مشرقی ہند کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ حسینیہ رانچی میں پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا جشن یومِ آزادی


ہندوستان کی سرزمین کو نچوڑا جائے تو اس سے علماء کرام کے خون کی خوشبو آئے گی :مولانا محمد
15 اگست کو مدرسہ حسینیہ میں 79ویں یومِ آزادی کا جشن شایانِ شان طریقے سے منایا گیا۔تقریب کا آغازتلاوتِ کلامِ پاک اورنعتِ رسولِ مقبول سے ہوا۔ اس کے بعد بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ پرچم کشائی کی رسم انجام دی گئی، جس کے دوران قومی ترانہ پیش کیا اور تمام شرکاء نے احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر سلامی دی۔پرچم کشائی کے بعدطلباءنے مختلف ملی نغمے اور نظمیں پیش کیں، جن میں حب الوطنی کا جذبہ نمایاں تھا۔ اس کے علاوہ طلباء نےاردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں تقاریر پیش کر کے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ تقاریر میں آزادی کی اہمیت، مجاہدینِ آزادی کی قربانیاں، اور موجودہ دور میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی۔ طلباء واساتذہ نے آزادی کے لیے ہندوستانیوں کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وطن عزیزکے لیےباشندگان وطن خصوصاً مسلمانوں اور بالخصوص اکابرین علماء کرام کی قربانیوںکی تاریخ کو مختصر وقت میں بیان نہیں کیا جاسکتا حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور ان کے شاگرد وخادم خاص حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مالٹا کی قید کے دوران شدید تکالیف، بیماری اور اذیتیں برداشت کرنے کے باوجود، کبھی انگریزوں سے معافی نہیں مانگی اور نہ ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے۔

مدرسے کے مہتمم مولانا محمدصاحب نے تقریباً تین سو سالہ تاریخ کا خلاصہ پیش کیا اور طلبہ کو آزادی کی قدر کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور ملک و ملت کی خدمت کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمیں قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور اس بات کا عہد لینے کا موقع دیتا ہے کہ ہم ایک اچھے شہری اور سچے مسلمان بن کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ خود بھی تاریخ کا مطالعہ کریںاور نئی نسل کو آزادی کی حقیقی تاریخ سے روشناس کرائیں “آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ تقریب کا اختتام کیا گیا ‘شرکاء کی تواضع کی گئی اور طلباء میںبھی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔ مہتمم صاحب نے آنے والےتمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر اساتذہ ، طلبہ اور ان کے گارجین حضرات نیزشہراور اطراف کے معزز مہمان شریک رہے۔
