جشن ازادی کے موقع پر مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی میں مفتی قمر عالم قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب


اساتذہ طلباء اور مہمانان کرام نے داد تحسین پیش کی
مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی جھارکھنڈ کسی تعارف کا محتاج نہیں اس کے دینی تعلیمی و تربیتی خدمات صوبہ جھارکھنڈ اور بہار ہی نہیں بلکہ ملک و بیرون ملک بھی یہاں کے حفاظ ، قراء اور درجات عربی وفارسی سے تعلیم حاصل کردہ اور فیض یافتہ طلبہ دینی خدمات ( امامت و خطابت، درس و تدریس، سیادت و قیادت اور سماجی و ملی کاموں) میں مشغول ہیں ہر سال کی طرح اس سال بھی جشن آزادی کے موقع پر ایک حسین و خوبصورت پروگرام پیش کیا گیا جس میں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو بڑے ہی درد بھرے انداز میں مدرسہ حسینیہ کے درجہ عربی میں پڑھنے والے دو ہونہار طالب علم اور ایک موقر استاد مفسر قرآن ، خطیب بے باک حضرت مولانا مفتی محمد قمر عالم صاحب قاسمی استاذ و خادم افتاء مدرسہ حسنیہ کڈرو رانچی نے ملک ہندوستان کی تقریباً ساڑھے تین سو سالہ غلامی کی داستان اور اس درمیان انگریزوں کی جانب سے ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں اور علماء دین پر ہونے والے ظلم و بربریت کے داستان و واقعات کو تاریخ کی روشنی میں مدلل و مفصل بیان کیا کہ اللہ تعالی اگر سرزمین ہند کو اس بات کی اجازت دے کہ وہ شہیدوں کے خون کو اجاگر کرے تو ہندوستان کا کوئی علاقہ یا خطہ ایسا نہیں ہوگا جہاں کی مٹی ان کے خون سے رنگین نظر نہ آئے نیز آگے انہوں نے مالٹا کی جیل میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کے اوپر ہونے والے مختلف مظالم اور سزاؤں میں سے ایک کا

تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مالٹا کی جیل میں انگریز حضرت کو آگ کے انگاروں پر لٹا دیا کرتا تھا جس کے نتیجے میں حضرت کی پیٹھ پر زخم کے بڑے بڑے گڈھے ہو گئے تھے سن 1920 عیسوی میں حضرت کو جیل سے رہائی ملی چند ہی مہینوں کے بعد حضرت دنیا سے رخصت ہو گئے انتقال کے بعد غسل دینے والوں نے حضرت کی پیٹھ پر زخم کے گڈھے دیکھ کر گھر والوں سے معلوم کیا تو اہل خانہ نے لاعلمی ظاہر کی چونکہ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے جیل سے باہر آنے کے بعد اپنی زندگی میں کسی کو یہ نہیں بتلایا بلکہ ان کے انتقال کے بعد آپ کے ہر دل عزیز اور وفادار شاگرد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے غسل دینے والوں کے پوچھنے پر بتلایا کہ چونکہ یہ میرے اور حضرت کے درمیان ایک امانت تھی جسے حضرت نے زندگی میں بتانے سے منع فرمایا تھا لیکن اب وہ دنیا میں نہیں ہیں راوی کہتا ہے کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے فرمایا کہ یہ وہ زخم کے گڈھے ہیں جو حضرت کو انگاروں پر لٹانے کے بعد انگریز ان کو سزائیں دیا کرتا تھا مگر حضرت نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ میں روحانی بیٹا ہوں حضرت بلال حبشی حضرت خبیب حضرت سمیہ رضی اللہ عنہم کا ، حضرت امام احمد ابن حنبل حضرت مجدد الف ثانی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہم اللہ کا یہ میری جان تو لے سکتے ہیں مگر میرے ایمان کا سودا نہیں کر سکتے۔
نوٹ: یہ تفصیلات میں نے مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی جھارکھنڈ میں منعقد جشن آزادی کی تقریب کے موقع پر والد گرامی کی پیش کردہ تقریر سے اخذ کی ہے
