All India NewsJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

حاجی نور احمد ( پپو) مرحوم بانی صدر مرحباً ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کی شخصیت و خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی 7004951343)

Share the post

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں سب سے اعلیٰ و ارفع خوبیوں اور صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو پیدا کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ محبت و الفت ، شفقت و رحمت ،
آپسی اتحاد و اتفاق ، یکجہتی و بھائی چارگی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کا جو جذبہ ایک انسان کے اندر سننے اور دیکھنے میں آتا ہے وہ کسی دوسری مخلوق میں نظر نہیں آتا ہے ، انھیں انسانی خوبیوں کی بناء پر ایک انسان دوسرے انسان سے ممتاز نظر آتا ہے ، معاشرے میں کچھہ لوگ صرف اپنے اور اپنے اھل و عیال اور خاندان کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہی کوشاں رہتے ہیں ، انھیں اپنے قرب و جوار میں غربت و افلاس کی چادر اوڑھے زندگی بسر کر رہے لوگوں کی کوئی فکر نہیں ہوتی ، لیکن اسی معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر کسی نام و نمود اور شہرت و مقبولیت کے خاموشی کے ساتھ اپنوں کے ساتھ دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے لئے بھی کوشاں اور متفکر رہتے ہیں ،

وہ کسی کی تعریف و مذمت کی پرواہ کئے بغیر اپنی سماجی و فلاحی کاموں میں لگے رہتے ہیں ، دھوبی گلی ھند پیڑھی رانچی کے رہنے والے حاجی نور احمد عرف پپو مرحوم ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا جن کا انتقال گزشتہ 10/ جنوری 2026 کو طویل علالت کے بعد انجمن اسلامیہ ہاسپیٹل رانچی میں ہوگیا ، ان کی وفات سے ان کے اھل و عیال اور ان کے بھائیوں اور خاندان میں جو خلاء پیدا ہوا اسے اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل و کرم سے پورا کر سکے ہیں ، بلند قد و قامت ، لہیم و شہیم جسم ، چہرے پر داڑھی ، خاموش طبیعت ، متانت و سنجیدگی سے متصف ، کرتہ پاجامہ میں ملبوس حاجی نور احمد پپو کی شخصیت بہت ہی پُرکشش تھی ، حاجی نور احمد پپو رانچی کے مشہور و معروف تاجر ، پبلک اردو لائبریری مین روڈ رانچی کے سامنے واقع ” عبد الواحد اینڈ سنز” کے مالک اور مشہور سماجی خدمات گار حاجی عبد الواحد مرحوم کے لڑکے تھے ، حاجی عبد الواحد مرحوم صاحب کی شخصیت و خدمات سے بھلا کون واقف نہیں ہوگا ، یہ وہی حاجی عبد الواحد صاحب تھے جنہوں نے رانچی میں سب سے پہلے حاجیوں کی مختلف خدمات کا آغاز کیا تھا ، جس زمانے میں لوگ پانی جہاز اور بعد میں ہوائی جہاز کے ذریعے حج میں جایا کرتے تھے تو حج کا فارم بھرنے سے لے کر حج میں جانے اور وہاں سے لوٹنے تک آج کل کی طرح اتنی سہولیات اور معلومات عام طور پر لوگوں کو نہیں ہوتی تھیں ، حج کا فارم کہاں ملتا ہے ؟

حج فارم کیسے بھرا جاتا ہے اور کہاں جمع کیا جاتا ہے ؟ اس کی کوئی جانکاری اکثر و بیشتر لوگوں کو خاص کر دیہی علاقوں کے کم پڑھے لکھے اور سیدھے سادے مسلمانوں کو نہیں ہوتی تھی ، حاجی عبد الواحد مرحوم ممبئی سے حج فارم منگواتے تھے اور لوگ ” عبد الواحد اینڈ سنز” سے حج فارم حاصل کرتے تھے ، حاجی عبد الواحد مرحوم لوگوں کا حج فارم بھرتے ، ڈرافٹ بناکر ممبئی بھیجتے اور پاسپورٹ و ٹکٹ بنواکر عازمینِ حج کے حوالے کرتے ، حاجی عبد الواحد مرحوم کے ان کاموں میں شروع سے ان کے لڑکے حاجی مختار احمد صاحب معین و مددگار ہوتے اور ہر کام میں شریک رہتے ، والد مرحوم کی وفات کے بعد عازمینِ حج کی خدمات کو بطور وراثت حاجی مختار احمد نے قائم اور باقی رکھا ، بعد میں ” رابطہ حج کمیٹی” کے ذریعے حاجی مختار احمد صاحب نے عازمینِ حج کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں ان کی ایک لمبی فہرست ہے جس کا ذکر کسی دوسرے عنوان سے تفصیل سے کیا جائے گا ، انشاء اللہ تعالیٰ ، حاجی عبد الواحد مرحوم کے چار لڑکے توحید احمد ، مختار احمد ، نور احمد ، مسعود احمد اور چار لڑکیاں ہیں ، آٹھ بھائی بہنوں میں حاجی نور احمد پپو ساتویں نمبر پر تھے ، گریجویشن تک کی تعلیم حاصل کی تھی ، جس طرح حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم ایک کامیاب کاروباری اور کہنہ مشق تاجر تھے اسی طرح ان کے چاروں لڑکوں کا شمار بھی شہر رانچی کے کامیاب ترین تاجروں میں ہوتا ہے ، حاجی نور احمد پپو نے بھی اپنے والد کی طرح اپنا کاروبار کافی حد تک بڑھا لیا تھا ، راعین اردو گرلز اسکول کے ٹھیک سامنے لیک روڈ میں انھوں نے 2011 ء میں باضابطہ طور پر” عطیہ ٹریڈرس” کے نام سے اپنا علیحدہ کاروبار شروع کر لیا تھا، انھوں نے اپنے بلند اخلاق و کردار اور معاملات کی صفائی و درستگی کی بناء پر ملک کے مختلف شہروں کے بڑے بڑے تاجروں کے دلوں میں اعتماد و یقین پیدا کر لیا تھا ، اس لئے کہ انھوں نے زندگی میں کبھی کسی کاروباری یا تاجر کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی کسی کا مال یا روپیہ ھڑپ کیا تھا ، زندگی بھر پوری ایمانداری اور دیانتداری سے کاروبار کرتے رہے ،

کیوں کہ وہ تجارت ہو کسی طرح کا لین دین یا کوئی بھی معاملہ ہو ، مکروفریب ، جھوٹ ، چالبازی ، دھوکہ بازی اور بے ایمانی کو حرام سمجھتے تھے ، انھیں خوبیوں کی بناء پر پر اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار کو خوب ترقی دی اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہے ، مین روڈ کے قریب لیک روڈ میں ہی مشہور و معروف دوا کمپنی ” ہمدرد کمپنی دہلی” کی ایجنسی لے کر اس کاروبار کو بھی وسعت دے دی ، اپنی محنت و کوشش سے ہمدرد کمپنی دہلی اور عطیہ ٹریڈرس کے نام سے جب حاجی نور احمد پپو نے اپنا علیحدہ کاروبار شروع کیا تو اللہ کے فضل و کرم سے دن بدن بڑھتا اور ترقی کرتا چلا گیا کیوں کہ جو تاجر کاروباری لین دین اور معاملات میں صاف ستھرا واقع ہوتا ہے اور مکروفریب ، دھوکہ بازی اور بے ایمانی سے سے دور رہتا ہے تو اس ایماندار اور دیانتدار تاجر سے ہر کوئی لین دین اور کاروبار کرنے میں اطمینان قلب محسوس کرتا ہے ، حاجی نور احمد پپو نے اپنے بلند اخلاق و کردار ، معاملات کی صفائی اور کاروباری ایمانداری و دیانتداری کی بناء پر ملک بڑے شہروں کے بڑے بڑے تاجروں سے بہتر کاروباری رشتہ اور تعلق قائم کر لیا تھا ، چونکہ انھوں نے کئی سالوں تک اپنے والد مرحوم اور بڑے بھائیوں سے مل کر کاروبار کرنے کی وجہ سے کاروبار اور تجارت کے نشیب و فراز اور کاروباری نفع و نقصان کے اصولوں سے اچھی طرح واقفیت اور تجربہ حاصل کر لیا تھا جس سے بعد میں اپنا علیحدہ کاروبار شروع کرنے پر بہت فائیدہ حاصل ہوا ، حاجی نور احمد پپو کے کاروباری دل و دماغ اور تجارتی میلان و رجحان سے یہ اندازہ لگانا اور سمجھنا بالکل غلط اور باطل ہوگا کہ وہ دن رات صرف روپیہ کمانے اور دولت جمع کرنے کی فکر میں لگے رہتے تھے ، ایسی بات نہیں ہے ، ایک کامیاب کاروباری اور تاجر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر غریبوں ، مسکینوں ، محتاجوں اور ضرورت مندوں کی حتی الامکان مدد کرنے کی خاطر متفکر اور بے چین و پریشان رہنے والا دل بھی تھا ، اسی مقصد کے تحت انھوں نے ” مرحباً ہیومن ویلفیئر سوسائٹی” قائم کیا ، جس کے وہ تا حیات بانی صدر بھی رہے ، ان کے اس فلاحی تنظیم سے شہر کی نوجوان اور کارکنوں کی ایک جماعت جڑی ہوئی تھی ، ہمارے معاشرے میں غریبوں ، مسکینوں ، محتاجوں ، اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، ایک وہ جو بغیر کسی شور و غوغا اور نام و نمود کے ذاتی مفاد اور خود غرضی سے اوپر اٹھ کر خاموشی کے ساتھ مدد کرتے ہیں اور ہمیشہ فلاحی کاموں میں لگے رہتے ہیں ، دوسرے وہ جو ذاتی مفاد اور خود غرضی کی خاطر کسی خاص موقع پر مدد کرتے ہیں ، کام کم کرتے ہیں اور سوشل میڈیا و پرنٹ میڈیا کے ذریعے شہرت و مقبولیت اور خودنمائی کا مظاہرہ زیادہ کرتے اور کرواتے ہیں ، حاجی نور احمد پپو ذاتی مفاد پرستی اور خود غرضی سے اوپر اٹھ کر خاموشی کے ساتھ غریبوں اور ضرورت مندوں کی ہمیشہ مدد کرنے والے انسان تھے ، وہ اکثر و بیشتر اپنے لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ جب ہم کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں تو کئے گئے رفاہی اور فلاحی کاموں کی نمائش کر کے ہم اپنی آخرت برباد کرتے ہیں اور کئے گئے فلاحی کاموں پر ملنے والی نیکیوں کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد کرتے ہیں ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نیک کام اور اعمال کی قبولیت کے لئے اخلاص نیت کی شرط لگادی ہے ، حاجی نور احمد پپو نے بہت سارے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی ہے ، ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں رمضان کٹ اور عید کے موقع پر عید کٹ سے سیکڑوں غریب اور ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے ، انھوں کبھی کسی غریب اور ضرورت مند کی مدد کرنے کی کوئی نمائش نہیں کی ، وہ خاموشی کے ساتھ لوگوں کی مدد کرنے کے قائل تھے ، انھوں نے کبھی اپنے کسی عمل سے غریبوں کی غربت کا مذاق نہیں اڑایا ، وہ شروع سے صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے اور دینی مزاج رکھتے تھے ، زکواۃ و صدقات کی ادائیگی میں بھی وہ بہت محتاط واقع ہوئے تھے ، مدارس و مساجد کی دینی خدمت بھی بہت خامشی کے ساتھ کرتے تھے ، علماء و ائمہ مساجد اور دینی اداروں اور تنظیموں کے ذمےداروں کی بہت عزت و احترام کرتے تھے ، رانچی شہر و مضافات کے علماء سے تو ان کا تعلق تھا ہی لیکن مولانا شعیب رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ان کا بہت ہی خاص اور گہرا رشتہ تھا ، حاجی نور احمد پپو کی وفات سے تقریباً پندرہ بیس دن قبل جب میں ان کو دیکھنے اور ان کی عیادت کرنے میدانتا ہاسپیٹل اربا گیا تھا اور ان سے کچھہ تسلی بخش باتیں کیں اور سورہ فاتحہ پڑھ کر پورے بدن پر دم کر دیا تو وہ بہت خوش ہوئے ،

دوسرے دن انھوں نے اپنے بھائی حاجی مختار احمد سے کہا کہ کل جو مولانا صاحب آئے تھے ان سے میری بات کراؤ ، حاجی مختار نے کہا کہ کون مولانا صاحب ؟ تو انھوں نے کہا کہ وہی کل آئے تھے اور جن کی تقریر مین روڈ کی مسجد میں ہوتی ہے ، شاید انھیں اقرأ مسجد کا نام یاد نہیں آرہا تھا ، حاجی مختار احمد صاحب موبائل فون پر بات کرایا تو مجھ سے حاجی نور احمد پپو کہنے لگے کہ مولانا کل آپ کے آنے سے مجھے بہت سکون ملا ، مجھے ایسا لگا کہ جیسے مولانا شعیب رحمانی صاحب میرے سامنے کھڑے ہیں اور مجھے تسلی دے رہے ہیں ، پھر انھوں بہت اسرار کے ساتھ فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی تقریر کا ایک چھوٹا سا ویڈیو ریکارڈنگ بھیج دیں ، ان کے بہت اسرار کرنے پر میں نے اسی دن اپنا تقریر کا ایک ویڈیو ریکارڈنگ حاجی مختار احمد صاحب کے موبائل پر بھیج دیا ، جب حاجی نور احمد پپو میدانتا ہاسپیٹل اربا سے انجمن اسلامیہ ہاسپیٹل رانچی لائے گئے تو ان کی وفات سے دو تین دن قبل جب میں نے ان سے ملاقات کی تو پھر وہی فرمائش کرنے لگے کہ اپنی تقریر کا ایک اور چھوٹا سا ویڈیو ریکارڈنگ بھیج دیجئے ، میں نے کہا انشاء اللہ تعالیٰ ، اس واقعے سے زندگی کے آخری لمحات میں ان کے دینی مزاج و مذاق کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ، 15/ اگست 2025 سے وہ مستقل بیمار رہنے لگے ، ان کے علاج و معالجے اور ان کی خدمت میں ان کے بڑے بھائی حاجی مختار احمد صاحب ہمہ وقت جس جانفشانی کے ساتھ لگے رہے وہ قابل رشک اور قابل ستائش بھی ہے اور قابل تقلید بھی ہیں ، آج کے دور میں ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے ساتھ ایسا گہرا رشتہ اور تعلق بہت کم دیکھنے اور سننے میں آتا ہے ، کہتے ہیں کہ بھائی سے بڑا دوست کوئی نہیں ہوتا ہے اور بھائی سے بڑا دشمن بھی کوئی نہیں ہوتا ، لیکن حاجی عبد الواحد صاحب مرحوم کی اولاد خصوصاً ان کے چاروں لڑکوں میں آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارگی کا بہت گہرا رشتہ قائم ہے جو یقیناً ان کے والد مرحوم کی دعاؤں کا اثر معلوم ہوتا ہے ،

Leave a Response