All India NewsBlogJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

جنابِ حاجی کلیم صاحب گول کوٹھی کلال ٹولی رانچی نرالی شخصیت کے مالک

Share the post

جنابِ حاجی کلیم صاحب گول کوٹھی کلال ٹولی رانچی نرالی شخصیت کے مالک (ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی7004951343)
رانچی ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک باکمال افراد ہو ئے ہیں اور ہوتے رہیں گے ان شاءاللہ ، جنھوں نے اپنی دعوتی محنت و کاوش سے اپنے آپ کو بھی سنوارا اور اپنے اھل و عیال ، خاندان اور اپنے دوست و احباب کو بھی سنوارا ، سنبھالا اور انھیں بھی باکمال بنایا ، اس کے علاوہ اپنے محلے ، علاقے اور معاشرے کی دینی و سماجی اور تعلیمی اصلاح کی فکر میں ہمیشہ لگے رہتے ہیں ، اس کے لئے تدبیر و اسباب کے درجے میں جو کچھ ہو سکتا ہے ہمیشہ تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، اپنی خیر خواہی اور بھلائی کے ساتھ دوسروں کی بھی دینی و دنیاوی خیر خواہی اور بھلائی چاہتے ہیں ، ایسے ہی ایک باکمال اور دوسروں کی خیر خواہی و بھلائی چاہنے والے افراد میں ایک اہم اور نمایاں نام کلال ٹولی رانچی کے رہنے والے الحاج جناب کلیم صاحب گول کوٹھی کا ہے جو ماشاءاللہ خاندانی وراثت کے طور پر دینی تعلیم اور دینی مزاج رکھنے کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے آراستہ ہونے کی بنیاد پر میڈیکل لائین سے بھی منسلک رہے ،

اپنی نوجوانی کے ایام سے ہی صدر ہاسپیٹل رانچی میں ایک لمبے عرصے تک اہم عہدے پر فائز رہے ، صدر ہاسپٹل کی دواؤں کا پورا انتظام و انصرام آپ ہی کے ہاتھوں میں ہوا کرتا تھا ، آپ صدر ہاسپیٹل رانچی میں ایک لمبے عرصے تک اپنی خدمات پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ ادا کرتے رہے ، آپ پر عام سرکاری ملازمین کی طرح اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی یا بدعنوانی کا الزام کبھی نہیں لگا ، صدر ہاسپیٹل میں آپ ایک ایماندار اور اصول پسند افسر کے طور پر جانے جاتے تھے ، اب آپ صدر ہاسپیٹل کی ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پورا وقت دعوت و تبلیغ کی محنت میں صرف کرتے رہے ، صدر ہاسپیٹل کی سرکاری ملازمت سے تو حاجی کلیم صاحب ریٹائر ہوگئے ہیں لیکن اپنی دینی و دعوتی ذمے داریوں اور جماعتی معمولات سے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود لگے رہتے ہیں

، حاجی کلیم صاحب اپنی زندگی کے ابتدائی دور سے ہی دعوت و تبلیغ کے کام سے منسلک رہنے کی بنیاد پر دین و شریعت کی عملی روایت کو حتیٰ الامکان باقی رکھے ہوئے ہیں ، واضح ہو کہ دعوت و تبلیغ کی محنت سے قبل رانچی کا دینی ماحول اور مزاج وہ نہیں تھا جو آج نظر آرہا ہے ، آج مساجد کی کثرت ہے اور اور مسجدیں عام طور پر نمازیوں سے آباد نظر آتی ہیں ، رانچی شہر میں دوسرے شہروں کے مقابلے میں دینی ماحول اور دینی مزاج نسبتاً ذیادہ ہے ، اس کی وجہ دعوت و تبلیغ کی محنت ہے اور اسی دعوت و تبلیغ کی محنت سے مدارس و مکاتب کی کثرت نظر آتی ہے جہاں سے دینی علوم اور دینی مزاج رکھنے والے اسلام کے سچے سپاہی خادمین پیدا ہوتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں گے ، ان شاءاللہ ، رانچی میں دعوت و تبلیغ کی محنت کو عام کرنے اور اس دعوت و تبلیغ کے کام کو گاؤں گاؤں تک پہنچانے میں جن چند باکمال افراد کا نام آتا ہے یا آنا چاہیے ان میں ایک بہت ہی اہم اور نمایاں نام گول کوٹھی کلال ٹولی رانچی کے رہنے والے جناب الحاج کلیم صاحب کا ہے جو اپنی نوجوانی کے دور سے آج تک پورے اخلاص و للہیت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کے کام سے عملی طور پر لگے ہوئے ہیں ، قمیص اور شلوار میں ملبوس نورانی چہرے پر گھنی داڑھی اور بارعب شخصیت کے مالک حاجی کلیم صاحب دیکھنے میں کسی مدرسہ کے ناظم یا مہتمم معلوم ہوتے ہیں ، اپنی پیرانہ سالی کے باوجود حواری مسجد میں پابندی کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد کے پانچ مقامی کاموں سے بھی پابندی کے ساتھ عمل پیرا رہتے ہیں ، ان کا یہ عمل ان کے دینی مزاج اور دعوت و تبلیغ سے ان کی گہری عملی وابستگی کو بھی ظاہر کرتا ہے ،

جناب حاجی کلیم صاحب کی دعوتی محنت و کوشش سے ہی رانچی کے امیر جماعت جناب الحاج غلام سرور صاحب ، حاجی عبدالمنان صاحب سابق مؤذن حواری مسجد رانچی اور شہر و مضافات کے دوسرے بہت سارے افراد دعوت و تبلیغ کی محنت سے جڑے ، جس کی بنیاد پر ان کی زندگی کا کایا ہی پلٹ گیا اور ان کی زندگی میں ایسا بدلاؤ اور ایسا انقلاب پیدا ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ لوگ بعد میں دوسروں کی ھدایت کا ذریعہ اور وسیلہ بن گئے ، دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑے ہوئے باکمال لوگوں کا کمال یہ ہے کہ وہ فرد یا افراد پر کئے ہوئے دینی و دنیاوی احسان کا چرچا نہیں کرتے اور نہ ہی اس کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں ، جناب حاجی کلیم صاحب کی دعوتی محنت و کوشش سے رانچی شہر و مضافات کے بہت سارے لوگوں نے دعوت و تبلیغ کی محنت سے جڑ کر اپنی زندگی کا رخ بدل ڈالا ، ان میں کچھ تو اللہ کو پیارے ہو گئے اور کچھ ابھی با قید حیات ہیں ، رانچی اور مضافات کا کوئی علاقہ اور کوئی بستی ایسی نہیں ہوگی جہاں حاجی کلیم صاحب جماعت لے کر نہ گئے ہوں ، پورا علاقہ ان کی دعوت و تبلیغ کی محنت سے اچھی طرح واقف ہے ، رانچی میں سب سے پہلے دعوت و تبلیغ کا کام ہند پیڑھی کی بڑی مسجد سے شروع ہوا اور مولانا جمیل اختر صاحب اس کے سب سے پہلے غیر متعین امیر تھے ، اس زمانے میں مرکز نظام الدین دہلی کی جانب سے کوئی مستقل امیر متعین نہیں تھا تو حضرت مولانا جمیل اختر صاحب مرحوم ہی مدرسہ دارالقرآن اور بڑی مسجد ہند پیڑھی کی امامت و خطابت کے ساتھ امیر کی ذمےداری اور دعوتی خدمات بھی انجام دے رہے تھے ، رانچی میں جب دعوت و تبلیغ کا کام باقاعدہ طور پر شروع ہوا تو مرکز نظام الدین دہلی کی جانب سے قریشی محلہ کے رہنے والے جناب ماسٹر منیر الدین صاحب مرحوم باقاعدہ امیر تبلیغی جماعت متعین کئے گئے ، جن کا ابھی گزشتہ سال ہی میں انتقال ہوا ہے ، جناب حاجی کلیم صاحب نے اس وقت کے امیر جماعت ماسٹر منیر الدین صاحب کا قدم قدم پر ساتھ دیا اور اس دور کے مشکل ترین راستوں اور آزمائشوں سے گزرتے ہوئے دعوت و تبلیغ کی محنت کو گاؤں گاؤں تک پہنچانے میں ان کا ساتھ دیا اور ہمیشہ ان کے شریک کار رہے ،

بعد میں کسی مصلحت و حکمت کے سبب جناب الحاج غلام سرور صاحب مرحوم جب مرکز نظام الدین دہلی کی جانب سے تبلیغی جماعت کے امیر طئے کئے گئے تو اس وقت بھی جناب حاجی کلیم صاحب نے امیر تبلیغی جماعت حاجی غلام سرور صاحب مرحوم کا قدم قدم پر ساتھ دیا اور ساری زندگی ان کے ساتھ سایہ کی طرح لگے رہے لیکن بعد میں چند حاشیہ برداروں کی بیجا حمایت و سرپرستی اور بے اصولی کی بنیاد پر الحاج غلام سرور صاحب مرحوم اور جناب حاجی کلیم صاحب کے رشتوں میں تھوڑی تلخی پیدا ہو گئی تھی لیکن قبل از موت وہ بھی دور ہوگئی تھی ، رانچی میں دعوت و تبلیغ کی محنت کے بالکل ابتدائی دور میں مرکز نظام الدین دہلی سے ایک جماعت جمشیدپور روانہ کی گئی تھی ، جنھیں چند دنوں کے لئے رانچی میں بھی وقت لگانا تھا ، جمشیدپور سے اس جماعت کو جناب حاجی کلیم صاحب گول کوٹھی کلال ٹولی ، ہند پیڑھی کے صغیر احمد صاحب ، منصوری صاحب ، حاجی عبد السبحان صاحب ،حاجی عثمان صاحب اور طیب صاحب جمشیدپور گئے اور بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ جماعت کو اپنے ساتھ رانچی لائے ، مرکز نظام الدین دہلی کی یہ پہلی جماعت تھی جسے حاجی کلیم صاحب اپنے مذکورہ بالا ساتھیوں کے ساتھ مل کر رانچی لائے اور رانچی میں اس جماعت کے ذریعے دعوت و تبلیغ کے کام کو متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ، جس کا بہتریں اور دور رس اور موجودہ حالات کے اعتبار سے تعجب خیز اثر یہ ہوا کہ اس کے کچھ عرصہ بعد رانچی کے ڈورنڈہ عیدگاہ میں رانچی ضلع کا ایک تبلیغی اجتماع ہوا جو بہت ہی کامیاب رہا ، اس اجتماع میں مرکز نظام الدین دہلی سے بزرگ اکابر اور بانئ تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاص ساتھی میاں جی عبد الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ پہلی مرتبہ رانچی تشریف لائے ، جنھیں دہلی سے لانے میں جناب حاجی کلیم صاحب اور ان کے ساتھیوں کا بہت اہم اور کلیدی کردار رہا تھا ، رانچی کے ڈورنڈہ عیدگاہ میں منعقد ہونے والا یہ پہلا تبلیغی اجتماع تھا جس میں حاجی کلیم صاحب اور ان کے رفقاء پیش پیش تھے ، رانچی کے ڈورنڈہ عید گاہ میں رانچی کا سب سے پہلا تاریخی تبلیغی اجتماع کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس وقت کے معاشرے میں مسلکی منافرت کی بنیاد پر آپسی دوری کا وہ ماحول نہیں تھا جو آج ہمیں نظر آتا ہے ، حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لڑکے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو رانچی اور اھل رانچی سے ایک خاص تعلق اور لگاؤ تھا ، اس کی ایک وجہ اور سبب یہ تھا کہ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو رانچی کا پپیتا بہت پسند تھا ، حاجی کلیم صاحب اپنے ساتھی صغیر ٹائر والے ہند پیڑھی ، منصوری صاحب ، حاجی عبد السبحان صاحب ، حاجی منصور صاحب اور منور حسین صاحب کے ساتھ رانچی کا پپیتا لے کر دہلی جاتے اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کرتے جسے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ بڑے شوق سے کھاتے اور دعائیں دیتے تھے ، یہ سلسلہ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات تک جاری رہا ، آج بھی اپنی پیرانہ سالی اور نقاہت کے باوجود جناب حاجی کلیم صاحب کا دعوت و تبلیغ کی محنت سے لگاؤ اور مرکز نظام الدین دہلی سے رابطہ و نسبت قابل دید بھی ہے اور قابل تعریف بھی ہے ، جناب حاجی کلیم صاحب گول کوٹھی اور ان کے ہم عصر ساتھیوں کی دعوتی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ، کسی بھی دینی دعوت و تحریک کا ابتدائی دور بہت کٹھن اور آزمائشوں سے گھرا ہوا ہوتا ہے اس دور میں کام کرنے والے اور تحریک کے کام میں جم کر محنت کرنے والوں کی حیثیت پونجی اور سرمایہ کی طرح ہوتی ہے ، جنہوں نے اس دور میں دعوت و تبلیغ کا کام کیا جس دور میں دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والوں کو مسجد سے باہر نکال دیا جاتا تھا ، ان کا بستر اٹھا کر پھینک دیا جاتا تھا ،

آج کی طرح پُرتکلف دعوتیں نہیں ہوتی تھیں ، گاؤں گاؤں تک پہنچنے کے لئے آج کی طرح پکی سڑکیں اور آمد و رفت کے موجودہ وسائل نہیں تھے ، کوئی اعزاز و اکرام نہیں ہوتا ہے ، لوگ دعوت و تبلیغ کے کام سے بھاگتے تھے ، اس دور میں صبر و استقلال کے ساتھ جم کر دعوت و تبلیغ کی محنت کو گاؤں گاؤں تک پہنچانے اور آگے بڑھانے میں حاجی کلیم صاحب جیسے لوگ دعوت و تبلیغ کے لئے سرمایہ اور پونچی کی حیثیت رکھتے ہیں ، رانچی اور دیہی علاقوں میں جناب حاجی کلیم صاحب جیسے دعوت و تبلیغ سے منسلک پرانے لوگ موجودہ دور کے کام کرنے والوں کے لئے آئیڈیل اور نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں کہ کس طرح ان لوگوں نے سب کو ساتھ لے کر اور سب کو جوڑ کر دعوت و تبلیغ کا کام کیا ، ہر طبقے کے لوگوں کو اپنے سے قریب کیا اور ہر طبقے کے لوگوں سے خود بھی قریب ہوئے ، اسکول کالج میں پڑھنے والے طلباء کو دین سے جوڑے رکھنے اور ان کے اندر دینی مزاج پیدا کرنے کی خاطر رانچی میں” اسٹوڈینٹس کی جماعت ” کا نظام بھی جناب حاجی کلیم صاحب اور ان کے قریبی ساتھیوں کی محنت و کوشش سے شروع ہوا تھا ، اسٹوڈینٹس کے بیج کام کرنے اور انھیں دعوت و تبلیغ کی محنت سے جوڑنے کے لئے ہر ہفتہ اتوار کو رنگ ساز مسجد میں اسٹوڈینٹس کا ہفت واری اجتماع ہوا کرتا تھا ، کافی تعداد میں اسکول کالج کے طلباء اس ہفت واری اجتماع میں ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرتے تھے ، اسٹوڈینٹس اپنی چھٹیوں میں تین دن ، دس دن ، چلہ اور چار مہینہ کے لئے اپنی سہولت کے اعتبار سے جماعتوں میں وقت لگاتے تھے لیکن افسوس کہ بعد میں اسٹوڈینٹس کی اس جماعت کا دروازہ غیر مناسب اسباب کی وجہ سے بند کر دیا گیا ، موجودہ بے راہ روی اور پر فتن دور میں اسٹوڈینٹس کی جماعت کا نظام اسی طرح دوبارہ ہر جگہ قائم کرنے کی ضرورت ہے ، کاش کوئی مرد قلندر اور دعوت و تبلیغ کی محنت کا شیدائی و دیوانہ ” اسٹوڈینٹس کی جماعت ” کا سلسلہ رانچی میں دوبارہ اسی طریقے سے شروع کردے جیسا کہ حاجی کلیم صاحب اور ان کے ساتھیوں نے شروع کیا تھا تو اسکول کالج میں پڑھنے والے نوجوانوں اور نئی نسل پر بڑا احسان ہوگا ،

حاجی کلیم صاحب صرف دعوت و تبلیغ سے ہی جڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ مدارس و مکاتب اور مساجد کے ائمہ و علماء کرام سے بھی بہت گہرا اور جذباتی رشتہ و تعلق رکھتے ہیں ، خاص طور پر علماء کرام کا بڑا اعزاز و اکرام کرتے ہیں اور بڑے ہی خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آتے ہیں، مہمان نوازی کا جذبہ خاندانی طور پر ان کے اندر موجود ہے جس پر وہ کثرت ہے سے عمل پیرا بھی نظر اتے ہیں ، حاجی کلیم صاحب کا جمیعت علماء ہند اور امارت شرعیہ کے اکابرین سے بھی بڑا گہرا رشتہ اور تعلق رہا ہے ، رانچی کے علماء کرام سے ان کا بڑا گہرا رشتہ اور تعلق رہا ہے ، میرے والد محترم حضرت مولانا محمد صدیق صاحب مظاہری ، حضرت مولانا قاری علیم الدین صاحب قاسمی اور حضرت مولانا شعیب صاحب رحمانی سے خصوصی تعلق اور رشتہ تھا جس کا وہ میرے سامنے وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتے رہتے ہیں ، علماء کرام و ائمہ عظام کی عزت اور ان کا اعزاز و اکرام ، مدارس و مکاتب کی مالی امداد و تعاون اور جمیعت علماء ہند و امارت شرعیہ اور ان کے اکابرین سے ربط و ضبط اور وابستگی کی وراثت کو ان کے لڑکے جناب الحاج شاہ عمیر صاحب نے اپنے والد جناب حاجی کلیم صاحب سے ان کی زندگی میں ہی ماشاءاللہ حاصل کرلیا ہے جو قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی ہے ، وہ بھی اپنے والد کی طرح علماء کرام و ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے مدرسین سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں ، ہر دینی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہتے ہیں ، ان کی انھیں خوبیوں اور اچھائیوں کی بنیاد پر انھیں مسلسل تین مرتبہ جمیعت علماء جھارکھنڈ کا خازن منتخب کیا گیا ،

ابھی حال ہی میں انھیں جمیعت علماء ہند جھارکھنڈ کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا ہے ، حاجی محمد کلیم صاحب کی طرح ان کے بیٹے جناب الحاج شاہ عمیر صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے سخاوت و فیاضی اور مہمان نوازی کی دولت سے سرفراز کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر دینی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں ، یقیناً یہ جناب حاجی کلیم صاحب کی تعلیم و تربیت کا ہی اثر ہے ، یاد رہے ، مال و دولت کی فراوانی ہو اور سخاوت و فیاضی نہ ہو تو وہ دولت بخالت کے پردے میں قارونیت کی صفت لئے ہوئے ہے ، دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ حاجی کلیم صاحب کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے اور ان کے تمام لڑکوں کو والد کی دینی و دنیاوی وراثت کا صحیح جانشیں بننے کی توفیق عطاء فرمائے ، ان کے تمام لڑکوں کو دین کا داعی بنائے ، فلاحی و اصلاحی اور سماجی کاموں اور تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہتے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ،

Leave a Response