نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی اور سیرت طیبہ انجمنوں ، پنچایتوں ، مساجد و مدارس کے ذمہ داران کے لیے مشعل راہ


تحریر : مفتی محمد قمر عالم قاسمی خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی
و شہر قاضی رانچی جھارکھنڈ
مدارس و مساجد کسی بھی مسلم سماج اور معاشرے کی جان اور روح سمجھے جاتے ہیں مدارس اسلامیہ وہ مقدس ادارے ہیں جہاں قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمان و اخلاق کی آبیاری کی جاتی ہے اسی طرح مساجد امت مسلمہ کی وحدت اور اخوت کی علامت سمجھی جاتی ہیں ،مساجد جہاں خانۂ خدا ہے، وہیں مدارس خانۂ رسول ہے ، مدارس ہی کی بدولت آج بھی امت مسلمہ میں دینی حمیت و غیرت باقی ہے وہیں مساجد وحدت امت اور اخوت اسلامی کی علامت ہے، مدارس دین کی حفاظت کے قلعے اور ملت کے روحانی زندگی کے ضامن ہیں، مساجد ایمان کی حرارت اور تقوی کی کیفیت پیدا کرنے کا مرکز ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ محض ماضی کی ایک تاریخ نہیں بلکہ آج بھی ہر دور کے رہنماؤں اور ذمہ داران کے لیے رہنمائی کا روشن چراغ ہے۔ خاص طور پر وہ حضرات جنہیں اللہ تعالیٰ نے دینی اداروں، مدارس، مساجد، انجمنوں اور پنچایتوں کی خدمت اور قیادت کی ذمہ داری عطا کی ہے، ان کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ میں عملی سبق اور لازوال رہنمائی موجود ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں قیادت و رہبری کا وہ عملی نمونہ پیش فرمایا جو عدل و انصاف، شفافیت، مشاورت، دیانت داری اور خدمتِ خلق پر قائم تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ فیصلوں میں انصاف کو ترجیح دی، معاملات میں نرمی اور حکمت اختیار کی اور امت کے ہر فرد کو ایک خاندان کی طرح سمجھا۔ یہی اصول آج دینی اداروں کے ذمہ داران کے لیے لازم ہیں تاکہ وہ امت کو صحیح سمت میں لے جا سکیں۔
مدارس و مساجد اور دینی تنظیموں کے منتظمین اگر اپنی ذمہ داریوں کو سیرتِ طیبہ کے مطابق انجام دیں تو نہ صرف ادارے ترقی کریں گے بلکہ قوم و ملت میں اتحاد، اخوت اور دین سے وابستگی بھی بڑھے گی۔ حضور ﷺ نے تعلیم کو سب سے بڑی دولت قرار دیا اور اپنے صحابہ کرام کو علم و عمل دونوں کا پیکر بنایا۔ یہی سبق آج ہمارے مدارس کے لیے ہے کہ وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔
اسی طرح مساجد و انجمنوں کے ذمہ داران کے لیے بھی حضور ﷺ کا طرزِ قیادت مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ نے امت کو ایک جسم کی مانند قرار دیا، جس کے کسی حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی جذبہ اگر اداروں کے ذمہ داران کے دلوں میں پیدا ہو جائے تو امت میں اتحاد، ہم آہنگی اور خدمتِ دین کا جذبہ مزید پروان چڑھے گا۔
آخر میں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ دینی اداروں کے ذمہ داران صرف عہدے دار نہیں بلکہ امانت دار ہیں، اور یہ امانت اس وقت بہترین طریقے سے ادا ہو سکتی ہے جب ان کی رہنمائی کا سرچشمہ سیرتِ رسول ﷺ ہو۔
اج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ مساجد اپنی تعمیر کے اعتبار سے نہایت حسین و جمیل اور خوبصورت ہیں جدید فن تعمیر اور بہترین نقش و نگار سے مزین ہیں ۔ اسی طرح مدارس کے در و دیوار اور عمارتیں بھی بڑی عمدگی کے ساتھ تعمیر کی جاتی ہیں ظاہری چمک دمک دیکھنے والوں کی آنکھوں کو پھلی لگتی ہے لیکن ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انہی مساجد و مدارس کے اندر بنائے گئے استنجا خانے اور بیت الخلاء اکتر غفلت و لاپرواہی کی نظر ہو جاتے ہیں۔
مدارس و مساجد کے ذمہ داران سے ایک اہم گزارش
بلند و بالا مینارے، جاذب نظر گنبد، دلکش عمارتیں، ٹائلس و ماربلس سے مزین صحن، برانڈڈ نلوں سے لبریز وضو خانے حسین و جمیل ہرے بھرے رنگ برنگے پھولوں اور پودوں سے سجے دھجے پھلواریوں کیاریوں کے ساتھ ساتھ وہاں قوم و ملت کے نونہالوں، عبادت و ریاضت کے لیے آنے والے بندۂ خدا کی قضاء حاجت و دیگر ضروریات کے لئے بھی بہتر سے بہتر نظم و نسق ہو ، استنجاء خانے، بیت الخلا کی صاف صفائی پر بھی خاصی توجہ کی ضرورت ہے یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ مسجد و مدرسہ کی اصل رونق صرف خوبصورت عمارت اور عمدہ ڈیزائن نہیں بلکہ تعلیم و تربیت اور پاکیزگی، صاف صفائی ہے اگر بیت الخلا اور استنجا خانے گندے ہوں تو عمارت کے ساری خوبصورتی ماند پر جاتی ہے اور نمازی و طلبہ اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس لیے کمیٹیوں کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اس پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دیں۔ آج ہندوستان خصوصا بہار، جھارکھنڈ اور بنگال (چونکہ میرا سفر انہیں صوبوں میں زیادہ تر ہوتا ہے) کے اکثر مدارس ایسے ہیں جہاں مہمان رسول کے رہائشی کمرے انتہائی گندے خستہ حال ہوتے ہیں استنجا خانے اور بیت الخلا میں تعفن اور گندگی ایسی کہ اللہ کی پناہ یہ کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے گھر اور دینی تعلیم کے مراکز گندگی اور بدبو سے بھرے ہوں مسجد اور مدرسے وہ مقامات ہیں جہاں پاکیزگی اور صفائی کا انتظام سب سے زیادہ ہونا چاہیے جبکہ حال یہ ہے کہ بیٹھنے کے بعد جب تک ناک پہ انگلی یا رومال نہ ڈالو حاجت پوری کرنی مشکل یہ استنجا خانے بعض جگہوں پر اتنے غلیظ بدبودار ہوتے ہیں کہ وہاں قدم رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی،رحمۃللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکی و صفائی کی خاصی تاکید فرمائی ہے، ایسی ہی صفائی وپاکی کے حاصل کرنے پر قرآن کریم نے اہل قباء کی تعریف و توصیف فرمائی ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “الطهور شطر الايمان” کہ پاکی و صفائی ایمان کا آدھا حصہ ہے تقریبا یہی حال ان ریاستوں کے مساجد کے استنجاء خانے اور بیت الخلاء کے ہیں۔ بیت الخلا کی روزانہ کم از کم دو بار صفائی کی جائے اور جراثیم کش ادویات کا استعمال کیا جائے ،ایگزسٹ فین یا وینٹیلیشن لازمی ہو ساتھ ہی ایر فریشر یا خوشبو کا استعمال کیا جائے،مستقل صفائی کرنے والا خادم مقرر کیا جائے اور اس کی نگرانی کی جائے،۔ اللہ ہمیں اصلاح کی اور عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین ۔
