All India NewsBlogJharkhand News

حاجی محمد فیروز صاحب صدر راعین پنچایت کی شخصیت و ہمہ جہت خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی 7004951343 )

Share the post

معاشرے میں ہمیشہ اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو صرف اپنے اور اہل و عیال کے لئے جیتے ہیں ، انھیں اپنے خاندان ، آس پڑوس ، محلے و سماج کے لوگوں اور معاشرے میں ہورہے اچھے و برے حالات و واقعات اور آپسی اختلاف و انتشار سے پیدا ہو رہے مسائل کو حل کرنے یا اسے ختم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، ان کی زندگی صرف اور صرف اپنی زندگی کے روزہ مرہ مسائل کو حل کرنے میں ہی گزرتی ہے ، لیکن معاشرے میں ہمیشہ کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اپنی زندگی کے روزمرہ مسائل کے حل کے لئے نہیں بلکہ اپنے گھر ، محلہ ، آس پڑوس اور دوسروں کے مسائل کے حل کی خاطر بھی سرگرداں و پریشاں نظر آتے ہیں ، انھیں معاشرے میں ہورہی نا انصافی ، آپسی اختلاف و انتشار اور دوسری معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کی فکر لگی رہتی ہے ، وہ کسی ذاتی مفاد پرستی ، خود غرضی اور ریاکاری کے بغیر سماجی خدمات کو انجام دینے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور فلاحی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں ، ایسے ہی افراد پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہوئے انھیں معاشرتی ذمداریاں سپرد کی جاتی ہیں ، انھیں کسی پنچایت یا کسی ادارہ و تنظیم کا ذمدار بنایا جاتا ہے ، جسے وہ بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں ، ایسے ہی زندہ دل اور سماجی سوجھ بوجھ اور باشعور اشخاص میں ایک اہم شخصیت جناب حاجی محمد فیروز صاحب کی ہے ، جو بنیادی طور پر راعین محلہ ھند پیڑھی رانچی کے رہنے والے ہیں ، جو سبزیوں کے تھوک تاجر ہیں ، جن کے کاروباری لین دین اور ایمانداری میں کبھی کوئی سوال کھڑا نہیں ہوا ، وہ حد درجہ ایماندار ، صوم و صلوٰۃ کے پابند ، بیباک ، بنا کسی لاگ لپیٹ کے دو ٹوک بات کرنے والے شہر کے مشہور و معروف تاجر اور سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں ، نہ بہت زیادہ لہیم و شہیم اور نہ ہی بہت زیادہ دبلے پتلے بلکہ معتدل قدوقامت ، کرتہ پاجامہ اور گول ٹوپی میں ملبوس ، چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی اکثر و بیشتر کندھے پر سفید رومال رکھ کر چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ لئے پر اعتمادی کے ساتھ چلنے والے حاجی محمد فیروز صاحب رانچی کی مشہور و معروف برادری راعین پنچایت کے اب تک کے سب سے کم عمر نوجوان صدر ہیں ، جو گزشتہ کئی برسوں سے مستقل صدارت کی ذمداری اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ، واضح ہو کہ رانچی شہر میں راعین پنچایت سے زیادہ منظم اور سماجی خدمات انجام دینے والی دوسری کوئی پنچایت نہیں ہے ، راعین پنچایت کے ماتحت راعین اردو مڈل/ ہائی اسکول ، راعین انٹر کالج ، راعین مسجد ، راعین شفاءخانہ ، راعین کمیونٹی ہال (امام باڑہ کے اوپر) ڈیلی مارکیٹ اور ڈیلی مارکیٹ یونین جیسے ذیلی ادارے آتے ہیں جس کی نگرانی و سرپرستی راعین پنچایت کرتی ہے ، راعین پنچایت اور اس کے ماتحت آنے والے تمام ذیلی اداروں کی نگرانی و سرپرستی راعین پنچایت کے صدر کی ہوتی ہے ، جناب حاجی محمد فیروز صاحب گزشتہ سات آٹھ سالوں سے راعین پنچایت کے صدر ہیں، اب تک انھوں نے راعین پنچایت کے صدر کی حیثیت سے اپنی ذمےداریوں کو بہت ہی خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے ، حاجی محمد فیروز صاحب نے اپنی شخصیت و خدمات اور اپنی سماجی کارکردگی کو صرف راعین پنچایت کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ انھوں نے ہمیشہ دوسری برادریوں کے ساتھ بھی تال میل بنائے رکھا ، مسلم معاشرے میں پیش آنے والے اکثر و بیشتر مسائل کو حل کرنے میں راعین پنچایت کے صدر جناب حاجی محمد فیروز صاحب ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں ، رانچی شہر و مضافات میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے حل کی خاطر مین روڈ سے متصل لیک روڈ میں واقع راعین اسکول میں تمام برادریوں کے ذمداراران ، علماء کرام ، اور مختلف پنچایتوں ، اداروں اور تنظیموں کے ذمداران سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں جس کی پہل ہمیشہ راعین پنچایت کے صدر جناب حاجی محمد فیروز صاحب نے کی ہے ، گویا مختلف مسائل ، مختلف اداروں و تنظیموں اور اس کے افراد کے درمیان آپسی اختلاف و انتشار کو مل بیٹھ کر خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے اور کرانے کی صورت میں حاجی محمد فیروز صاحب پل کا کام کرتے ہیں ، مسلمانوں کے درمیان آپسی اختلاف اور لڑائی جھگڑے کے مختلف معاملات کو انھوں نے تھانہ اور کورٹ کچہری پہنچنے سے قبل مل بیٹھ کر افہام و تفہیم اور آپسی رضامندی سے حل کردیا ہے ، جس کی بناء پر ہند پیڑھی اور ڈیلی مارکیٹ تھانہ اور ضلع انتظامیہ کے افسران بھی شہر کے حساس معاملوں میں حاجی محمد فیروز صاحب کی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں ، حاجی محمد فیروز صاحب ایک بہت ہی با اخلاق ، نرم مزاج ، اسلامی شریعت کی ممکنہ حد تک پابندی کرنے والے ، حق گو ، مہمان نواز ، علماء کرام و ائمہ مساجد کا حد درجہ احترام و اکرام کرنے والے ، چھوٹوں پر شفقت اور اپنے بڑوں کا بہت زیادہ احترام کرنے والے اور غرباء و مساکین کی پوشیدہ طور پر امداد کرنے والے اور دعوت و تبلیغ سے عملی طور پر منسلک رہنے والے ایک دیندار اور ذمدار آدمی ہیں ، دینی کاموں اور دینی تحریکوں سے ان کی وابستگی قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی ہے ، میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب مجھے ایک دن فجر کی نماز کے بعد سیر وتفریح کے دوران ندی گراؤنڈ ھند پیڑھی رانچی میں واقع ” مسجد عائشہ ” کو دیکھنے کا موقع ملا ، جماعت کے چند افراد سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ مسجد عائشہ کی زمین کو راعین پنچایت کے صدر اور حد درجہ دینی مزاج رکھنے والے شہر رانچی کے مشہور و سماجی کارکن جناب حاجی محمد فیروز صاحب نے فی سبیل اللہ وقف کیا ہے ، معاشرے میں کئی لوگ اکثر و بیشتر جب کوئی دینی یا سماجی خدمت انجام دیتے ہیں تو سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اس کی خوب تشہیر کرواتے ہیں تاکہ ان کی دینی و دنیاوی خدمات کا چرچا عام ہو جائے اور اس کے صلے میں انھیں کسی بڑے ادارے یا تنظیم کا صدر و سکریٹری بنا دیا جائے مگر حاجی محمد فیروز صاحب کے اندر ایسی کوئی بات یا ایسا کوئی جذبہ دیکھنے اور سننے میں نہیں آتا ، یہ ان کے خلوص اور ان کی ایمانداری کی سب سے بڑی علامت اور پہچان ہے ، انھوں نے راعین پنچایت کا صدر رہتے ہوئے راعین پنچایت اور اس کے ذیلی اداروں کو ترقی دیا ہے ، نقصان نہیں پہنچایا ہے اور نہ ہی تنزلی کی طرف لے گئے ہیں ، اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ برادری کے اندر یا باہر ان کی تنقید نہیں کی جاتی ہوگی ، ہمارے مسلم معاشرے کی ایک بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ بہت کچھ کرنے کے باوجود آپ چند مفاد پرست اور خود غرض لوگوں کی منفی تنقید سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے ہیں ،زندگی میں اگر آپ نے سینکڑوں اچھے فلاحی کام کئے اور کہیں ایک جگہ جانے انجانے کوئی غلطی ہو گئی تو آپ ساری اچھائیوں کو پس پشت ڈال دیا جائے گا اور زندگی کی ایک غلطی کو نشانہ بنا کر آپ کو بدنام کرنے اور اور آپ کو آپ کے مقام سے نیچے گرانے کی تمام تر ممکنہ کوششیں کی جائیں گی اور یہ کام حاسدین اپنے دلوں میں پل رہے بغض و عناد کی آگ بجھانے کی خاطر کریں گے ، جناب حاجی محمد فیروز صاحب نے مسلم معاشرے میں ہر چھوٹے بڑے اختلاف و انتشار کو آپسی اتحاد و اتفاق سے مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہمیشہ کامیاب پہل کی ہے گرچہ وہ اپنی اس پہل و کوشش میں کہیں کہیں چند منافقین کی منافقت سے ناکام بھی رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوا اور نہ ہی انھوں نے اپنے اصولوں سے کبھی کوئی سمجھوتہ کیا ہے ، ان کی سادہ مزاجی و دینداری اور ہر ایک پر اعتماد و یقین کر لینے کی خوبی سے کئی مفاد پرست ، خود غرض اور موقع پرست لوگوں نے ان کی شخصیت کا خوب استعمال بھی کیا ہے اور ہنوز کر رہے ہیں ، جس کا اعتراف حاجی محمد فیروز صاحب کو بھی ہے ، بھاجپا کی سابق خاتون ترجمان نپون شرما کی پیغمبر اسلام کے خلاف دئے گئے قابل اعتراض بیان سے پورے ہندوستان میں غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی جس کی لپیٹ سے رانچی بھی محفوظ نہ رہ سکا ، 10/ جون 2022 بروز جمعہ رانچی کے مین روڈ پر برپا ہنگامے اور فساد کو روکنے کے لئے سوائے حاجی محمد فیروز صاحب کے کوئی سامنے نہیں آیا ، یہ ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ راعین پنچایت کے صدر جناب حاجی محمد فیروز صاحب رانچی شہر میں پیدا ہونے والے ہر چھوٹے بڑے مسائل اور حالات و معاملات کو حل کرنے کی خاطر انجام کی پرواہ کئے بغیر اور کسی کی پہل کا انتظار کئے بغیر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کود جاتے ہیں ، یہ ان کی بہت خوبی ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ، ایسے لوگوں کی معاشرے میں پذیرائی ہونی چاہئے اور ان کا حوصلہ بڑھانا چاہئے ورنہ معاشرے کی اصلاح و خدمت کے لئے کوئی آگے نہیں بڑھے گا اور حالت یہ ہو جائے گی کہ ،
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے

Leave a Response