آزاد کرانے کے لیے پیش کی تھیں۔
