All India NewsBlog

29 رمضان المبارک کو رویت یاعدم رویت پر قاضیان شریعت کافیصلہ حتمی ہوگا، اداراہ شرعیہ جھارکھنڈ

oplus_1048576
Share the post
oplus_1048576

رانچی: دارالقضاء ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ اسلامی مرکز ہندپیڑھی رانچی میں قاضی شریعت حضرت مولانا مفتی محمد فیض اللہ مصباحی کی صدارت میں قاضیان شرع، مفتیان دین، مساجد کے امام کی ایک اہم نشست ہوئی۔ جس میں آئندہ 29 رمضان المبارک 1447 ہجری مطابق19 مارچ 2026 دن جمعرات کو چاند دیکھنے اور رویت ہونے یا نہ ہونے ساتھ ہی ممکنہ پیدا ہونے والے پیچیدہ مسائل ونامساعد حالات پر تبادلہ خیال ہوا۔ حضرت مولانا قطب الدین رضوی ناظم اعلیٰ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ نے کہا کہ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ ہمیشہ شریعت کے اصولوں اور قانونی ضابطوں کے مطابق ہی عوام الناس کو رہنمائی کرتا آرہا ہے۔ اس کے پیش نظر آج کی نشست رکھی گئی‌، نشست میں تمام شرکاء کے باہمی مشورہ کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ 29 رمضان المبارک یعنی 19 مارچ 2026 دن جمعرات کو ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے قاضیان، مفتیان کرام، علماء دین اور ذمہ داران چانددیکھنے کے لیئےحضرت قطب الدین رسالدارشاہ بابا درگاہ شریف ڈورنڈا رانچی میں موجود رہیں گے،

اور پورے جھارکھنڈ میں 29 رمضان المبارک کو عید الفطر کا چاند دیکھنے کے لیے 70 سے زائد مقامات پر ہلال مرکز بناے گئے ہیں جہاں سے عید الفطر کا چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیاہے۔ فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 29 رمضان کو چاند ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں قاضیان شریعت دارالقضاء ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا فیصلہ حتمی فیصلہ ہوگا۔ اگر 29 کو چاند کی رویت ثابت ہو گئی تو 20 مارچ دن جمعہ کو عید الفطر کی نماز پڑھی جائے گی اور اگر رویت ثابت نہ ہوئی تو 30 رمضان کے روزہ پورے کیے جائیں گے اور 21 مارچ دن سنیچر کو عید الفطر کی نماز ادا کی جائے گی۔ عوام الناس، ہلال کمیٹیوں، مساجد، عید گاہ کمیٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی افواہ پر دھیان نہ دیں گے۔ اور غیر ضروری طور پر اپنے اماموں کے اوپر دباؤ نہیں بنائیں گے رویت یاعدم رویت پر بہرصورت شریعت کے تقاضوں کی تکمیل ہوگی ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہواکہ اگر دوردرازعلاقہ میں رویت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ادارہ شرعیہ شہادت شرعیہ حاصل کرنے کے لیئے بڑے پیمانے پر تیاری کررہاہے۔

oplus_3145728

آج کی نشست میں حضرت مولانا محمدقطب الدین رضوی ناظم اعلی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ، حضرت مولانا مفتی فیض اللہ مصباحی، حضرت مولانا قاری ایوب رضوی،حضرت مولاناڈاکٹرتاج الدین رضوی،حضرت مولانا مفتی عاقب جاوید مصباحی، حضرت مولانا شمشاد مصباحی، حضرت مولانا مسعود فریدی شہر قاضی رانچی، حضرت مولانا عرفان صادق مصباحی، حضرت قاری مجیب الرحمن، مولانا منہاج الدین رضوی، مولانا نظام الدین مصباحی، مفتی وسیم رضا، قاری آفتاب ضیا، حافظ عبدالمبین نازش سمیت کئی معزز علماء کرام موجود تھے۔

Leave a Response