ہندوستانی مسلمانوں کے سینوں پر ایک اور خنجر

بھارت کے ہندوتو طاقتوں کی دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر
ہر ظلم پہ چپ رہنا شرافت نہیں ہوتی
حق مانگنا توہین عدالت نہیں ہوتی

2اپریل بروز بدھ کو وقف ترمیمی بل ہندوستان کے ایوان زیریں میں پیش ہوا موجودہ مرکزی حکومت بی جے پی اس کے اتحادی پارٹیوں کی ہٹ دھڑمیوں اور اپوزیشن یو پی اے کے درمیان 12 گھنٹوں کی زوردار تیکھی بحث اور مخالفت کے باوجود گذشتہ رات تقریبا ڈیڑھ بجے وقف ترمیمی بل پر ووٹنگ کا عمل انجام پایا حمایت میں 288 اور خلاف میں 232 ہی ووٹ پر سکے،اس طرح ایوان زیریں سے یہ بل پاس ہو گیا اگر ایوان بالا سے بھی پاس ہو گیا تو پھر قانون کی شکل اختیار کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا بی جے پی نے اس بل کو پاس کرا کر مسلمانوں کو ان کی اوقات بتلا دیا یہ بل مسلمانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ کہے جانے والے پورے ہندوستانی سماج کو توڑنے کا کام کرے گا یہ بل سیدھے ائین ہند کے خلاف اور جمہوری اقدار و روایات اور سیکولرڈھانچے پر حملہ ہے یہ بل اپنے ہی ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے لایا گیا ہے یہ بل سیدھے مسلمانوں کی شناخت کو مٹانے کا کام کرے گا اور قانونی معاملوں میں مسلمانوں کو الجھا کر رکھ دے گا ۔
اج شاید ان مسلمانوں کو سمجھ میں ارہا ہوگا کہ کل تک جو سیکولر پارٹیوں جدیو ٹی ڈی پی لوجپارام ولاس اور آر ایل ڈی شیو سینا ایک ناتھ شنڈے کے چکر میں اپنی جوانی قربان کر رہے تھے ان میں سے ایک بھی پارٹی نے وقف بل کی مخالفت نہیں کی ان سبھوں نے بھارتی جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے سینوں میں خنجر گھوپنے کا کام کیا مسلمانوں نے جس نتیش کمار پر چندرا بابو نائڈو پر بھروسہ کیا تھا اعتماد کیا تھا ان دونوں نے سیدھے سیدھے مسلمانوں کو دھوکہ دے دیا ان دونوں نے مسلمانوں سے غداری کی ہے۔

تحریر: محمد قمر عالم قاسمی خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی و شہر قاضی رانچی جھارکھنڈ
+91 82719 22712
ان سے امید نہ رکھ ہے یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
ہاں! ان دونوں نے کچھ چینجز ضرور کروائے ہیں کچھ ترمیم ضرور کروائے ہیں لیکن کوئی ایسی بڑی ترمیم نہیں ہو سکی جس کی مسلمانوں کی مانگ تھی اس بل میں وقف با یوزر کو ایک طرح سے ختم کر دیا ہے یعنی اب تک وقف کی جو بھی پراپرٹی رجسٹرڈ ہے وہ وقت کی پراپرٹی مانی جائے گی اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا چھیڑ چھاڑ نہیں کیا جائے گا ساتھ میں یہ بھی ایڈ کر دیا کہ جو وقف کی 123 ہے وہ اس میں شامل نہیں ہیں جس پر تنازع چل رہا ہے جس پر کیس چل رہا ہے اس کا معاملہ الگ تھلگ رکھا جائے گا اور یہاں مسلمانوں کو بہت بڑا جھٹکا لگا ہے کیونکہ وقف کی لڑائی میں 123 جائیدادوں میں جمعیت علماء ہند کا دفتر بھی شامل ہے کئی بڑے بڑے دلی کے ادارے شامل ہیں کئی اہم مسجدیں شامل ہیں تو ان 123 جائیدادوں کو اس سے الگ کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ جو بل پیش کیا گیا ہے اس میں بات شامل ہے کہ ہندو بھی اس کے ممبر ہوں گے اس کے علاوہ یہ بات بھی شامل ہے کہ مسلمان ہی وقف بورڈ کو اپنی جائیداد وقف کر سکتا ہے دوسرا نہیں کر سکتا ہے اس کے علاوہ جو بل پیش کیا گیا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو اس کا سی او ہوگا وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے اس کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے اس کے علاوہ ڈی ایم اور جو اضافی ایک مجسٹریٹ ہوگا اس کے پاس پاور موجود رہے گااور وقف ٹریبونل کے علاوہ دوسری عدالتوں میں بھی اس کے مقدمے جائیں گے تو اس طرح یہ جو بل سراسر مسلمانوں کے خلاف۔ کانگرس کے ممبر اف پار لیامنٹ گورو گگوئی نے کرن رجو کی تقریر کاجواب دیا سیدھے سیدھے کہا کہ کرن رججو نے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ عورتوں کو اس کا ممبر بنایا جائے گا جبکہ پہلے سے عورتیں اس کا ممبر بنتی رہی ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعلی عدالتوں میں اس کا مقدمہ نہیں چلتا تھا وقف ٹریبونل کا یہ معاملہ ہوتا تھا جبکہ یہ بھی غلط ہے پہلے سے وقف ٹریبونل کے علاوہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اوقاف کی جائیداد کے مقدمے چلتے رہے ہیں گگوئی نے بھرپور ان کی تقریر کا جواب دیا اور کہا کہ اس ملک کو مسلمانوں نے ازاد کرایا لیکن اج ان سے ان کی جائیدادیں چھینی جا رہی ہے ان کے علاوہ اے آئی ایم ائی ایم کے صدر اسد الدین اویسی صاحب کانگرس کے عمران مسعود صاحب سماجوادی پارٹی کے ضیاء الرحمن برق صاحب و اقرا حسن صاحبہ، بھیم ارمی چیف چندر شیکھر ازاد صاحب وغیرہم زوردار بحث کی ۔
جمیعت علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا محمود مدنی صاحب نے بھی ایک ویڈیو جاری کر کے کہا کہ جو بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے یہ ان لیگل غیر قانون زبردستی پیش کیا گیا ہے حکومت کا یہ طرز عمل میجوریٹورین اپروچ اور غیر جمہوری وغیرہ ائینی ہے ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور سرکار اپنی طاقت کے بل پر منظور کرا رہی ہے ، ائین ہند میں جو اقلیتوں کے حقوق ہیں ان کو غصب کرنے کی کوشش ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے یہ مکمل ناقابل قبول ہے ہماری لڑائی جاری رہے گی جس رویے کے ساتھ جس ارادے کے ساتھ حکومت اس کو پیش کر رہی ہے وہ مسلمانوں کا معاملہ مسلمانوں کے خلاف ہم پہلے سے کہتے چلے ا رہے ہیں کہ جو موجودہ قانون تھا پرانا والا اس کو مزید ٹھیک کرنے کی ضرورت تھی تو اس کے بجائے اس کو مزید خراب کر دیا جا رہا ہے تو یہ ہم کو منظور نہیں ہے کسی قیمت پر منظور نہیں ایک اقلیت کی حیثیت سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مکمل ناقابل قبول ہے ہم اس کو ریجیکٹ کرتے ہیں لڑائی جاری رہے گی ۔
ادھر جیسے ہی وقف بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے والا تھا اسی دوران ال انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے پریس کلب میں اپنی پریس کانفرنس کا اغاز کیا محمد ادیب صاحب جو راجیہ سبھا کے سابق ایم پی ہیں ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب مولانا فضل الرحمن مجددی صاحب کچھ اور لوگ موجود تھے پریس کانفرنس کے ذریعے اس بل کی مخالفت کا اعلان کیا جا رہا تھا ال انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے سیدھے سیدھے اس بل کی مخالفت کی اور کہا یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہی نہیں چاہیے اس بل کا پارلیمنٹ میں پیش ہونا غلط ہے اور اگر ہو رہا ہے تو ہم اپوزیشن پارٹیوں سے مانگ کرتے ہیں کہ وہ اس بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالیں اس بل کو ریجیکٹ کریں اس کے علاوہ ال انڈیا مسلم رہنماؤں نے نتیش کمار چندرا بابو نائیڈو پر بھی تنقید کی اور کہا اب ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا ان کے مسلم نیتاؤں کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور ہم مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کو ووٹ نہ کریں۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب ہم کبھی دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
ایک انسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا ہی نہیں انکھوں کا سمندر ہونا
جو لوگ ہماری حمایت کر رہے ہیں ہم ان کا احسان مانتے ہیں اور مانیں گے اور جن لوگوں نے ہماری اج مخالفت کی ہے ہم ان کے حق میں پانی بند کرائیں گے۔
اس بل کا سیدھا مقصد اور منشا یہ ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت وقف کی بے شمار جائیدادوں پر قبضہ خود بھی جمائے رکھے اور اپنے محبوب دوستوں کی بلڈنگوں کو محفوظ کرے اور بچی ہوئی وقف کی زمینوں کو ہتھیا لے پھر اہستہ اہستہ ہندوستان میں موجود لاکھوں مسجدوں مدرسوں خانقاہوں درگاہوں اور قبرستانوں کو متنازعہ بنا کر ڈی ایم کے ذریعے اور ہڑپنے کا کام کرے حالانکہ حکومت کی ذمہ داری اور اس کا فریضہ ہے کہ شخصی املاک کی طرح پبلک جائیداد کے تحفظ کو اہمیت دیتی اور قانونی طور پر اس کی بازیابی کو اسان اور یقینی بناتی مگر اس کے برعکس وقف کی زمینوں پر ایسے بڑے بڑے ہوٹلز مالز اور کمپنیاں قائم ہو گئی ہیں کہ اس بل کے قانون بن جانے کے بعد سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہونے کے مترادف ہوگا ۔
ہم شکر گزار ہیں اپنے ان تمام دینی ملی سیاسی قائدین سیکولر مزاج صحافیوں تمام مذاہب کے برادران وطن اور ہندوستانی مسلمانوں کا جنہوں نے اس سیاہ بل کے انے کے بعد سے ہی اسے روکنے کے لیے شب و روز شام و سحر لیل و نہار انتھک محنتیں اور پوری کوششیں کی خصوصا اپوزیشن کے ان 232 ممبران پارلیمنٹ کا جو مرکزی حکومت کی تانہ شاہی کے خلاف تقریبا پوری رات ڈٹے رہے اور اس سیاہ بل کے خلاف ووٹ کرتے رہے بھلے ہی موجودہ مرکزی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی تعداد زیادہ تھی مگر تاریخ یاد رکھے گا کہ جب بھارت کی حکومت دیر رات گئے تک اپنے ہی ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے نئے سیاہ قانون وقف ترمیمی بل لا رہی تھی تب اسی ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کے 232 ممبرا پارلیمنٹ جن میں ہندو مسلم سکھ عیسائی دلت سب متحد ہو کر سرکار کی مخالفت کر رہے تھے
